جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا قیس ابن  صعصعہ رضی اللہ عنہ

  ۔ابوعمرنے کہاہے کہ میں ان کا نسب نہیں جانتاان کی حدیث ابن لہیعہ نے حبان بن واسع سے انھوں نے اپنے والد واسع سےانھوں نے اپنے والد واسع بن حبان سے انھوں نے قیس بن صعصعہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میں کتنے دنوں میں قرآن ختم کروں الخ۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا قیس ابن  شماس رضی اللہ عنہ

   عسکری نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ جراح بن منہال سے انھوں نے ابن عطأ ابن سلیم سے انھوں نےاپنے والد سے انھوں نے ثابت بن قیس بن شماس سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں مسجد میں گیانبی صلی اللہ علیہ وسلم ا س وقت نماز میں تھےجب آپ نے سلام پھیراتومیری طرف متوجہ ہوئے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھاجب میں نماز سے فارغ ہواتوآپ نے پوچھاکہ کیاتم نے ہمارے ساتھ نمازپڑھی تھی میں نے عرض کیاپڑھی تو تھی آپ نے فرمایاپھریہ اب کیسی نماز پڑھ رہے ہومیں نے عرض کیاکہ یہ فجر کی سنتیں ہیں میں نےنہیں پڑھی تھیں پھرآپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ ابن حریج نے عطأ بن ابی رباح سے انھوں نے قیس بن سہل سے اس کو روایت کیاہے اوریہی صحیح ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا قیس ابن  سلمہ رضی اللہ عنہ

   بن یزید بن مسجعہ بن مجمع بن مالک بن کعب بن سعد بن عوف بن حریم بن جعفی۔جعفی معروف بابن ملیکہ۔یہ اوران کے والد اوران کے بھائی یزید سب صحابی ہیں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں گئے تھے یہ ابن کلبی کاقول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا قیس ابن  سلمہ رضی اللہ عنہ

   بن شراحیل بن شیطان بن حارث بن اصہب ۔اصہب کانام عوف بن کعب بن حارث بن سعدبن عمروبن ذہل بن مروان بن جعفی بن سعد العشیرہ ہے جعفی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھے۔یہ ابن کلبی کاقول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

  سیّدنا قیس ابن  سلع رضی اللہ عنہ

   اوربعض لوگ کہتےہیں قیس بن اسلع مگرپہلاہی قول زیادہ مشہورہے یہ انصاری ہیں مدینہ کے رہنے والے ان سے نافع مولی حمنہ نے روایت کی ہے کہ ان کے بھائیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شکایت کی اورکہاکہ انھوں نے فضول خرچی بہت شروع کی ہے اوراپنے مال کو بہت خرچ کرتے ہیں رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھاکہ اے قیس یہ کیامعاملہ ہے تمھارے بھائی تمھاری فضول خرچی کی شکایت کرتے ہیں یہ کہتےتھے میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ میں اپنے حصہ کے چھوہارے لے لیتاہوں اوران کو فی سبیل اللہ تقسیم کردیتاہوں اوراپنے ساتھیوں کو کھلادیتاہوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے قیس تم خوب خرچ کرو اللہ تمھیں زیادہ دے گااورآپ نے میرے سینے پرہاتھ پھیراچنانچہ بعد اس کے اپنے گھرانے میں میرے برابر مال کسی کے پاس مال نہ تھا۔ان کاتذکرہ تینوں نےلکھاہےاورابوعمرنے کہاہے کہ ان کا نام قیس بن اصلع تھامگریہ صح۔۔۔

مزید

سیّدنا قیس ابن  سکن رضی اللہ عنہ

   بن قیس بن زعورأ بن حوام بن جندب بن عامربن غنم بن عدی بن نجار کنیت ان کی ابوزید ہے۔انصاری ہیں خزرجی ہیں۔انکی کنیت ہی زیادہ مشہورہے۔غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔ان کے نام میں اختلاف ہےبعض لوگ سعد بن عمیرکہتے ہیں اوربعض ثابت اوربعض قیس بن سکن ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔حضرت انس بن مالک نے بیان کیاہے کہ میرے ایک چچاان لوگوں میں سے تھے جنھوں نےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن کو حفظ کیاتھااوریہ چار آدمی انصار کے تھے ۱)زیدبن ثابت۲)معاذ بن جبل۳)ابی بن کعب۴)ابوزید۔ابوعمرنے کہاہےکہ انس کی مراد اس حدیث میں انصار کے حافظ قرآن ہیں ورنہ مہاجرین میں تو حفاظ قرآن بہت تھےمثل حضرت علی و حضرت عثمان و حضرت ابن مسعود و حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص و سالم مولی ابی حذیفہ۔ ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب ابن  سوربن بکر رضی اللہ عنہ

  بن عبدبن ثعلبہ بن سلیم بن ذہل بن لقیط بن حارث بن مالک بن فہم بن غنم بن دوس بن عدنان ابن عبداللہ بن زہران بن کعب بن حارث بن کعب بن عبداللہ بن نصر بن ازدازدی۔ بیان کیاگیاہےکہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھایہ بصرہ کے قاضی تھےحضرت عمربن خطاب نے ان کوبصرہ کا قاضی مقررکیاتھا۔محمد بن سیرین نے ان کے بہت سے احکام اوراحادیث نقل کی ہیں۔شعبی نے روایت کی ہے کہ کعب بن سورایک روزحضرت عمرکے پاس بیٹھے ہوئےتھے ایک عورت آئی اوراس نےکہامیں نے اپنے شوہر سے زیاد ہ بزرگ کسی کو نہیں دیکھاشب بھرتو وہ عبادت کرتےہیں اورایسی سخت گرمی کے زمانے میں بھی ہرروزروزہ رکھتے ہیں کبھی ناغہ نہیں کرتے پس حضرت عمرنےاس عورت کے لیے دعائے مغفرت کی اوراس کی تعریف کی اورفرمایاکہ تو تعریف کی زیادہ مستحق ہے وہ عورت شرمندہ ہوکرچلی گئی کعب بن سورنے کہایاامیرالمومنین آپ نے اس عورت کی مصیبت دورنہ کی وہ اپنی مصیبت د۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب بن سلیم رضی اللہ عنہ

  ۔قرظی۔ثم الاوسی۔بنی قریظہ قبیلہ اوس کے حلیف ہیں۔یہ قریظہ کے ان قیدیوں میں سے ہیں جو نابالغ ہونے کے باعث قتل نہ کیےگئےتھے۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں ۔یہ محمد بن کعب قرظی کے والد ہیں۔یہ ابوعمرکاقول ہے اورابن مندہ نے کہاہے کہ کعب بن سلیم قرظی جو محمد کے والد ہیں ان کی حدیث حاتم بن اسمعیل نے جعید بن عبدالرحمن  سےانھوں نے موسی بن عبدالرحمن سے انھوں نے محمد بن کعب سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ابونعیم نے ابن مندہ کایہ کلام نقل کرکے کہاہے کہ یہ غلط ہے کیونکہ محمد بن کعب نے اپنے والد سے روایت نہیں کی بلکہ موسیٰ کے والد یعنی عبدالرحمن سے روایت کی ہے خودابن مندہ نے بھی اس کو صحیح طریقہ پر عبدالرحمن خطمی کے تذکرہ میں لکھاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب رضی اللہ عنہ

  ابن  زید بن قیس ۔انصاری۔بنی دینار بن نجارسے ہیں۔بدرمیں شریک تھےانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت کی ہے۔یہ ابونعیم کاقول ہے اورابوعمرنے کہاہے کہ کعب بن زید کو بعض لوگ زید بن کعب کہتےہیں انھوں نے قبیلہ غفارکی اس عورت کا قصہ روایت کیاہے جس کے جسم پررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ دیکھاتھااورفرمایاتھاکہ تواپنے کپڑے پہن لے اوراپنے عزیزوں سے جاکےمل جا۔(اس عورت سے حضرت نے نکاح کیاتھا)ان سے جمیل بن قیس نے روایت کی ہے مگراس روایت میں اضطراب بہت ہے۔ابوعمرنے ان کا نسب اس سے زیادہ نہیں بیان کیااگرابونعیم کی طرح وہ بھی ان کانسب اس سے زیادہ بیان کرتے تومعلوم ہوتاکہ یہ وہی ہیں جن کا تذکرہ اوپر ہوچکایاکوئی اورہیں ابونعیم نے ابن اسحاق سے انصارکےان ناموں میں جوانصارکے خاندان خزرج کی شاخ بنی قیس بن مالک بن کعب بن حارثہ بن دینارسے بدرمیں شریک تھےقیس بن مالک کانام بھی روایت کیاہ۔۔۔

مزید

سیّدنا کعب ابن  زید رضی اللہ عنہ

  بن قیس بن مالک بن کعب بن حارثہ بن دیناربن نجار۔انصاری بخاری۔بدرمیں شریک تھے۔ یہ ابن شہاب اورابن اسحاق اورابن کلبی کاقول ہے۔ابن کلبی نے کہاہے کہ ان کی شہادت غزوۂ خندق میں ہوئی واقدی نے بیان کیاہے کہ غزوہ خندق میں ان کو ضراربن خطاب نے قتل کیاتھا اورابن اسحاق نے کہاہے کہ غزوۂ خندق میں ایک نامعلوم تیر ان کے لگ گیاتھااسی سے یہ شہید ہوگئےاوربعض لوگوں کابیان ہے کہ نامعلوم تیرجس کےلگاتھاوہ امیہ بن ربیعہ بن صخردولی تھے جو بیرمعونہ کے واقعہ میں بچ گئےتھے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔

مزید