بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حماد رضا خان، نعمانی میاں، علامہ محمد

  حماد رضا خان عرف نعمانی میاں،نبیرۂ اعلیٰ حضرت، علامہ محمد   نام:               محمدحماد رضا خان عرف:            نعمانی میاں القاب:           زینۃ الفقہا، رئیس المتکلمین والدِ ماجد:                  حجۃ الاسلام حضرت علامہ محمد حامد رضا خاں قادری بریلوی﷫ جدِّ امجد:          اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری بریلوی﷫ سلسلۂ نسب: علامہ محمدحماد رضا خان نعمانی میاں بن حجۃ الاسلام علامہ محمد حامد رضا خاں بریلوی بن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی بن۔۔۔

مزید

حضرت شیث علیہ السلام

حضرت شیث علیہ السلام حضرت شیث علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے ہم شبیہ تھے۔اللہ تعالیٰ نےحضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے "ھابیل"جن کو "قابیل"نے قتل کردیاتھا ،کے بدلے میں شیث علیہ السلام عطافرمایا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کونبوت بھی عطا فرمائی تھی۔حضرت آدم علیہ السلام کے دو دو بچے ہر حمل سے ہوئے سوائے حضرت شیث علیہ السلام کے ۔ "وضعت شیئا وحدہ کرامۃ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم فان نورہ انتقل من آدم الی شیث علیہ السلام"(مواھب اللدنیہ، انوار محمدیہ ص۱۵) حضرت حوا نے حضرت شیث کو صرف اکیلا ہی جنا ہے ان کے ساتھ جڑواں کوئی بچی نہیں تھی یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کے لیے مالک  الملک نے ایک بچے سے ہی حاملہ کیا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نور آدم علیہ السلام سے منتقل ہوکر حضرت شیث علیہ السلام کے پاس آگیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں وصیت کی کہ یہ نورِ مبارک، پاک عو۔۔۔

مزید

حضرت ملک جلندر

حضرت ملک جلندر۔۔۔

مزید

حضرت ابراہیم سڑہبن

حضرت ابراہیم سڑہبن رحمۃ اللہ علیہ           حضرت ابراہیم سڑہبن انتہائی متقی، پرہیز گار اور حلیم الطبع تھے۔ اس لئے آپ کی عرفیت" سڑھبن" ہوئی کیوں کہ پشتو زبان میں سڑھبن کے معنی "حلیم الطبع" کے ہیں۔ آپ کے بڑے بیٹے حضرت شرجنوں المعروف بہ شرف الدین کے بیٹے  بھڑیچ ہوئے۔آپ ہی قبیلہ بھڑیچ کے مورث اعلیٰ ہوئے۔ قبیلہ بھڑیچ قندھار کے پشیتن اور شورادک کے علاقہ میں سکونت پزیر ہوا اور اپنی شجاعت و جواں مردی اور عزم و استقلال سے قندھار پر برسر اقتدار ہو گیا۔ قندھار  اور افغانستان پر سینکڑوں سال قبیلہ بھڑیچ کی حکمرانی رہی۔۔۔۔

مزید

سعید اللہ خان قندھاری، شجاعت جنگ، محمد

 سعید اللہ خان قندھاری، شجاعت جنگ، محمد رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:سعید اللہ خان ۔لقب:شجاعت جنگ۔ سلسلہ نسب: جناب محمد سعید اللہ خان بن عبدالرحمن بن یوسف خان قندھاری بن دولت خان  بن داؤد خان۔الیٰ آخرہ۔(علیہم الرحمہ) سیرت وخصائص: عالی جاہ شجاعت جنگ بہادر جناب مستغنی عن الالقاب شاہ سعید اللہ خاں صاحب قندھاری  علیہ الرحمہ ۔آپ قبیلہ "بڑھیچ"کے معززسردار وپیشواتھے۔آپ سلطان محمد نادرشاہ کے ہمراہ دہلی آئے اور"منصب شش ہزاری" پر فائز ہوئے۔نادر شاہ تو واپس چلاگیا لیکن حضرت سعید اللہ خان نے ہندوستان میں ہی سکونت اختیار کرلی۔بادشاہ نے آپ کولاہور کا"شیش محل"بطورِ جاگیر عطاء کیا۔اس کے علاوہ  آپ  کو سلطان والا شان کی طرف  سے بہت سے مواضعات، جوزیرینِ ریاست رامپور میں معافی علی الدوام پر ملے تھے۔بعد میں انگریز حکومت نے رامپور میں ضم کردئیے۔ یہ مواضعات  اب ان۔۔۔

مزید

سعادت یارخان، جناب محمد

حضرت جناب محمد سعادت یارخان رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:سعادت یارخان ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: جناب سعادت یارخان بن جناب محمد سعید اللہ خان بن عبدالرحمن بن یوسف خان قندھاری بن دولت خان  بن داؤد خان۔الیٰ آخرہ۔(علیہم الرحمہ) سیرت وخصائص: آپ جناب شجاعت جنگ محمد سعید اللہ خان کے سعادت مند فرزندِ ارجمند تھے۔آپ محمد شاہ بادشاہ کے وزیرِ خزانہ تھے۔آپ کو بادشاہ ہند محمد شاہ نے کچھ مواضعات رامپور میں عطا کیے۔1857ء کی شکست بعد انگریزوں نے اس جاگیر کو ضبط کرلیا اور ریاست رامپور میں ضم کردیا۔علاقہ کٹھیر جو بعد کو "رو ہیلکھنڈ" مشہور ہوا سلطنت دہلی کی گرفت اس پر ڈھیلی پڑگئی تو سلطنت دہلی نے رو ہیلکھنڈ کے باغیوں کے خلاف تادیبی کا روائی کا روائی کیلیے فوج کشی کا ارادہ کیا اور اس مہم کو سر کرنے کیلیے قرعہ فال "سعادت یار خاں" کےنام نکلا۔سعادت یار خاں نے جبلی شجاعت اور جنگی مہارت کےخوب جوہر دکھائ۔۔۔

مزید

کاظم علی خاں،مولانا حافظ محمد

کاظم علی خاں،مولانا حافظ محمد  نام ونسب:اسمِ گرامی:کاظم علی خان۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:مولانا حافظ کاظم علی خان مولانا محمد اعظم خان بن جناب سعادت یارخان بن جناب محمد سعید اللہ خان بن عبدالرحمن بن یوسف خان قندھاری بن دولت خان  بن داؤد خان۔الیٰ آخرہ۔(علیہم الرحمہ) سیرت وخصائص:سلطنت مغلیہ کا زوال شروع ہوا ملکی نظام درہم برہم ہوگیا جس کی وجہ سے  حضرت حافظ کاظم علی خاں سلطنت اودھ سے وابستہ ہوگئے۔ فرض منصبی کی ادائیگی کی اور عظیم کارہائے نمایاں انجام دئیے جس کے صلہ میں آپ کو سلطنت اودھ سے "شہربدایوں" کا نظم و نسق سپرد کیا گیا۔آپ "بدایوں"کےتحصیلدارتھے۔(اس وقت تحصیلدار کاعہدہ آج کل کے کمشنرکےبرابر ہوتاتھا)دو سوسواروں کی بٹالین آپ کی خدمت میں رہتی تھی۔آٹھ گاؤں آپ کو ملے تھے جس میں سے دو گاؤں آپ نے اپنے متعلقین کو عطا کردئیے تھے۔ بقیہ چھ گاؤں آپ کی جاگیر میں رہے۔ آپ کی جاگیر مندرجہ ۔۔۔

مزید

حضرت محدث الحرمین شیخ عمر المحرسی

محدث الحرمین شیخ عمر المحرسی رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: آپ کااسمِ گرامی عمر بن حمدان محرسی تیونسی تھا۔ اور آپ "محدث الحرمین " کے لقب سے مشہور ہوئے۔ تاریخ ولادت:  محدث الحرمین شیخ عمر المحرسی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 1291 ھ میں ہوئی۔ تحصیلِ علم : آپ علیہ الرحمہ نے مکہ مکرمہ کے جلیل القدر علماء کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور کثیر علوم وفنون پر دسترس حاصل کی۔ سیرت وخصائص:  محدث الحرمین شیخ عمر المحرسی رحمۃ اللہ علیہ حرمین شریفین کے جلیل القدر علماء میں سے تھے۔ آپ علیہ الرحمہ دین کی خدمت کے سلسلے میں کامل جدجہد کی اور اشاعت اہلسنت و دفاعِ اہلسنت میں بھر پور کردار ادا کیا۔تقوی، زہد، سخاوت وشجاعت، صبر وتحمل کے جامع شخص تھے۔آپ کے حلقۂ درس سے کثیر لوگ مستفیض ہوئے۔ آپ کے درس میں عوام تو عوام خواص بھی شامل ہوکر علمی درس کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے۔ آپ کا درس فقہ،تفسیر،حدیث اور دیگر۔۔۔

مزید

حضرت قاضی مکہ شیخ عبد اللہ بن ابو الخیر مِرداد

قاضی مکہ شیخ عبد اللہ بن ابو الخیر مِرداد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب: آپ کا اسمِ گرامی  عبداللہ بن ابو الخیر احمد بن عبد اللہ بن محمدمردادہے۔ تاریخ ومقامِ ولادت:  شیخ عبد اللہ مرداد رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 1285 ھ کو مکہ میں ہوئی۔ تحصیلِ علم: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد ماجد شیخ احمد ابو الخیر رحمۃ اللہ علیہ نیز مدرسہ صولتیہ کے بانی مولانا رحمت اللہ کیرانوی علیہ الرحمہ ودیگر علماء مکہ سے علومِ اسلامیہ پڑھے۔ سیرت وخصائص:  فضیلۃ العلامہ ، الشیخ عبد اللہ بن ابو الخیر رحمۃ اللہ علیہما مکہ مکرمہ کے ان چند علماء کرام میں سے تھےجنہیں مذاہبِ اربعہ کے مطابق حج کی ادائیگی کے ارکان وواجبات اور سنن مستحضر تھے۔موسمِ حج کے دوران مسجد الحرام میں درس وتدریس کا سلسلہ عام طور پر روک دیا جاتا تھا تاکہ طلباء ومدرسین اور حجاج اطمنان سے عبادت کرسکیں، لیکن شیخ عبد اللہ تنگ جگہ اورازد۔۔۔

مزید

حضرت شیخ صالح بن صدیق کمال (مفتی حنفیہ)

شیخ صالح بن صدیق کمال  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسمِ گرامی: آپ علیہ الرحمہ کا اسمِ گرامی شیخ محمد صالح کمال بن صدیق کمال  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھا۔ آپ صالح کمال کے نام سے مشہور ہوئے۔ تاریخ ومقامِ ولادت: آپ علیہ الرحمہ ماہ ربیع لاول 1263 ھ/1847 ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے پائی نیز ان کی نگرانی میں متعدد کتب کے متون حفظ کئے اور فقہ پڑھی ، قرآن مجید حفظ کیا ، تجوید سیکھی،مزید حصولِ علم کا سلسلہ جاری رکھا اور مختلف علماء سے دیگر علوم وفنون میں دسترس حاصل کی۔ سیرت وخصائص: شیخ صالح بن صدیق کمال  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد الحرام میں امام و خطیب ومدرس، قاضی جدہ ومکہ مکرمہ، مفتی احناف وشیخ العلماء کے مناصبِ رفیعہ پر تعینات رہے۔اپنے دور کے متعددگورنر مکہ مکرمہ کے مشیر رہے، اور وسیع وعریض اسلامی سلطنت کے عثمانی خلیفہ کی طرف سے سف۔۔۔

مزید