اورحسن بن سفیان اورعبداللہ بن ابی داؤد نے ان کاتذکرہ صحابہ میں لکھاہے مگراورلوگوں نے ان کی مخالفت کی ہے۔ان سے ابووائل یعنی شفیق بن سلمہ نے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے جو کچھ اللہ عزوجل نے نازل کیاہے اس میں یہ بھی تھاکہ اللہ کسی بندہ کومصیبت میں مبتلاکرتاہےاور وہ چاہتاہےکہ اس کے فریاد کی آوازسنے ۔اورمروان بن سالم نے ابن کردوس بن عمروسے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوشخص عیدین کی شب اورپندرھویں شعبان شب کو عبادت کرے اس کا قلب نہ مرے گاجب کہ اورسب کے قلب مرجائیں گے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔یہ ابوعمرکا قول ہے اورابن مندہ اورابونعیم نے ان کو خشنی لکھاہے اورکہاہے کہ ابوحاتم نے ان کے اورکردم بن سفیان کے درمیان میں فرق بیان کیاہے اورابونعیم نے کہاہے کہ طبرانی نے بھی ان دونوں میں فرق کیاہے مگرابن مندہ نے کہاہے کہ میں ان دونوں کوایک سمجھتا ہوں کیونکہ ان دونوں کی حدیث بلفظ ایک ہے ان کی حدیث جعفربن عمروبن امیہ نے ابراہیم بن عمرو سے روایت کی ہےکہ وہ کہتےتھےمیں نے کردم بن قیس سے سناوہ کہتےتھے میں اپنےایک ساتھی کےہمراہ جن کا نام ابوثعلبہ تھاچلاانھوں نے مجھ سے کہاکہ اپنی جوتیاں عاریتاً دے دو میں نے کہااس شرط پردوں گاکہ اپنی بیٹی کانکاح مجھ سے کردو اس دن گرمی بہت سخت تھی ابوثعلبہ نے کہااچھاجوتیاں مجھے دے دومیں نے اس کا نکاح تمھار ے ساتھ کردیابعداس کے جب گھرپہنچ گئے تو ابوثعلبہ نے میری جوتیاں مجھے واپس بھیج دیں اورکہلا بھیجا کہ میں نکاح نہ کروں گامیں نے یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہوس۔۔۔
مزید
۔اوربعض لوگ ان کوابی سائب کہتے یں۔انصاری ہیں۔صحابی ہیں مدینہ میں رہتے تھے۔ان کی حدیث اہل کوفہ سے مروی ہے ۔قرۃ بن ابی المعزأ نے قاسم بن مالک مزنی سے انھوں نے عبدالرحمن بن اسحاق سے انھوں نے اپنے والد کردم بن ابی سائب انصاری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےکہ میں اپنےوالد کے ہمراہ ایک ضرورت سے مدینہ کی طرف گیایہ وہ زمانہ تھاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کاچرچامکہ میں شروع ہوچلاتھااتفاقا ہم کو رات کے وقت ایک چرواہاکے یہاں رہناپڑانصف شب کو ایک بھیڑیاآیا اوراس نے بکری کابچہ اٹھالیاچرواہایہ دیکھ کر اٹھااوراس نے کہاکہ اے عامر الوادی (نام ایک جن کا ہے )اپنے پڑوسی کی مددکرپس ایک آوازدینےوالے نے جس کی صورت ہم نے نہیں دیکھی کہاکہ اے بھیڑیے اس کو چھوڑدے فوراً وہ بکری کابچہ دوڑتاہوا گلہ میں مل گیااوراس کے کہیں زخم نہ تھااس کے متعلق رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پریہ آیت نازل ہوئی۱؎وانہ کان رجال من۔۔۔
مزید
ثقفی۔ان سے ان کی بیٹی میمونہ نے اورعبداللہ بن عمروبن عاص نے روایت کی ہے یزید بن ہارون نے عبداللہ بن یزیدبن مقسم سے انھوں نے اپنی پھوپھی سارہ بنت مقسم سے انھوں نے میمونہ بنت کردم سے روایت کی ہے کہ وہ کہتی تھیں میں نے رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وسلم کومکہ میں دیکھاآپ کے ہاتھ میں ایک درہ تھاجیسامعلموں کے ہاتھ میں ہوتاہے لوگوں کے رفتار کی آواز سے زمین گونج رہی تھی میرے والد آپ کے قریب گئے اورانھوں نے آپ کاقدم مبارک پکڑلیارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی اونٹنی روک لی میمونہ کہتی تھیں کہ مجھے خوب یاد ہے کہ آپ کے پائے مبارک کے بیچ کی انگلی باقی سب انگلیوں سے بڑی تھی۔میرے والد نےآپ سے عرض کیاکہ میں جیش عسران میں شریک تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن جیش کو پہچان لیا اسی جیش میں طارق بن مرقع نے کہاتھاکہ کون شخص مجھے اپنانیزہ مع اس کے ثواب کے دیتاہے الخ ہم یہ۔۔۔
مزید
انصاری۔صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے۔ان کے صحابی ہونے میں کلام ہے ابن کلبی نے ان کاذکران صحابہ میں کیاہے جوصفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کے والد کانام قتادہ تھا۔ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے کوفے میں رہتےتھےان سے ابواسحاق سبیعی نےروایت کی ہے۔ہمیں خطیب ابوالفضل بن ابی نصرنے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد طیالسی سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےہم سے شعبہ نے بیان کیاوہ ابواسحاق سے روایت کرتےتھےوہ کہتےتھےمیں نے کدیر حنبی سے سناابواسحاق کہتےتھے مجھے کدیرسے سنے ہوئے پچاس برس ہوگئےاورشعبہ کہتےتھے مجھے ابواسحاق سے سنے ہوئے چالیس سال ہوئے ابوداؤدکہتے تھےمجھے شعبہ سے سنے ہوئےپینتالیس یاچھیالیس سال ہوئے غرض وہ کہتےتھے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیااوراس نے عرض کیاکہ یارسول اللہ مجھے کوئی کام ایسابتائیےجومجھ کو جنت میں لے جائے آپ نے فرمایاٹھیک بات کہاکرو اورتمھاری حاجت سے جس قدر زائد ہواکرے کسی کودے دیاکرو اس نے عرض کیاکہ اگرایسانہ کرسکوں توآپ نے فرمایا لوگوں کو کھاناکھلایاکرو ۔۔۔
مزید
اوربعض لوگ ان کو ابن عبیدکہتےہیں عتکی ہیں اوربقول بعض عکی فلسطین میں رہتےتھےان کی حدیث ان کی اولادسے مروی ہے۔یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھے اور آپ سے بیعت کی تھی ان سے ان کے بیٹے لفاف بن کدن نے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھےمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں یمن سے آیااورمیں آپ سے بیعت کی اورآپ کے ہاتھ پر اسلام لایا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ان کا نسب نہیں بیان کیاگیا۔حسن بن عبدالرحمن بن عوف نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے کثیرسے کہاجوصحابی تھےالخ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہےاور ابن مندہ نے کہاہے کہ یہ حدیث منکرہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔بیان کیاجاتاہے کہ یہ حضرت عباس کے بیٹے ہیں جن کا ذکر اوپر ہوچکاان سے ان کے بیٹے جعفرنے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نمازپڑھ چکتے اوراس کے بعد کچھ نوافل پڑھنا چاہتےتھےتوبائیں طرف ہٹ جاتے تھےاورجس قدر جی چاہتاتھاپڑھتےتھے اوراپنے اصحاب کو بھی آپ نے حکم دیاتھاکہ بائیں طرف ہٹ جایاکریں داہنی طرف نہ ہٹاکریں ان کاتذکر ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔عبدان نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے قیتبہ نے لیث سے انھوں نےمعاویہ بن صاع سے انھوں نے ابوالزاہر سے انھوں نے کثیر بن مرہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نےکہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاسلطان زمین میں خداکاسایہ ہےکہ ہر مظلوم اس کےسایہ میں پناہ لیتاہے لہذا اگروہ عدل کرے گاتواس کو ثواب ملے گااوررعیت پر اس کاشکرواجب ہے اوراگروہ ظلم کرے گاتو اس پر گناہ ہوگااوررعیت کو صبرکرنا چاہیے جب بادشاہ لوگ ظلم کرتے ہیں تو زمین میں قحط پڑجاتا ہے اورجب زکوۃ بند ہوجاتی ہے تومویشی ہلاک ہوجاتے ہیں اورجب زنا علانیّہ ہنے لگتی ہےتو فقرو مسکنت کاغلبہ ہوجاتاہےاورجب بدعہدی کی جاتی ہے تو دشمن کا غلبہ ہوجاتاہے ان کا تذکرہ ابوموسی نے لکھاہے اورکہاہے کہ یہ حدیث مرسل ہے کثیر کوابوموسیٰ کے سوااورکسی نے صحابہ میں ذکرنہیں کیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید