پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیدنا) حجاج ۰رضی اللہ عنہ)

  ابن عامہ ثمالی۔ انکا شمار اہل حمص میں ہے۔ ان سے خالد بن معدان اور شرحبیل ابن مسلم نے رویت کی ہے۔ ثور نے خالد بن معدان سے انھوں نے حجاج بن عامر ثمالی سے جو اصحاب نبی ﷺ سے تھے اور عبداللہ بن عامر ثمالی سے کہ وہ بھی اصحاب نبی ﷺ سے تھے روایت کی ہے کہ ان دونوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نماز پڑھی حضرت عمر نے سورہ اذا السناء الشقت پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور شرحبیل بن مسلم نے ان سے روایت کی ہے اور یہ اصحاب نبی ﷺ سے تھے انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کر کے بیان کیا کہ آپ فرماتے تھے کثرت وال اور مال کے ضائع کرنے سے بچو اور مال کا دے دینا بہتر ہے اس کے روکنے سے روکنا بہت برا ہے اور تنگی معیشٹ پر خدا کو ملامت نہ کرے۔ اور خیرات کرنے میں ابتدا اس شخص سے کرو جس کی تم عیال داری کرتے ہو۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ حجاج بن عامر ثمالی بعض لوگ ان کو حجاج بن عبداللہ ثمالی کہتے ہیں اور بعض لوگ نصری ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج (رضی اللہ عنہ)

  ابن حادث بن قیس بن عدی بن سعد بن سہم قریشی سہمی۔ انھوںنے سرزمیں حبش کی طرف ہجرت کی تھی اور احد کے بعد مدینہ منورہ لوٹ کر آئے تھے ان کے کوئی اولاد نہ تھی۔ یہ حقیقی بھائی ہیں سائب اور عبداللہ اور ابو قیس فرزندان حارث کے۔ اور عبید اللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کے چچازاد بھائی ہیں عروہ بن زبیر نے اور زہری نے اور ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ حجاج بن حارث سہمی جنگ اجنادین میں شہید ہوئے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے مگر ابن مندہ نے لھا ہیک ہ یہ حجاج بیٹِ ہیں قیس بن عدی کے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حجاج (رضی اللہ عنہ)

  باہلی صحابی ہیں قواریری نے غندر سے انھوں نے شعبہ سے رویت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں نے حجاج بن حجاج باہلی کو اپنے والد سے رویت بیان کرتے ہوئے سنا وہ صحابی تھے نبی ﷺ کے ایک صحابی سے جن کا نام مجھے ابن مسعود یا دپڑتا ہے وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا گرمی کی شدت جہنمکے سانس لینے سے ہوتی ہے پس جب گرمی زیادہ پڑنے لگے تو تم لوگ نماز ظہر کو ٹھنڈے میں پڑھو۔ انکا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حتات )رضی اللہ عنہ)

  ابن یزید بن علقمہ بن جوی بن سفیان بن مجاشع بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید مناہ بن تمیم تمیمی دارمی۔ نبی ﷺ کے حضور میں بنی تمیم کے وفد میں عطارد بن حاجب اور اقرع بن حابس وغیرہما کے ساتھ آئے تھییہ سب لوگ اسلام لائے ابن اسحاق نے اور کلبی نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے رسول خدا ﷺ نے ان کے اور معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان مواخات کرا دی تھی جب حضرت معویہ کو خلافت حاصل ہوئی تو حتات اور جاریہ بن قدامہ اور احنف بن قیس ان کے پاس گئے یہ دونوں بھی قبیلہ بنی ثمیم سے تھے حتات حضرت عثمان کے دوستوں میں تھے اور جاریہ اور احنف حضرت علی کے اصحاب میں سے تھے حضرت معاویہ نے ان دونوں کو حتات سے زیادہ دیا تو حتات نے ان سے کہا کہ تم نے محرق (یعنی جلا دینے والے) اور مخذل (یعنی پریشان کرنے والے) کو مجھ پر فضیلت دی حضرت معاویہ نے کہا (میں نے فضیلت نہیں دی) بلکہ میں نے ان سے ان کا دین مول لیا ہے اور تم کو ۔۔۔

مزید

(سیدنا) حتات (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمرو۔ انصاری۔ بھائی ہیں ابو الیسر کے۔ ان کے نام میں دو تا ئے فوقانیہ ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام حباب ہے دوہائے موحدہ کے ساتھ ان کا ذکر حباب کے نام میں ہوچکا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیش (رضی اللہ عنہ)

  ابن شریح کنیت انکی ابو حصفہ حبشی ہیں۔ اسحاق بن سوید رملی نے ان کا ذکر صحابہ میں لکھا ہے۔ اہل فلسطین سے ہیں۔ سیت جبین میں رہتے تھے۔ اور موسی بن سہل نے ان کا ذکر تابعین میں لکھا ہے اور یہی صحیح ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کرتے ہیں ان سے علی بن ابی جملہ نے روایت کی ہے۔ حسان بن ابی سمعن نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا (ایک مرتبہ۹ میں اور تیس صحابی یکجا تھے ان لوگوںنے اذان دی اور اقامت کہی اور میں نے انھیں نماز پڑھائی اور بعد اس کے پوری حدیث ذکر کی ہے حسان نے ان کا نام حبیش بتایا ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیش (رضی اللہ عنہ)

  ابن خالد بن منقذ بن ربیعہ بن اصرم بن حنبیش بن حرام بن حبیشہ بن کعب بن عمرو بعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں حبیش بن خالد بن حنیف بن منقذ بن ربیعہ منقذ کا ذکر نہیں کرتے یہ خزاعی ہیں کعبی ہیں۔ کنیت ان کی ابو صخر ہے اور ابو خالد ہے ان کو بعض لوگ اشعر بھی کہتے ہیں اور ابن کلبی نے کہا ہے کہ یہ حبیش اشعر ہیں اور انھوں نے ان کے نسب میں کچھ بڑھا دیا ہے اور کہا ہے حبیش بن خالد بن حفیف بن منقذ بن اصرم اور ابن ماکولا نے بھی ان کی موافقت کی ہے مگر انھوں نے اشعر خالد کا لقب قرار دیا ہے اور ابراہیم بن سعد نے ابن اسحاق سے ان کا نام خنیس بنائے معجمہ اور نون کے ساتھ نقل کی ہے مگر پہلا ہی قول صحیح ہے کنیت ان کی ابو صخر ہے یہ بھائی ہیں ام معبد کے اور انکی حدیث کو انھیں نے روایت کیا ہے ہمیں ابو طالب لعینی محمد بن محمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر عینی محمد بن عبداللہ بن ابراہیم نے خبر دی وہ ۔۔۔

مزید

(سیدنا)  حبیش (رضی اللہ عنہ)

  اسدی۔ اسد بن خزیمہ کی اولاد سے ہیں۔ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے بعد وفات نبی ﷺ کے نبی اسد میں خطبہ ڑھا تھا اور انھیں اسلام پر قائم رہنے کی ترغیب دی تھی جب کہ طلیحہ (نامی ایک شخص) ظاہر ہوا اور اس نے نبوت کا دعوی کیا یہ ابن اسحاق کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  ابن جاریہ ثقفی۔ معلیف ہیں بنی زہرہ بن کلاب کے فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ یہ طبری کا قول ہے اور ابراہیم بن سعد نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا جو لوگ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تھے ان میں قبیلہ ثقیف سے حبی بن حارثہ بھی ہیں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دارقطنی نے بیان کیا ہے کہ لکھنے والے نے ان کا نام اسی طرح لکھاہے اور کہا ہے کہ یہ حارثہ کے بیٹِ ہیں واقدی نے بھی کہا ہے کہ حبی بن حارثہ اور طبری نے بھی ان کو اسی طرح ذکر کیا ہے اور ابو معشرنے ان کا نام یعلی بن جاریہ ثقفی بتایا ہے اور ابو عمر نے کہا ہے کہ صحیح وہی ہے جو ابن اسحاقنے کہا ہے میں کہتا ہوں کہ ابو عمر نے ان کے نام کو حرفوں میں ضبط نہیں یا تاکہ پھر متغیر نہ ہوتا اور امیر ابو نصر ابن ماکولا نے ان کو ذکر کیا ہے اور حروف میں بہت اچھی طرح ان کے نام کو ضبط ک۔۔۔

مزید

(سیدنا) حبیب (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی الیسر بن عمرو انصاری۔ صحابی ہیں۔ واقعہ حرہ میں شہید ہوئے ان کے دو بھائی تھے یزید اور عمیر یزید بھی اس واقعہ حرہ میں شہید ہوئے اور عمر واقعہ جسر میں شہید ہوئے ان کا ذکر غفانی نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید