منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عوف ابن حارث رضی اللہ عنہ

   اوربعض لوگ کہتےہیں ابن عبدالحارث بن عوف بن حشیش بن ہلال بن حارث بن رزاح بن کلفہ بن عمروبن لوی بن دہرابن معاویہ بن اسلم بن احمس بن غوث بن انماربجلی ۔احمسی۔ کنیت ان کی ابوحازم تھی قیس بن ابی حازم کے والد ہیں ۔اوربعض لوگوں نے یہ بھی بیان کیاہے کہ ان کانام عبدعوف ہے۔ہم ان کو تذکرہ کنیت کے باب میں انشاء اللہ تعالیٰ کریں گے۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد طیالسی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نے قیس ابن ابی حازم سے روایت کرکےبیان کیاکہ وہ کہتے تھےرسول خداصلی اللہ علیہ وسلم (ایک روز)خطبہ پڑھ رہے تھےآپ نے میرے والد کو دیکھاکہ دھوپ میں ہیں تواشارہ سے فرمایاکہ سایہ میں آجاؤ۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف سیّدنا عوف رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ

   ان کا مشہورنام مسطح بن اثاثہ بن عبادبن مطلب بن عبدمناف بن قصی ہے۔کنیت ان کی ابو عباد تھی اوربعض لوگ کہتےہیں ابوعبداللہ ۔یہ واقدی کاقول ہے یہ مسطح وہی ہیں جن کا واقعہ افک میں آتاہے بدرمیں شریک  تھےاوربعض لوگوں کا بیان ہے کہ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے اوربعض لوگ کہتےہیں صفین سے چونتیس برس پہلے وفات پاچکے تھےمگرپہلاقول زیادہ مشہورہے۔ ان کی والدہ ابورہم بن مطلب کی بیٹی تھیں نام ان کا سلمی تھااوران کی ماں ریطہ بنت صخر بن عامر تیمی ابوبکرصدیق کی خالہ تھیں اسی قرابت کی وجہ سے ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ کچھ سلوک کیاکرتےتھےمگرجب حضرت عائشہ کی تہمت میں شریک ہوئے اوراللہ تعالیٰ نے ان کی براءت ظاہرفرمائی توابوبکرصدیق نے قسم کھالی کہ میں ان کو کچھ نہ دیاکروں گااس پر یہ آیت نازل ہوئی۱؎ولایاتل اولوالفضل منکم والسعتہ ان یوتواولی القربی والمساکین والمہاجرین فی سبیل اللہ ۔۔۔

مزید

سیّدنا عوسجہ ابن حرملہ رضی اللہ عنہ

   بن جذیمہ بن سبرہ بن خدیج بن مالک بن عمروبن ذہل بن عمروبن ثعلبہ بن رفاعہ بن نصر بن مالک بن غطفان بن قیس بن جہنیہ جہنی ۔فلسطین میں رہتےتھے۔بخاری نے ان کو صحابہ میں ذکر کیاہے۔عروہ بن ولید نے عوسجہ بن حرملہ جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا عوسجہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیاآپ مروہ میں فروکش تھےاورمروہ کے نیچے مشرقی جانب ٹھہرے ہوئے تھےاوردوپہرکواس مقام پر آجاتےتھے جہاں اب مسجد بنی  ہوئی ہےان دونوں مقاموں میں آپ کا دورہ رہتاتھاجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کودیکھااورآپ کو تعجب معلوم ہوا کہ عرب کااورکوئی قبیلہ یہاں نہیں ہے توآپ نے فرمایاکہ اے عوسجہ مجھ سے مانگومیں تمھیں دوں گا۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہ

  ۔یہ ان کی والدہ کانام ہےوالد کانام حارث بن رفاعہ بن حارث بن سواد بن غنم بن مالک بن نجار ہے۔انصاری خزرجی نجاری ہیں۔حضرت معاذ اورمعوذ فرزندان عفراء کے بھائی ہیں انھیں عوذ اورمعوذ نے ابوجہل کوماراتھا۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہےاوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کا نام عوف ہے جیساکہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوام ابن جہیل رضی اللہ عنہ

   سامی۔یغوث (نامی بت) کے مجاورتھےیہ ابواحمد عسکری کاقول ہے اور ابن درید سے مروی ہے وہ سکن بن سعید سے وہ محمدبن  عباد سے وہ ہشام بن کلبی سے روایت کرتے ہیں کہ عوام بن جہیل مسامی قبیلۂ ہمدان سے تھےاوریغوث (نامی بت کی)خدمت کیاکرتےتھےمسلمان ہوجانے کے بعد بیان کرتےتھے کہ میں ایک مرتبہ شب کو اپنی قوم کے چند لوگوں کے ساتھ کچھ باتیں کررہا تھا جب وہ سب لوگ اپنے اپنے گھرگئےتومیں اسی بت کے مکان میں رہ گیاہوابہت تیزچل رہی تھی بجلی چمکتی تھی بادل گرجتاتھامیں سوگیاجب کچھ رات ہوگئی تومیں نے سناکہ بت سے آواز آرہی ہے اس سے پہلے ہم نےکوئی آواز نہ سنی تھی وہ آواز یہ تھی کہ اے ابن جہیل اب بتوں کی خرابی آئی ہے دیکھو سرزمین مقدس سے یہ نورچمکاہے اب تم یغوث کواچھی طرح چھوڑدو اس آواز کو سنتے ہی واللہ میرے دل میں بتوں سے نفرت پیداہوگئی مگریہ واقعہ میں نے اپنی قوم سے پوشیدہ رکھاپھر میں نے ایک&n۔۔۔

مزید

سیّدنا عنیز غفاری رضی اللہ عنہ

  ۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین وادی قریٰ میں عنایت فرمائی تھی یہ وہیں رہتے  تھےیہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی بعض لوگوں نےان کا نام عس بیان کیاہےاورکہاگیاہے کہ یہی صحیح ہے اورابن مندہ نے ان کاتذکرہ اسی وجہ سے نہیں کیاکہ وہ جانتے تھے کہ عنیزصحیح نہیں ہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عنمہ ابن عدی رضی اللہ عنہ

   بن عبدمناف بن کنانہ بن جہمہ بن عدی بن ربعہ بن رشدان جہنی ۔بدرمیں اورتمام مشاہد میں  رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ تھے۔ان کا تذکرہ ابن کلبی نے کیاہےمگراورلوگوں نے ان کا ذکرنہیں کیامیں نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہی شخص ہیں جن کا ذکراس سے پہلے ہوایاکوئی اورہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عنمہ ابراہیم بن عنمہ رضی اللہ عنہ

   کے والدہیں۔یہ ابن مندہ اورابونعیم کاقول ہے مگرابوعمرنے ان کو مزنی قراردیاہے اورابن ماکولا نے ان کی موافقت کی ہے محمد بن ابراہیم بن عنمہ نے اپنے والد سےانھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو ایک انصاری آپ سے ملااوراس نے عرض کیاکہ یارسول اللہ آپ کے چہرہ کی حالت دیکھ کر مجھے رنج ہوتاہےآپ نے اس کی طرف دیکھااورفرمایاکہ یہ حالت بھوک کے سبب سے ہےالخ ہم یہ حدیث عثمہ کے نام میں ذکرکرچکے ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابوعمرنے لکھاہے ان کے نام میں نون ہی صحیح ہے۔واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عنترہ شیبانی رضی اللہ عنہ

۔کنیت ان کی ابوہارون تھی۔عبدالملک بن ہارون بن عنترہ شیبانی نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز ہم لوگوں سے پوچھاکہ تم لوگ شہید کس کو سمجھے ہو ہم لوگوں نے عرض کیاکہ جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے وہ شہید ہے آپ نے فرمایااب تومیری امت میں شہید بہت کم ہوں گے جو شخص اللہ کہ راہ میں ماراجائے وہ بھی شہید ہے اورجو پیٹ کی بیماری میں مرے وہ بھی شہیدہےاورجو شخص گرکر مرےوہ بھی شہید ہےاورجوعورت نفاس میں مرےوہ بھی شہید ہے اورجوشخص غرق ہوکر مرے وہ بھی شہید ہے اورجوشخص مرض سل میں مرے وہ بھی شہید ہےاورجو شخص جل کر مرجائےوہ بھی شہید ہے اورجو سفر میں مرجائے وہ بھی شہید ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عنتر عذری رضی اللہ عنہ

۔صحابی ہیں۔ان کی حدیث صرف ابوحاتم رازی نے روایت کی ہے۔عبدالغنی نے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں نے ان کانام عبس بیان کیاہےاورکہاجاتاہے کہ یہی صحیح ہے۔ان کا تذکرہ عبس کے نام میں ہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید