اے حبِّ وطن ساتھ نہ یوں سوے نجف جاہم اور طرف جاتے ہیں تو اور طرف جا چل ہند سے چل ہند سے چل ہند سے غافل !اُٹھ سوے نجف سوے نجف سوے نجف جا پھنستا ہے وبالوں میں عبث اخترِ طالعسرکار سے پائے گا شرف بہر شرف جا آنکھوں کو بھی محروم نہ رکھ حُسنِ ضیا سےکی دل میں اگر اے مہِ بے داغ و کلف جا اے کُلفتِ غم بندۂ مولیٰ سے نہ رکھ کامبے فائدہ ہوتی ہے تری عمر تلف جا اے طلعتِ شہ آ تجھے مولیٰ کی قسم آاے ظلمتِ دل جا تجھے اُس رُخ کا حَلف جَا ہو جلوہ فزا صاحبِ قوسین کا نائبہاں تیرِ دعا بہرِ خدا سُوے ہدف جا کیوں غرقِ اَلم ہے دُرِ مقصود سے منہ بھرنیسانِ کرم کی طرف اے تشنہ صدف جا جیلاں کے شرف حضرتِ مولیٰ کے خلف ہیںاے نا خلف اُٹھ جانبِ تعظیمِ خلف جا تفضیل کا جویا نہ ہو مولیٰ کی وِلا میںیوں چھوڑ کے گوہر کو نہ تو بہر خذف جا مولیٰ کی امامت سے محبت ہے تو غافلاَربابِ جماعت کی نہ تو چھوڑ کے صف جا کہہ دے کوئی ۔۔۔
مزید
ببارگاہِ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب بیاں کس منہ سے ہو اس مجمع البحرین کا رتبہ جو مرکز ہے شریعت کا طریقت کا ہے سر چشمہ بنا اس واسطے اللہ کا گھر جائے پیدائش کہ وہ اسلام کا کعبہ ہے یہ ایمان کا کعبہ وہ ہے خاموش قرآں اور یہ قرآن ناطق ہیں نہیں جس دل میں یہ اس میں نہیں قرآن کا رستہ دلہن زہرہ عمر داماد اور حسین سے بیٹے تری ہستی ہے اعلیٰ اور بالا تر ترا کنبہ نبی ﷺ کی نیند پر اس نے نماز عصر قرباں کی جو حاضر کر چکا تھا اس سے پہلے جان کا ہدیہ نہ کیونکر لوٹتا اس کیلئے ڈوبا ہوا سورج کہ جب اس چاند کے پہلو میں اک سورج کا تھا جلوہ تعالیٰ اللہ تیری شوکت تری صولت کا کیا کہنا کہ خطبہ پڑھ رہا ہے آج تک خیبر کا ہر ذرّہ مسلمانورسول اللہﷺ کی الفت اگر چاہو کرو اس کی غلامی جس کا ہر مومن ہوا بندہ ہو چشتی قادری یا نقشبندی سہروردی ہو ملا سب کو ولایت کا انہی کے ہاتھ سے ٹکڑا ہے صدقہ میل پھر اس پاک و ست۔۔۔
مزید
لکھوں کیا وصف میں شیرِ خدا کا علی اعلیٰ درِ خیبر کُشا کا زیادہ فکر و فہم و عقل سے ہے ثنائے ابنِ عمِّ مصطفیٰﷺ کا علی ہے پیشوا، ہادیّ و مولا تمامی امّتِ خیر الورا کا درِ حیدر کا جو کوئی گدا ہو نہ ہو محتاج وہ ظِلِّ ہُما کا کہیں کیوں کر نہ ہم ’’مولا‘‘ علی کو کہ ہے ارشاد ختم الانبیا کا شرف کحل الجواہر پر رکھے ہے یہ رتبہ ہے علی کی خاکِ پا کا تولّد وہ ہوئے کعبے کے اندر عجب رتبہ ہے شاہِ لافتا کا ہوا اُس سے منوّر قصرِ عرفاں وہ ہے سلطان ملکِ اولیا کا فضائل ھَلْ اَتٰی سے ہے ہُوَیْدا سزاوارِ خطابِ قُلْ کَفٰی کا یہ کافؔی تو گدائے خاکِ پا ہے جنابِ مستطابِ مرتضیٰ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی)۔۔۔
مزید