آپ حسب و نسب میں صاحب فضیلت بزرگ تھے، آپ کے آبا ؤ اجداد سب کے سب عالم، صالح اور متقی تھے، تفسیر معینی کے مصنف میر معین الدین آپ کے اجداد میں سے تھے جو سالہا سال تک مدینہ منورہ کے مجاور رہے ہیں اور اب تک آپ کی اولاد میں سے بعض مکہ معظمہ میں قیام پذیر ہیں، یہ تفسیر معینی جامع پاکیزہ اور مفید تفسیر ہے، اس کے علاوہ چند رسائل جو جزوی مسائل کی تحقیق میں ہیں سپرد قلم کیے ہیں۔ شیخ صفی الدین کی طرف نسبت کرنے والے اپنے کو سادات صفویہ بتلاتے ہیں یہ بھی آپ کے اجداد میں سے ہیں، غالباً شیخ الحدیث قدوتہ المحققین مولانا جلال الدین محمد دوانی جن کو سادات اسلامیہ کہتے ہیں یہ بھی آپ کے اجداد میں سے تھے اور یہ وہ بزرگ ہیں جن کو روضۂ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے سلام علیک کا جواب ملا کرتا تھا، غرضیکہ میر سید رفیع الدین صفوی بڑے دانشمند محدث تھے، جودو سخاوت اخلاق اور مہربانیوں کے مجسمہ تھے آپ معقولات میں م۔۔۔
مزید
سید ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ معین عبدالقادر الحسین الایرجی کے صاحبزادے تھے۔ آپ بلند مرتبہ بزرگ اور کامل فلسفی تھے علوم عقلی و نقلی رسمی و حقیقی کے فارغ التحصیل تھے تمام علوم کی بے شُمار کُتب مطالعہ کر رکھی تھیں اور ان کی تصحیح بھی فرمائی تھی آپ نے کتابوں کے مشکل ترین مسائل کو اس طرح حل فرمادیا تھا کہ کم علم شخص بھی ان مسائل کو باسانی بغیر استاد کے سمجھ لیا کرتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے دور میں یکتائے روزگار تھے۔ آپ کے انتقال کے بعد آپ کے کُتب خانہ سے اتنی زیادہ کتابیں برآمد ہوئیں جو ضبط تحریر سے خارج ہیں اور ان میں سے اکثر آپ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھیں اور واقعہ یہ ہے کہ آپ کے جس ہم عصر نے آپ سے استفادہ نہیں کیا اور آپ کی علمی قابلیت کا اقرار نہیں کیا وہ بڑا ہی بے انصاف ہے۔ میر سید ابراہیم کا دستور تھا کہ لوگوں کی جہالت، نا انصافی اوربےقدری کی وجہ سے گوشہ نشین ہوکر مطالعہ کُتب اور ان کی تص۔۔۔
مزید
ہم نے آپ کے متعلق ایسے عجیب و غریب حالات سنے ہیں جو تقریر و تحریر سے خارج ہیں صاحب حال درویش و مجذوب تھے، اکثر و بیشتر ننگے سر اور ننگے پاؤں رہتے، جنگلوں میں گھومتے تھے، صرف بمقدار ستر عورت کپڑا پہنتے تھے، علوم عقلی و نقلی و درسی میں آپ کو دستگاہ تھی، جب علمی گفتگو کرتے تو تفصیل سے خوب بیان کرتے، جواں سال تھے کسی آدمی یا کسی چیز سے کوئی تعلق نہ رکھتے، باجود غلبہ حال کے احکام شرعی کے پابند تھے، آپ کی نظر میں کسی دنیا دار کی کوئی عزت نہ تھی، آپ جس شہر یا گاؤں میں جاتے تو وہاں کے لوگ آپ کے معتقد ہوتے اور آپ سے بیعت کرنا چاہتے لیکن آپ کسی کو مرید نہ کرتے اور کہتے کہ میرا صرف ایک مرید ہے جس کا نام ہشام ہے اور وہ جنگلوں میں گشت کررہا ہے۔ آپ کو عالم نسبت سے فیض تھا جس کی وجہ سے آپ عربی، فارسی اور ہندی میں گفتگو کرتے اور بات میں بات نکالتے تھے اور خوب بیان کرتے تھے جب گفتگو کرتے کرتے جوش میں آتے ت۔۔۔
مزید
