۔ان کا تذکرہ اسید بن ابی ایاس کے نام میں ہوچکاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
غفاری کے غلام تھے۔خیبرمیں جب یہ شریک ہوئے ہیں تواس وقت غلام تھےلہذا رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حصہ نہیں دیامگرہاں آپ نے ان کوکچھ بطورخوددے دیاتھا ایک تلوار ان کو دی تھی ان سے یزید بن ابی عبیداورمحمدبن زید بن مہاجربن قنفذ اورمحمد بن ابراہیم بن حارث نے روایت کی ہے حفص بن غیاث نے محمد بن زید مہاجرسے انھوں نے عمیرمولائے ابی اللحم سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں حنین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھااوراس وقت میں غلام تھامیں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ مجھے بھی کچھ حصہ دیجئےتوآپ نے مجھے ایک تلوار دی تھی مگرحصہ نہیں دیااسی طرح ابونعیم نے ہشام بن سعدسے انھوں نے محمد بن زید سے حنین کے ذکر میں روایت کیاہے مگراورلوگ اس کو خیبرکاواقعہ کہتے ہیں۔ہمیں ابراہیم بن محمد وغیرہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوعیٰسی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے قتیبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھےہ۔۔۔
مزید
ابن عائذ۔ان کا تذکرہ حافظ ابن یسٰین نے ان صحابہ میں کیاہےجوہرات میں آئےخیاج ابن عمران ابن فضیل نےاپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے میں اپنی قوم کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہواتھاآپ نے میری بہت عزت کی تھی میں نے آپ سے عرض کیاتھاکہ آپ کو قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کونبوت اورایمان سے ممتازکیااورہم کوآپ کے ذریعے سےاورایمان کی وجہ سے عزت دی بتائیے کہ سب سے بہترذریعہ اللہ کے تقرب کاکیاہے آپ نے فرمایایہ کہ اللہ کے حکم کوہرچیزپرمقدم سمجھواوراس کی تابعداری کرواورجھوٹ نہ بولو اور امر حق میں ہر شخص کی مددکرواورلوگوں کے ساتھ ایسابرتاؤکروجیساتم اپنے ساتھ چاہتےہواور شک اورشبہ کی باتیں چھوڑدواورجہاں تک تم سے ہوسکے بھلائی کروپھرعمران رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے یہاں تک کہ وفات پائی اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازجنازہ پڑھی اوران کو دفن کیااس ۔۔۔
مزید
۔اوربعض لوگ ان کو ابن عویمرکہتےہیں ان کا ذکرعامہ ہذلی کی حدیث میں ہے ابوالملیح نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم میں ایک شخص تھے جن کولوگ حمل ابن مالک کہتے تھےان کی دو بی بیاں تھیں ایک ہذلیہ اوردوسری عامریہ۔ہذلیہ نے عامریہ کے شکم پر خیمہ کا ایک ستون ماردیاجس سے حمل ساقط ہوگیاپس میں مارنے والی عورت کورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیااوراس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھاجس کو لوگ عمران ابن عویم کہتےہیں ان لوگوں نے جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوراقصہ بیان کیاتوآپ نے فرمایاکہ دیت دینی چاہئے عمران نے کہاکہ یارسول اللہ کیاہم اس بچہ کی دیت دیں جس نے نہ کچھ کھایانہ پیانہ رویایہ تو معاف ہونا چاہئے یہ حدیث کئی جگہ بیان ہوچکی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔علی ابن سعید نے انکا تذکرہ افرادصحابہ میں لکھاہےمگران کی کوئی حدیث نقل نہیں کی ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ضبعی۔ابوحمزہ یعنی نصربن عمران بن ضبعی شاگرد حضرت ابن عباس کے والد ہیں بعض لوگوں نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہےاوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کا صحابی ہوناصحیح نہیں۔بصرہ کے قاضی تھےان سے ان کے بیٹے نے اورابوالتیاح وغیرہ نے روایت کی ہے کہ اوریہ خود عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں۔حماد بن سلمہ نے ابوحمزہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ترسٹھ برس کی عمرمیں ہوئی تھی۔اس کو حماد نے بھی روایت کیاہے مگرصحیح ابوجمرہ ہے نہ ابوحمزہ۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبیداللہ قریشی تیمی۔ان کانسب ان کے والد کے تذکرہ میں بیان ہوچکاہے۔ان کی والدہ حمنہ بنت حجش تھیں۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدمیں پیداہوچکے تھے۔طلحہ بن عبیداللہ سےروایت ہے وہ کہتےتھے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لڑکوں کے نام موسیٰ اورعمران رکھتےتھے۔بعدواقعہ جمل کے عمران بصرہ میں حضرت علی بن ابی طالب کے پاس گئے اوراپنے والد کی املاک کی بابت ان سےگفتگوکی حضرت علی نے ان کے والد کی املاک ان کوواپس کردی محمد بن سعد نے کہاہےکہ مدینہ کے تابعین کے طبقہ اعلیٰ میں عمران بن طلحہ بن عبیداللہ تھےان کی والدہ حمنہ بنت حجش بن رباب تھیں۔عمران بن طلحہ کے لڑکے عبداللہ اور اسحاق اورمحمداورحمیدتھےاوران لڑکوں کے بھی اولاد تھی مگریہ سب لوگ گذرگئے اورکوئی باقی نہ رہا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبیدبن خلف بن عبدنہم بن حذیفہ بن جہمہ بن غاضرہ بن حبیشہ بن کعب بن عمرو۔ خزاعی کعبی۔یہ ابن مندہ اورابونعیم کا قول ہے اورابوعمرنے کہاہے کہ عبدنہم بیٹے ہیں سالم بن غاضرہ کے اورکلبی نے کہاہے کہ عبدنہم بیٹے ہیں جرمہ بن جہیمہ کے اورباقی نسب میں سب کا اتفاق ہے ان کی کنیت ان کے بیٹے کانام نجید تھا۔یہ فتح خیبرکے سال اسلام لائےتھےاوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک رہے۔ان کو حضرت عمربن خطاب نے بصرہ بھیجاتھاتاکہ وہاں کے لوگوں کو علم دین سکھائیں اورعبداللہ بن عامر نے ان کو بصرہ کاقاضی بنایاتھاچنانچہ یہ چند روز وہاں رہے بعداس کے انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔محمد بن سیرین نے بیان کیاہے کہ ہم نے بصرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو نہیں دیکھاجوعمران بن حصین سے کسی کو افضل کہتاہو بڑے مستجاب الدعوات تھےکسی فتنہ میں شریک نہیں ہوئے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔
مزید
محمد بن اسماعیل بخاری نے صحابہ میں ان کا ذکرکیاہے مگران کی کوئی حدیث نہیں بیان کی۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔بعض لوگ ان کو عمروان بن ملیحان اوربعض عمران بن عبداللہ کہتےہیں۔کنیت ان کی ابورجاءہے عطاروی ہیں یعنی بنی عطارد بن عوف بن کعب بن سعد بن زید منامیں تمیم تمیمی عطاردی کے خاندان سے ہیں۔مخضرم ۱؎ ہیں انھوں نے جاہلیت کازمانہ پایاتھااوراسلام کابھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسلام لے آئےتھے مگرآپ کو دیکھانہ تھااوربعض لوگوں کاقول ہے کہ یہ فتح مکہ کے بعداسلام لائے۔جریربن حازم نے ابورجاءعطاردی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر سنی اس وقت ہم اپنے مال کے پاس بیٹھےہوئے تھے پس ہم وہاں سے بھاگےاثنائے راہ میں مجھے ایک ہرن کے پیرملے میں نےان کواٹھالیااوران کو بھگویاپھرایک مٹھی بھرجوہمیں مل گئے ہم نے پیابعداس کے ایک دیگچی میں اس کو ڈال دیاپھراپنے ایک اونٹ کی ہم نے مفصدلی اوراس کا خون بھی شریک کیااوراس کو پکایازمانہ جاہلیت میں سب سے زیادہ لذیذک۔۔۔
مزید