منگل , 26 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 14 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا) بصرہ (رضی اللہ عنہ)

  بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام بسرہ ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں فضلہ۔ انصاری۔ ان سے سعید بن مسیب نے روایت کی یہ کہ انھوں نے ایک کنواری عورت سے نکاح کیا جب اس سے خلوت کی تو اسے حاملہ پایا پس رسول خدا ﷺ نے ان دونوں کے درمیان میں تفریق کر دی اور فرمایا کہ جب اسے وضع حمل ہو تو اس پر حد جاری کرو اور اسے آپ نے مہر بھی دلوایا بعوض اس کے کہ بصرہ نے اس سے استمتاع کیا تھا۔ ہم بسرہ کے بیان میں اس حدیث کو ذکر کر آئے ہیں۔ ان کا تذکرہ ابنمندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)  ۔۔۔

مزید

سیدنا) بصرہ (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی بصرہ غفاری۔ یہ اور ان کے والد دونوں صحابی ہیں۔ ان کے والد کے نام میں اکتلاف ہے۔ ان دونوں کا شمار ان صحابہ میں ہے جو مصر میں جاکے رہے تھے۔ ہمیں مکی بن ریان بن شبہ نحوی مقری نے اپنی سن ے انھوں نے یحیی بن یحیی سے انھوں نے (امام) مالک بن انس سے انھوں نے یزید بن ہاد سے انھوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے انھوں نے ابو سلمہ سے انوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے میں کوہ طور گیا (وہاں سے لوٹتے ہوئے) بصرہ بن ابی بصرہ غفاری سے ملاقات ہوئی انھوں نے پوچھا کہ کہاں سے آرہے ہو میں نے کہا کوہ طور سے انھوں نے کہا اگر مجھ سے تم سے قبل اس کے کہ تم کوہ طور جاتے ملاقات ہوگئی ہوتی تو تم ہرگز نہ جاتے میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے ہے سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف مسجد حرام (یعنی کعبہ) اور میری مسجد اور مسجد بیت المقدس۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ حدیث ب۔۔۔

مزید

سیدنا) بشیر (رضی اللہ عنہ)

  غدوی۔ بالضم۔ یہ بشیر بیٹے ہیں کعب کے۔ کنیت ان کی ابو ایوب عدوی بصری۔ ابو موسی نے لکھا ہے کہ عبدان نے بیان کیا کہ م نے ان کو صحابہ میں اس وجہسے بیان کیا کہ ہمارے بعض مشائخ اور اساتذہ نے ان کا ذکر کیا ہے مگر ہمیں ان کا صحابی ہونا معلوم نہیں یہ ایک شخص ہیں جنھوںنے کتابیں پڑھی ہیں۔ طائوس نے حضرت ابن عباس سے رویتکی ہے کہ انھوں نے بشیر بن کعب عدوی سے کہا کہ فلاں فلاں حدیث پھر پڑھو چنانچہ انوںنے پھر رھیں پھر حضرت ابن عباس نے کہا کہ اچھا فلاں فلاں حدیثیں پھر پڑھو چنانچہ انھوں نے وہ بھی پڑھ دیں ور کہا کہ خدا کی قسم مجھے یہ نہ معلوم ہوا کہ آپنے میری سب حدیثوںکو برا سمجھا اور اس کو اچھا جانا یا اس کو برا سمجھ اور اوروں کو اچھا جانا حضرت ابن عباس نے کہا ہم رسول خدا ﷺ سے حدیثیں روایت کیا کرتے تھے جب آپ پر جھوٹ نہ جوڑا جاتا تھا مگر جب لوگوںنیہر قسم کی حدیثیں بنانا شروع کیں تو ہم نے حدیث بیان کرنا۔۔۔

مزید

سیدنا) بشیر (رضی اللہ عنہ)

  ان کی کنیت ابو رافع سلمی ہے۔ ان سے ان کے بیٹے رافع نے روایتکی ہے ہ ایک آگ (مقام) حبس سیل سے نکلے گی الخ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام بشیر بفتح باہے اور بعض لوگ بشر بکسر با و کون شین کہتے ہیں اور بعض لوگ بسر بضم با و سکون سین مہملہ کہتے ہیں یہ سب اختلافات اوپر گذر چکے ہیں۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

(اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)

x یہ بشیر ثقفی ہیں۔ یہ ابن ماکولا کا قول ہے۔ انکا صحابی ہونا اور روایت کرنا ثابت ہے۔ ان سے حفصہ بنت سیرین نے رویت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں رسول خدا ﷺ کے پس آیا اور میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ منت مانی تھی کہ اونٹ کا گوشت نہ کھائوں گا اور شربا نہ پیوں گا۔ تو رسول خدا ﷺ نے فرمایاکہ اونٹ کا گوشت تو کھائو ہاں شراب البتہ نہ پیو۔ ان کے نام میں لوگوں کا اختلاف ہے بعض لوگ بشیر کہتے ہیں بضم با اور بعض لوگ بجیر کہتے ہیں بضم با و جیم جیسا کہ گذر چکا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بشیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن یزید ضبعی۔ انھوںنے جاہلیت کا زمانہ بھی پایا تھا۔ ان کا شمار اہل بصرہ میں ہے۔ ابو عمر نے لکھاہے کہ خلیفہ بن خیاط نے ایک مرتبہ ان کا نام یزید بن بشر بتایا تھا مگر پہلا ہی قول زیادہمشہور ہے۔ ان سے ابو الاشب ضبعی نے رویت کی کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے ذی فار کے دن فرمایا آج عرب نے عجم سے انتقام لے لیا۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بشیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن نہاس عبدی۔ ابو موسینے کہا ہے کہ ان کا تذکرہ عبدان نے لکھاہے اور کہا ہے کہ یہ صحابی ہیں۔ انکی حدیث ابو عناب قرشینے یحیی بن عبداللہ سے انھوںنے بشیربن نہاس عبدی سے رویت کی ہے کہ انھوںنے کہا رسول خدا ﷺنے فرمایا کہ جب الہل کسی شخص کو ذلیل کرنا چاہتا ہیت و اسے علم سے محروم کر دیتا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسینے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بشیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن معبد۔کنیت انکی ابو بشر اسلمی ہے ان صحابہ میں ہیں جنھوں نے درخت کے نیچے بیعۃ الرضوان کی تھی ان کے بیٹیبشرنے بواسطہ ان کے نبی ﷺ سے رویت کیا ہے کہ حضرتنے فرمایاجو شخص اس ترکاری یعنیلہسن کو کھائے وہ ہمارے قریب آکے بات نہ کرے ابو عمر نے کہا ہے کہ  یہ محمد بن بشر بن بشیر اسلمی کے دادا ہیں ان کی اور حدیث بھی ہے وہ بھی ان کے بیٹے نے ان سے رویت کی ہیکہ ان کے پاس اشنان (٭اشنان ایک قسم کی خوشبو دار گھاس ہے) وضو کرنے کے لئے لایا گیا انھوں نے س کو اپنے داہنے ہاتھ میں لے لیا۔بعض گنواروں نیان پر اعتراض کیا تو انھوںنے کہا کہ ہم ہر اچھی (٭اچھی چیز سے مراد حلال اور پاک چیز) چیز کو اپنے داہنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔ انکا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) بشیر (رضی اللہ عنہ)

  ابن فدیک۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ انھوںنے نبی ﷺ کو صرف (٭یہ بعض لوگوںکے سبکے موافق ہے جو صرف نبی ﷺ کا دیکھ لینا صحابی ہونیکے لئے ناکفای سمجھتے ہیں بلکہ س میں یہ شرط لگاتے ہیں کہ اس نے نبی ﷺ سے روایت بھی کی ہے) دیکھا ہے اور ان کے والد صہابی ہیں۔ ابن مندہ نے بشیر بن فدیک کو بشیر حارثیکے علاوہ لکھاہے جن کا ذکر اوپر ہوا۔ ابو نعیم نے بشیر بن فدیک کے تذکرہ میں اوزاعی کی وہ حدیث بھی لکھی ہے جو انھوں نے زہری سے اور انھوںنے صالح بن بشیر بن فدیک سے رویت کی ہے کہ ان کے دادا دیک نبی ﷺکے حضور میں حاضر ہوئے اور عرض یا کہ یارسول اللہ (میں نے اب تک ہجرت نہیں کی اور) لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص ہجرت نہ کرے وہ نجات نہ پائے گا آپ نے فرمایا اے فدیک نماز پڑھو اور زکوۃ دو اور بری باتووں سے الگ رہو اور تم اپنیق وم کے ملک میں جہاں چاہے رہو (ہجرت کی کچھ ضرورت نہیں) اس حدیث کو اوزاعی نے ایک دوسری سندسے۔۔۔

مزید

سیدنا) بشیر (رضی اللہ عنہ)

  غفاری۔ انکا تذکرہ ایک حدیث میں ہے۔ ہمیں عمر بن محمد بن طبرزہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو ظاہر مخلص نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یحیی بن محمد بن صاعد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے سوار بن عبداللہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے عبد السلام بن عجلان عجفی نے ابو یزید مدینی سے انوں نے ابوہریرہ سے نقل کر کے بیان کیا کہ بشیر غفاری رسول خدا ﷺ کے حضور میں بلاناغہ حاضر ہوا کرتے تھے ایک مرتبہ تین دن تک رسول خدا ﷺ نے انھیں  نہ پایا تین دن کے بعد وہ اے تو انھیں حضرت نے اس حال میںدیھا کہ ان کے چہرے کا رنگ سرخ تھا آپنے فرمایا کہ تمہارا رنگ کیوں سرخ ہے انھوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک اونٹ فلاں شخص سے مول لیا وہ اونٹ بہت شریر نکلا میں نے اس کے متعلق کوئی شرط نہ کی تھی رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ سرکش اونٹ بغیر شرط کیے بھی واپس کیا جاسکتاہے بعد اس کے رسول۔۔۔

مزید