۔یہ کثیربیٹے ابوکثیر کے ہیں ۔صحابی ہیں۔ان کا شماراہل مصرمیں ہے۔ابن وہب نے حیوۃ بن شریح سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے عقبہ بن مسلم سے پوچھاکہ کیاآگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضوکرناپڑتاہےانھوں نے کہاکہ کثیرجو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے کہتےکہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھےہم سب لوگوں کے لیے کھانالایاگیااورہم نے کھایااس کے بعد نماز کی تکبیرہوئی پھرہم نے نماز پڑھی اوروضونہیں کیاان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےمگرابن مندہ اورابونعیم نے ان کو کثیر بن ابی کثیر بیان کیاہےاورابوعمرنے ان کوکثیرازدی لکھاہے۔یہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ابن ہودہ۔بنی حارث بن سدوس میں سے۔ایک شخص ہیں۔بن سیف بن عمرنے عبداللہ بن عبدبن شبرمہ سے انھوں نے ایاد بن لقیط سدوسی سے انھوں نے کبیش بن ہودہ جوبنی حارث بن سدوس کے ایک شخص تھےروایت کی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےاور آپ سے بیعت کی تھی اورآپ نے ایک تحریران کولکھ دی تھی۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن قیظی۔انصاری اوسی۔بنی حارثہ کے خاندان سے ہیں۔غزوۂ احد میں شریک تھے۔ عرابہ بن اوس اوسی کے بھائی ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابویحییٰ ہے۔ازدی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد یمن کے ساتھ حاضر ہوئےتھےاوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالقیوم رکھاہےہم حرف عین میں ان کا تذکرہ لکھ چکے ہیں ۔ان کی حدیث عبدالجبار بن یحییٰ بن فضل بن یحییٰ بن قیوم سے مروی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ہیں۔ان کا ذکرحضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ہے۔اس کو یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے انھوں نےحضرت ابوہریرہ سے روایت کیاہے کہ قین اشجعی نے کہاکہ اوکھلی (ایک ظرف ہے جس میں غلہ وغیرہ موسل سے کوٹاجاتاہے)کاکیاحکم ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہےاور ابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخرین نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہےمگراس کی کچھ اصل نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ بن خزرج بن عمرو۔عمروکانام منبیعت؟ بن مالک بن اوس ہے۔اوسی انصاری ہیں۔ان کی والدہ لبنیٰ بنت رافع بن عدی بن زید بن جشم بن حارثہ تھیں۔بقول واقدی یہ اوران کے تین بیٹےعقبہ اورعبداللہ اورعبدالرحمن احد میں شریک تھے اورتینوں جسرابوعبیدہ میں شہیدہوئے اوران کے بھائی عبادبن قیظیٰ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھےمگراحد میں شریک نہ تھے۔اوربعض لوگوں نےبیان کیاہے کہ وہ بھی احد میں شریک تھے۔حافظ ابوالقاسم بن عساکر دمشقی نے ان کاتذکرہ لکھاہے اوران کوقیظیٰ ابن قیس لوذان بیان کیاہے اورکہاہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھااوراجنادین میں شہید ہوئے تھے۔ ابن قداح نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن حباشہ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھےاورفتح مصر میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ کیاگیاہے مگران کی کوئی روایت نہیں ہےیہ ابوسعید بن یونس کاقول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
قیس کی طرف منسوب ہیں۔عمارہ بن عثمان بن حنیف نے قیسی سے روایت کی ہے کہ وہ کسی سفر میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے وہ کہتےتھے کہ آپ کے پاس پانی لایاگیاتوآپ نے ان دونوں ہاتھوں پرپانی گرایااوران کو ایک مرتبہ دھویاپھراپنامنہ دھویااورکہنیاں ایک مرتبہ دھوئیں پھردہنے ہاتھ سے اپنے دونوں پیرایک مرتبہ دھوئے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ یہ حدیث حسن ہے مگراس کی سند میں اختلاف ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ان کا نسب نہیں بیان کیاگیا۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورکہاہے کہ میں نہیں جانتاشاید یہ گذشتہ ناموں میں سے کسی کا تذکرہ ہے۔ام نائلہ نے بریدہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس نامی ایک شخص کو پوچھااورفرمایاکہ زمین میں اس کا ٹھکانہ نہ ملا پس وہ جب کسی مقام میں جاتےتھےتووہاں ان کا قیام نہ ہوتاتھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
جہنی۔ان سے شعبی نے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوشخص ایک روزہ نفل رکھتاہےاس کےلیے جنت میں ایک درخت لگایاجاتاہے۔ان کا تذکرہ ابواحمد عسکری نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید