پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

سلطان علاؤ الدین خلجی کی نذر عقیدت

  سلطان علاؤالدین خلجی آپ کےروحانی تصرفات وکرامات کاشہرہ سن کرآپ کادل وجان سے شیدا و معتقدہوا،اس نےآپ کی خدمت میں تحائف پیش کرناچاہےاس کے امراءآپ(حضرت قلندر صاحب)کی خدمت میں جانےسےگھبراتےتھے۔ان پر آپ کاایسارعب تھاکہ آپ کےپاس جانے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔سلطان علاؤالدین نےحضرت نظام الدین(رحمتہ اللہ علیہ)سےاجازت لےکر حضرت امیرخسرو کوتحائف دےکرآپ کی خدمت میں روانہ کیا۔۱؎ حضرت امیرخسروجب تحائف لےکرآپ کی خدمت میں پہنچےتوآپ نےان سے دریافت فرمایا کہ۔ "خسروہیڑی گوتجھ ہی کوکہتےہیں"؟ (خسروگانےوالاتجھ ہی کوکہتےہیں)۔ حضرت امیرخسرو نےجواب دیا۔ "جی ہاں،اسی ناچیزکوکہتےہیں"۔ آپ نے حضرت امری خسروسے پھرکلام کی فرمائش کی اورفرمایا۔ "ازچیزہائےخودچیزےبگو"(اپناکچھ کلام سناؤ) حضرت امیرخسرونےحسب ذیل غزل آپ کو سنائی۔۲؎ اےکہ گوئی ہیچ سختی چوں فراق یارنیست گرامیدوصل باشدآں چناں وشوارنیست عاشقاں۔۔۔

مزید

قافی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی

قافی القضاۃ حضرت سعد بن شمس الدین نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قاضی القضاۃ سعد بن شمس الدین محمد بن عبداللہ بن سعد بن ابی بکر ویری نابلسی: منگل کے روز ۱۷؍رجب۷۶۸؁ھ کو پیدا ہوئے،ابو السعادات کنیت اور سعد الدین لقب تھا۔اصل میں شہر دیر کے جو شہر نابلس کے پاس واقع ہے،رہنے والے تھے چنانچہ اسی لیے ابن الدیری کے نام سے معروف تھے مگر اخیر کو قاہرہ میں آکر مقیم ہوئے،برے ذکی اور ذی حافظہ تھے،پہلے اپنے والد سے علم پڑھنا شروع کیا اور قرآن کو حفظ کر کے بہت سی کتابیں ۱۲روز کے عرصہ میں حفظ کیں پھر کمال سریحی اور حمید الدین اور علاء بن نقیب اور شمس بن خطیب شافعی سے استفادہ کیا اور شمس قونوی صاحب ورد البحار اور حافظ الدین صاحب فتاویٰ بزازیہ کی صحبت کی اور برہان ابراہیم بن زین عبد الرحیم بن جماعہ سے روایت احادیث کی سندلی یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے امام علامہ اور فقیہ فہامہ ہوئے استحضار مسائل مذہیبہ اور سریع اد۔۔۔

مزید

حضرت مولوی میر باز خان

حضرت مولوی میر باز خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی الہٰ آبادی

حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی الہٰ آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خطیب شہیر حضرت مولانا مشتاق احمد نظامی ابن حاجی محرم علی، ۱۵؍اگست ۱۲۲۹؁ء کو اپنےوطن پھول پور ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے، دس برس کی عمر میں درجہ چہارمپاس کر کے الہ آباد کے مشہور مدرسہ سُبحانیہ میں داخل ہوئے، اور علامہ نظام الدینبلیاوی مدظلہ سے معقول ومنقول کی امہات کتب کےعلاوہ صحاح ستہ کا دور کیا اور سند فراغت حاصل کی، رئیس التارکین بقیۃ السلف حضرت مولانا شاہ محمد حبیب الرحمٰن قادری مدظلہٗ العالی سے بھی، جو کہ اس زمانہ میں مدرسہ سبحانیہ کےصدر مدرس تھے چند کتابیں پڑھیں اور بیعت کا تعلق قائم کیا،مدرسہ سُبحانیہ میں درس دیا، اور عالم، مولوی کا کورس مدرسہ مصباح العلوم میں پڑھایا، ایک سال جامعہ حبیبیہ میں تدریسی فرائض انجام دیئے، آپ کو درس نظامی کے جملہ علوم و فنون میںپوری بصیرت حاصل ہے، پورےہندوستان میں آپ کی خطابت کا غلغلہ ہے: بڑے بڑے۔۔۔

مزید

حضرت مفتی غلام محمد لاہوری

حضرت مفتی غلام محمد لاہوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبدالحیٔ چشتی جونپوری

حضرت شیخ عبدالحیٔ چشتی جونپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

حضرت آغا محمد ترک بخاری دہلوی

حضرت آغا محمد ترک بخاری دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

فقیہ اعظم خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی

فقیہ ِاعظم خلیفۂ  اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:محمد شریف۔کنیت:ابویوسف۔لقب:"فقیہِ اعظم" اعلیٰ حضرت  امامِ اہل سنت نے عطا کیا۔والد کااسمِ گرامی:حضرت مولانا عبدالرحمن نقشبندی  علیہ الرحمہ ،جوکہ ایک متبحر عالمِ دین تھے۔ان کے  علم وفضل کاشہرہ پورے ہندوستان میں تھا۔اسی طرح ان کی اہلیہ محترمہ بھی ایک عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔ سنِ ولادت: 1861کو" کوٹلی لوہاراں غربی"ضلع  (سیالکوٹ، پنجاب،پاکستان) میں مولانا عبد الرحمن کے گھر پیداہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر منتہی درجوں تک کی تعلیم اپنے والدِگرامی سے حاصل کی،اسی طرح علمِ مناظرہ کی باریکیاں  بھی اپنے والدِ گرامی سے بچپن میں ہی سیکھ لیں تھیں۔والد صاحب کے انتقال کےبعد مزید علم کی تحصیل کے لئےلاہورمیں "دارالعلوم انجمن نعمانیہ"میں داخلہ لیا۔حضرت فقیہِ اعظم علیہ الرحمہ۔۔۔

مزید

فقیہ اعظم خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی

فقیہ ِاعظم خلیفۂ  اعلیٰ حضرت مولانا محمد شریف کوٹلوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:محمد شریف۔کنیت:ابویوسف۔لقب:"فقیہِ اعظم" اعلیٰ حضرت  امامِ اہل سنت نے عطا کیا۔والد کااسمِ گرامی:حضرت مولانا عبدالرحمن نقشبندی  علیہ الرحمہ ،جوکہ ایک متبحر عالمِ دین تھے۔ان کے  علم وفضل کاشہرہ پورے ہندوستان میں تھا۔اسی طرح ان کی اہلیہ محترمہ بھی ایک عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔ سنِ ولادت: 1861کو" کوٹلی لوہاراں غربی"ضلع  (سیالکوٹ، پنجاب،پاکستان) میں مولانا عبد الرحمن کے گھر پیداہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر منتہی درجوں تک کی تعلیم اپنے والدِگرامی سے حاصل کی،اسی طرح علمِ مناظرہ کی باریکیاں  بھی اپنے والدِ گرامی سے بچپن میں ہی سیکھ لیں تھیں۔والد صاحب کے انتقال کےبعد مزید علم کی تحصیل کے لئےلاہورمیں "دارالعلوم انجمن نعمانیہ"میں داخلہ لیا۔حضرت فقیہِ اعظم علیہ الرحمہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ شہود الحق اصدقی

حضرت مولانا شاہ شہود الحق اصدقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت مولانا سید شاہ قیام الدین اصدق قدس سرہٗ کے بڑے صاحبزادے، سہود الحق نام نامی زہد وتقویٰ،فقرو توکل میں والد کے نمونہ، عالم متجر ،مجود،وقاری،والد ماجد کے مرید ہوئے شب سہ شنبہ ۲۷ صفر المظفر ۱۲۹۵ھ میں والد ماجد سے خلافت پائی اور سجادہ نشین ہوئے،شادی نہیں کی،یوم شنبہ ۶ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ میں راہئ عالم جادداں ہوئے،قطعۂ تاریخ وفات یہ ہے جانشین شہ قیام اصدقبود آں باصفا شہودالحقگفت تاریخ رحلتش ہاتفبودسر خدا شہودالحق۔۔۔

مزید