ابن بعکک ۔ کنیت ان کی ابو السابل بیٹے ہیں بعکک قریشی عامری کے ابو عمر ن ایساہی کہا ہے اور ابو موسی نے کہا ہے کہ حبہ جن کی کنیت ابو السنابل ہے بیٹے ہیں بعکک بن حارث بن سباق بن عبد الدار بن قصی کے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کا نام عمرو ہے ابو موسیکا یہ کہنا کہ یہ قبیلہ عبد الدار سے ہیں صحیح ہے۔ ابو عمر ن بھی کنیت کیباب میں ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے جیسا ابو موسی نے کیا اور کلبی نے بھی ان کو اسی طرح ذکر کیا ہے۔ یہ فتح مکہ کے نو مسلموں میں سے ہیں یہی ہیں جنھوںنے سبیعہ اسلمیہ سے ان کے شوہر کی وفات کے بعد نکاح کیا تھا۔ ہم ان کا ذکر کنیت کے باب میں ان شاء اللہ تعالی کریں گے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھا ہے اور ابن ماکولا نے کہا ہے کہ ان کا نام حبہ ہے حای مہملہ اور بای موحدہ کے ساتھ بیٹِ ہیں بعکک کی کنیت انک ی ابو السنابل ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ان کا نام حنہ ہے نون کے س۔۔۔
مزید
آپ شیخ محمد حسن کے مرید و خلیفہ تھے اور سلسلہ قادریہ کے مشائخ میں سے تھے۔ صاحب حال و کمال تھے، آپ کی بہت سی کرامتیں اور خوارق عادات مشہور ہیں ابتداء جوانی میں آپ نے علم دین حاصل کیا بعد میں آپ پر عشق و محبت کا مشرب غالب آیا، اور یہ بے حد ریاض و مجاہدہ کے بعد مرتبہ مشاہدہ پر پہنچ گئے۔ آپ کو سلسلہ عالیہ قادِریہ سے بے حد نسبت تھی اور آپ بلا واسطہ کے استفادہ حاصل کرتے تھے اور یہ کتنی بڑی بات ہے کہ بغیر واسطہ کے حضرت سے مستفیض ہوں، ہمیشہ مصائب و شدائد میں ثابت قدم رہتے تھے۔ سید صاحب کی دلجوئی کا انوکھا انداز: ایک مرتبہ ایک سید کسی نواب کے ہاتھوں قید کیا گیا آپ نے جب اس کو قید خانہ میں دیکھا تو بغیر کسی شنا سائی کے اس کی ضمانت کرلی اور بعد میں اس سید سے کہا کہ اب تم اس شہر سے کہیں دور چلے جاؤ میں تمہارے بدلے جیل میں بند ہوں گا چنانچہ اس سلسلہ میں آپ پر بے حد مصائب آئے سب کو خندہ پیشانی سے برداشت۔۔۔
مزید
ابن جنادہ بن نصر بن اسامہ بن حارث بن معیط بن عمرو بن جندل بن مرہ بن صعصعہ۔ مرہ بھائی ہیں عامر بن صعصعہ کے ان کی اولاد کو سلولی کہتے ہیں ان کی ماں کی طرف نسبت کرتے ہیں جن کا نام سلول بنت ذہل بن شیبان تھا کنیت انک ی ابو الجنوب تھی۔ ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے انھوںنے حجۃ الوداع میں نبی ﷺ کو دیکھا تھا۔ ان سے شعبی نے اور ابو اسحاق سبیعی نے روایت کی ہے۔ اسرائیل نے ابو اسحاق سے انھوں نے حبشی بن جنادہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا جو شخص بے ضرورت سوال کرتاہے وہ آگ کے انگارے کھاتا ہے ہمیں ابو اسحاق یعنی ابراہیم بن محمد بن مہران فقیہ نے اور کئی آدمیوں نے اپنی سند ے ابو عیسی یعنی محمد بن عیسی سے نقل کر کے خبر دی وہ کہت یتھے ہم سے علی بن سعید کندی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے عبد الرحیم بن سلیمان نے مجالد سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے حبشی بن جنادہ سے نقل ۔۔۔
مزید
کنیت نا کی ابو عقیل انصاری۔ یہ وہی ہیں جن پر منافقوں نے طعن کیا تھا جب یہ ایک صاع چھوہارے خیرات کے لئے لائے تھے پس اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی الذی یلمزون المطلوعین من المومنین فی الصدقات والذین لایجدون الاجہدہم فیسخرون منہم الایہ سعید نے قتادہ سے اللہ عزوجل کے قول الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقات والذین لایجدون الاجہدہم (٭جو لوگ صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جو اپنی مشقت سے روپیہ حاصل کرتے ہیں) کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ عبد الرحمن بن عوف اپنا نصف مال نبی ﷺ کے پاس لے آئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ یہ میرا نصف مال ہے جو میں آپ کے پاس لے آیا ہوں اور نصف اپنے بال بچوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے اس چیز میں جو تم نے دی اور جو تم نے باقی رکھ لی پس منافقوں نے ان پر طعن کیا کہ انھوں نے دکھانے سنانے کیل ئے اس قدر د۔۔۔
مزید
ابن حکم سلمی۔ انک و لوگ فرار بھی کہتے ہیں۔ فتح مکہ میں شریک تھے اور ان کے ساتھ بنی سلیم بھی تھے اور جب فتح مکہ کے دن رسول خدا ﷺ نے قبیلہ بنی سلیم کا جھنڈا باندھا تو فرمایا کہ میں یہ جھنڈا کس کو دوں لوگوں نے کہاں حبان بن حکم فرار کو دیجئے رسول خدا ﷺ کو فرار کہنا ناپسند ہوا پھر دوبارہ آپ نے ان سے پوچھا بعد اس کے آپ نے جھنڈا ان کو دے دیا اسی جھنڈے کو لے کر وہ فتح مکہ میں اور حنین میں شریک ہوئے پھر آپ نے جھنڈا ان سے لے لیا اور یزید بن اخنس کو دے دیا جو بنی زعب یمن سے تھے یہ ایک شاخ ہی قبیلہ سلیم کی ان کا ذکر ابو علی غسانی نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
شیخ حسن طاہر کے بڑے صاحبزادے اور اپنے زمانے کے بڑے عارف تھے، حال صحیح اور مشرب عالی رکھتے تھے، کہتے ہیں کہ جب آپ خلوت سے باہر آتے تو سب لوگ آپ کو دیکھ کر تعجب سے اللہ اکبر کہتے تھے، علم و حال اور مظاہر صوریہ سے متصف رکھتے تھے، والد کے مسلک کے لحاظ سے چشتی تھے لیکن سلسلۂ قادِریہ سے زیادہ نسبت رکھتے تھے، سالہا سال حرمِ مدینہ میں رہ کر رِسَالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی مجاوری کی، یمن کے علاقے میں جو مشائخ قادریہ موجود تھے ان سے بیعت کرکے اجازت بیعت لی، حاجی شیخ عبدالوہاب جب دوسری مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کے لیے گئے تو شیخ محمد حسن کو اپنے ساتھ وطن واپس لائے۔ جونپور میں آپ کی ولادت ہوئی آگرہ میں سکونت پذیر رہے اور دہلی میں 944ھ میں انتقال فرمایا، جے منڈل میں اپنے والد کے برابر ہی آپ کا مزار ہے۔ آپ نماز عصر کے بعد رات کا اس طرح انتظار کرتے تھے جیسے کوئی اپنے محبوب کا انتظار کرتا ہے، رات ہوتے۔۔۔
مزید
بکسر حاء اور بعض لوگ کہتے ہیں بفتح حاء مگر کسرہ زیادہ مشہور اور صحیح ہے۔ آخر میں باے موحدہ اور نون ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں یاے تحتانیہ ہے اس کا ذکر بھی ہوگا۔ یہ حبان بیٹے ہیں بج صدائی کے۔ نبی ﷺ کے پاس وفد بن کے آئے تھے۔ اور فتح مصر میں شریک تھے ابن لہیعہ نے بکر بن سوادہ سے انھوں نے زیاد بن نعیم حضرمی سے انوں نے حبان بن بج صدائی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھا نماز صبح کا وقت آگیا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ اے قبیلہ صداء کے بھائی اذان دو جب میں اذان دے چکا تو حضرت بلال اقامت کہنے کو آئے رسول خدا ﷺ نے فرمایاکہ جو اذان دے وہی اقامت کہے اس روایت میں ایسا ہی ہے۔ اس روایت کو بناء نے عبدہ اور یعلی سے انھوں نے عبد الرحمن بن نعم سے انھوں زیاد بن نعیم سے انھوں نے زیاد بن حارث صدائی سے روایت کیا ہے اور ایسا ہی بیان کیا ہے اور یہ مشہور بھی ہے مگر یہ حدیث بواسطہ افر۔۔۔
مزید