حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول ﷺ تھے۔۔۔۔
مزید
حضرت شاہ عبد القادر دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی:شاہ عبدالقادر دہلوی۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت شاہ عبدالقادر بن شاہ ولی اللہ بن عبدالرحیم بن وجیہ الدین شہید بن معظم بن منصور بن احمد بن محمود بن قوام الدین۔الی اخرہ۔آپ کاسلسلہ نسب حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تک پہنچتاہے۔آپ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے تیسرے صاحبزادے ہیں۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 1166ھ،مطابق 1753ء کو"دہلی" میں ہوئی۔ تحصیل علم: آپ کےوالد حضرت شاہ ولی اللہ کاوصال ان کےمیں ہی ہوگیاتھا،آپ کی تعلیم وتربیت برادر اکبر حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کےزیر نگرانی ہوئی۔تمام علوم کی تحصیل وتکمیل حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ سے فرمائی۔ بیعت وخلافت: حضرت شاہ عبدالقادر نےشاہ عبدالعدل سےسلوک کی منازل طےکیں،اوران کےدست پر بیعت ہوئے۔ سیرت وخصائص: عالم ،عامل،فقیہ فاضل، ز۔۔۔
مزید
حضرت مولانا حامد علی فاروقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ضلع پر تاب گڈھ وطن،وہیں پیدا ہوئے،مدرسہ منظر اسلام بریلی کے اساتذہ مولانا نور الحسین رام پوری،مولانا رحم الٰہی منگلوری سے درسیات پڑھ کر ۱۳۴۰ھ میں سند تکمیل حاصل کی،اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا قدس سرہٗ سے دورِ طالب علمی ہی میں مرید ہوگئے تھے،فراغت کے بعد تجارت کو شغلہ بنایا، کمبل کے کاروبار کے سلسلہ میں ۱۹۲۲ھ میں رائے پور گئے،گاؤں گاؤں پھر تجارت کے ساتھ تبلیغی فریضہ انجام دینے لگے،اسی سنہ میں بغاوت کے جرم میں گرفتار کرلئے گئے،دوسال بعد رہائی پائی،رائے پور میں تعلیم کے فروغ اور اشاعت مذہب اہل سنت کے لیے کرایہ کے مکان میں مسلم یتیم خانہ قائم کیا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی ورکنگ کمیتی کے ممبر تھے،نہر وشاستری کے ساتھ جیل کی رفاقت رہی،سیاسی بصیرت بہت بہتر تھی،بیعت بھی لیتے تھے،۲۶؍محرم ۱۳۸۸ھ کی صبح کو چار بجے وفات ہوئی،مرقد رائےپور میں ہے۔۔۔۔
مزید
حضرت مولانا صوفی حامد علی (لیہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولانا صوفی حامد علی قدس سرہ اپنے دور کے بہترین مدرسین میں شمار ہوتے تھے ، موجودہ دور میں تقوی وپر ہیز گار ی کے اعتبار سے سلف صالحین کا نمونہ تھے۔آپ کے ابتدائی حالات معلوم نہ ہو سکے ، راقم نے سیال شریف میں آپ سے نحو میر پڑھنے کی سعادت حاصل کی تھی ، ان جیسے انہماک سے پڑھاتے ہوئے بہت کم اساتذہ کو دیکھا گیا ہے۔ حضرت مولانا صوفی حامد علی قدس سرہ سلسلہ ٔ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت پیر بار و دام ظلہ العالی سے بیعت اور مستفیض تھے ۔ طویل عرصہ تک سیال شریف میں پڑھاتے رہے پھر غالباً 61ء یا 1962ء میں ضلع لیہ میں جامعہ نعیمیہ رضویہ کی بنیاد رکھی ، تدریس کے لئے بہترین مدرسین کا انتظام کیا، گردو نوح کے متلا شیان علم دین جوق در جوق آنے لگے اور تھوڑے ہی عرصہ میں مدرسہ ایک مثالی درس گاہ بن گیا۔ 19رجب، 16 جولائی ( 1396ھ/1976ء) بروز۔۔۔
مزید
حضرت وھیو درویش علیہ الرحمۃ ف۔۔۔۱۰۰۱ ھ آپ سند ھ کے چا نھیہ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ،عا لم رو حا نیا ت میں بارگاہ نبوت کے حا ضر باش لو گو ں میں سے تھے،حضوراکرم ﷺ کی پیروی اور اتباع میں بلند مقام پر فائزتھے ،حب نبوی کا یہ عالم کہ سرکار والا تبار کا نام نامی سنتے ہی آپ کی حا لت غیر ہو جا یا کرتی تھی ،اگر آپ کو معلوم ہو جا تا کہ کہیں سنت نبوی کے خلاف کچھ ہو رہا ہے تو جب تک اس کی اصلاح نہ کر لیتےچین سے نہ بیٹھے تھے،اسلام کی سر بلندی کے لئے ہمہ وقت کمر کسے رہتے تھے،اعلاء کلمتہ الحق میں کسی کو خاطر میں نہ لاتے آپ کی زندگی میں وقت کے ح۔۔۔
مزید
حضرت یوسف سیدمھد وی غا زی علیہ الرحمۃ آپ کا اسم گرامی یوسف ،لقب غازی ،مھدوی یا مو دی ہے،آپ سادات کرام سے متعلق ہیں لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ سا دات کے کس قبیلہ سے ہیں؟آپ اہل اللہ، صا حب کرامت بزرگ تھے،آپ کی وفات کے بعد بھی کئی کرامات دیکھنے میں آئی ہیں چنا نچہ یہ آپ کی مشہور کرامت ہے کہ جب پاکستان اور انڈیاکے مابین ۱۹۶۵ھ والی جنگ میں حکو مت پاکستان نے بلیک آؤٹ کا حکم جاری کیا تھا پورے ملک میں بلیک آؤٹ تھا لیکن حضرت سید یوسف شاہ غازی علیہ الر حمۃکے سرہانے والی بتی جلتی ہو ئی دکھائی دیتی تھی،حکومت کے عاملین نے آکر آپ کے مجاوروں کو سخت سست کہنا شروع کیا تو مجاوروں نے کہابخدا ہم نےتمام بتیاں بند کر دیں تھیں اور آپ خود بھی جا کر ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ تمام بتیوں کے سو ئچ بند ۔۔۔
مزید
حضرت یعقوب پلیجوعلیہ الرحمۃ درویش یعقوب پلیجو صا حب کر امت بزرگ تھے۔ میرزا شاہ حسن ارغون(از ۹۲۶ ھ تا ۹۶۲ ھ) کے عہد میں ہو ئے ہیں،مزار شریف کے با رے میں کوئی قطعی بات تو معلوم نہیں لیکن تحفتہ الکرام میں آپ کے احوال کے تحت لکھا ہےکہ آپ پر گنہ ستیار کے مقام نارہ کے رہنے والے تھے اس اندازہ ہو تا ہے کہ آپ کس علاقہ میں مد فون ہیں۔ (پلیجو سندھ کا ایک قبیلہ ہے ،تحفتہ الکرام فا رسی ص ۱۷۹ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید