پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

حضرت شیخ عبدالرحمٰن پاک بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ

  ؂ درمناقب ذاتِ پاک عبدِ رحماں اولیأ کہ بیک نظراز بلائے شکم برہاندعیاں شاہِ رحمان شاہِ ملکِ بقا زدبمیدانِ لامکان لوا بوداز جامِ عشق مست الست دُور از دل نمود حرص وہوا ہرکہ بیمارِ ناتواں مے بود یافتے از عطاش زود شفا شد زافراطِ جذب مجنوں دار تازلیلی مراد دیدلقا سرمہ چشمِ خلق شد اشرف ہرکہ شد خاکِ درگہِ نوشا۱؎ اوصاف جمیلہ آپ شاہبازِ آشیانِ عزّت وعرفان رعنقائے قافِ قربت وایقان سیّاحِ مُلکِ وحدت ولامکان،غواصِ بحرِحقیقت وفیضان،گوہر آبدار لُجّہ استغراق،مخمورِ نشہِ جامِ اشراق،صاحب جذب و محویت و عشق و محبّت وذوق و شوق و وجد سماع تھے۔فقر و طریقت میں شان بلند رکھتے تھے۔ حضرت سید حافظ شاہ حاجی  نوشہ گنج بخش علوی قادری قدس سرہ العزیزکے اکابرخلفأ اور اعاظم اصحاب سےتھے۔ ۱؎کنزالرحمت ۱۲ سیدشرافت نام ولقب آپ کانام نامی عبدالرحمٰن لقب شاہ رحمان ،پاک رحمان۔۔۔

مزید

شیخ فضل شاہ رنملوی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ شیخ گوہرشاہ بن شیخ ماہی شاہ صاحب رنملوی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔بیعت و خلافت  شیخ فرمائش دین بن شیخ رحمت علی صاحب سلیمانی پیجوکوٹی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔وہ مرید سید احمد بخش بن سید اللہ دتہ صاحب برخورداری ساہنپالوی ڈھلوی رحمتہ اللہ علیہ کے تھے۔جن کا ذکر طبقہ دوم کے ساتویں باب میں گذرچکاہے۔ اخلاق وعادات آپ نہایت متواضع اور خلیق و حلیم الطبع تھے۔اِس قدرمحبّت و پیارآپ کے وجود میں بھراہواتھا۔جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔جوشخص آپ کو ملتااس کو ایسامعلوم ہوتا کہ جس قدرآپ کا پیار مجھ سے ہے۔اس قدر کسی اورسے نہیں۔فقیروں درویشوں سے محبّت کرتے۔ خودی۔ تکبّر۔غرور۔ریاکاری سے بالکل مجتنب رہتے۔ مؤلف کتاب ہذاکے ساتھ نہایت شفقت رکھتے تھے۔جب کبھی مجھے زیارت کاشرف حاصل ہوتا۔تو ایسامعلوم ہوتاکہ گویاآپ مجھ پر شیداہیں۔میں کہتاہوں کہ اگر  "خُلق"کی کوئی حِسّی جسدی صورت ہوتی تو وہ ضرو۔۔۔

مزید

حافظ حاجی شیخ علی محمد چاوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ حافظ حاجی شیخ شمس الدین بن شیخ قطب الدین صاحب سلیمانی چاوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند اکبرتھے۔فیضانِ طریقت میرے جدامجد حضرت مولاناسیدمحمد شاہ صاحب نیک اختر بن سید محمد امین صاحب مختارالسالکین برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ سے پایا۔جن کا ذکر طبقہ اوّل میں گذرچکا ہے۔ ایک بارآپ برگ ہائے سبزلے کراُن کی خدمت میں حاضرہوئےاور عرض کیاکہ میں بڑے بڑے مشائخ اور پیروں کو دیکھ کرآیاہوں۔صرف حضور کی ذات میں نورکاشعلہ نظرآیاہے۔مجھ پربھی کچھ مہربانی ہوجاوے۔حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ نے آپ کو اورادووظائف تلقین فرمائے۔ آپ قرآن مجید کے حافظ تھے اور حرمین الشریفین زادھمااللّٰہ شرفاًوتعظیماًکے حج کی سعادت سے بھی مشرف ہوئے۔ اولاد آپ کے چار بیٹے تھے۔ ا۔صاحبزادہ محمد الدین صاحب رحمتہ اللہ علیہ۔ ۲۔صاحبزادہ منظورحسین صاحب رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۳۔صاحبزادہ نورحسین صاحب رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۴۔صاحبزادہ ۔۔۔

مزید

شیخ فیض احمد ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ شیخ غلام محمد بن شیخ شرف الدین صاحب چاوہ والہ کے دوسرے فرزند تھے۔بیعت طریقت اپنے عم بزرگ شیخ عمرالدین بن شیخ شرف الدین صاحب سلیمانی ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ بچپن میں قرآن کی تعلیم پائی تھی۔ عادات و اطوار آ پ نوجوان نیک طبیعت ۔نحیف البدن ۔نازک مزاج تھے۔آپ کے والد صاحب تو چاوہ شریف میں رہتے تھے۔آپ اپنے عم بزرگ شیخ شاہ محمد صاحب ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کی لڑکی سرداربی بی سے شادی شدہ تھے۔اس لیے یہیں سُسرال کے گھرمیں آرہے۔برادری کے مناقشات میں حِصّہ کم لیتے۔ اولاد آپ کے چار بیٹے ہوئے۔ ۱۔صاحبزادہ فقیراحمد الملقب بہ پیرصاحب ۔یہ اچھے اخلاق والے۔عبادات کا شوق رکھتے ہیں۔ علم موسیقی کے بھی شائق ہیں۔۱۳۷۵ھ؁ میں موجود ہیں۔ساہنپال شریف میں سکونت رکھتے ہیں۔اپنے ناناصاحب شیخ شاہ محمد صاحب کے گھرکے وارث ہوئے ہیں۔سلمہ اللہ۔ ۲۔صاحبزادہ بشیر احمدرحمتہ اللہ علیہ ۔بعمر اٹھارہ سال بعار۔۔۔

مزید

شیخ فیض احمد ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ شیخ غلام محمد بن شرف الدین صاحب چاوہ والہ کے دوسرے فرزندتھے۔بیعت طریقت اپنے عم بزرگ شیخ عمرالدین بن شیخ شرف الدین صاحب سلیمانی  ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ بچپن میں قرآن کی تعلیم پائی تھی۔ عادات واطوار آپ نوجوان نیک طبیعت ۔نحیف البدن ۔نازک مزاج تھے۔آپ کے والد صاحب تو چاوہ شریف میں رہتے تھے۔آپ اپنے عم بزرگ شیخ شاہ محمد صاحب ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کی لڑکی سردار بی بی سے شادی شدہ تھے۔اِ س لیے یہیں سُسرال کے گھرمیں آرہے۔ برادری کے مناقشات میں حصّہ کم لیتے۔ اولاد آپ کے چار بیٹے ہوئے۔ ۱۔صاحبزادہ فقیراحمدالملقب بہ پیرصاحب۔یہ اچھے اخلاق والے۔عبادات کا شوق رکھتے ہیں۔علم موسیقی کے بھی شائق ہیں۔۱۳۷۵ھ؁ میں موجودہیں۔ساہنپال شریف میں سکونت رکھتے ہیں۔اپنے ناناصاحب شیخ شاہ محمد صاحب کے گھر وارٖ ث ہوئے ہیں سلمہ اللہ۔ ۲۔صاحبزادہ بشیراحمد رحمتہ اللہ علیہ ۔بعمراٹھارہ سال بعارضہ ۔۔۔

مزید

شیخ محمد عالم ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ شیخ شاہ محمد بن شیخ شرف الدین صاحب ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔بچپن میں نظربندہوگئی تھی۔قرآن مجید کے چند سیپارے حضرت سیدہ محمد بی بی صاحب بنت سید محمد امین صاحب برخورداری رحمتہ اللہ علیہ سے پڑھے۔ عادات آپ رمضان شریف کے روزے بڑی پابندی سے رکھتے۔آپ کی زبان سیف تھی۔لوگ مخالفت کرنے سے جھجکتےتھے۔سادہ طبیعت ۔منکسرالمزاج تھے۔ دانشمندی آپ باوجودنابیناہونے کے اپنے تمام گاؤں کے گھروں میں بغیر لاٹھی کے اور بغیرکسی کاہاتھ پکڑنے کے خود بخود چلے جاتے۔بان بڑاعمدہ باریک بٹ لیاکرتے۔گائیں رکھنے کا شوقتھا۔اُن کے لیے چارہ گھاس وغیر ہ لے آتے۔صرف ہاتھ لگانے سے اپنے مویشی پہچان لیتے۔ دودھ دوہ لیتے۔چارہ کُترلیتے۔ ایک بار ماہ چیت میں رمضان شریف کا مہینہ تھا۔مغرب کی نماز ہم نے مسجد میں پڑھی ناگہاں سخت سیاہ آندھی چڑھ گئی۔تمام نمازی مسجد میں گِھرگئے۔سب اندھیر ا چھاگیا۔کوئی چیز نظرنہ ۔۔۔

مزید

حاجی شیخ مراد علی جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ

  خلف الرشیدشیخ محمدالدین بن شیخ اعظم الدین بن شیخ رکن الدین بن شیخ بودلے شاہ بن شیخ حمزہ صاحب سلیمانی جوکالوی رحمتہ اللہ علیہ ۔ آپ کی بیعتِ طریقت شیخ عمرالدین بن شیخ شرف الدین صاحب سلیمانی ساہنپالوی سے تھی۔ عبادات آپ شریعت کے پابندوظائف پر مواظبت رکھنے والے تھے۔نماز پنجگانہ پڑھتے ۔نوافل تہجد اور اشراق بھی اداکرتے۔نماز جمعہ کے واسطے بڑے اہتمام سےد ریائےچناب سے پارگذرکرحضرت کیلیانوالہ میں جاتےاور پیر نورالحسن شاہ صاحب نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ کی مسجدمیں پڑھتے۔صدقہ فطراور قربانی وغیرہ واجبات اداکرتے۔ تلاوتِ قرآنِ کریم بھی کرتے۔ حج حرمین الشریفین آپ کے گھرغربت اور افلاس بہت تھی۔مگرآپ کے دل میں زیارات حرمین الشریفین کا شوق غالب تھا۔اس لیے آپ کافی عرصہ گدائی کرتے رہے۔حتیٰ کہ راستہ کاخرچ بن گیا۔آپ سات سو روپیہ زادراہ لے کر روانہ ہوئے اور سعادت حج سے مشرّف ہوکر واپس تشریف لائے۔ جس روزا۔۔۔

مزید

شیخ گوہرشاہ رنملوی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ شیخ ماہی شاہ بن شیخ مَوج الدین صاحب سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے تھے۔ بیعت و خلافت شیخ نظام الدین بن شیخ عطأ اللہ صاحب سلیمانی گھنگوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔ اخلاق کریمانہ آپ صاحب حسن خَلق ۔نیک طینت تھے۔اپنے وقت میں اپنے معاصرین سے بڑھ کر عزّت و اقبال آپ کو حاصِل تھا۔ہرکسی سے پیارومحبّت کرتے۔آپ سے خوارق و کرامات کابھی ظہورہوتاتھا۔ تاثیر نگاہ سید محمد حسین بن سید بنے شاہ صاحب ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے تھے۔کہ ایک مرتبہ آپ کے بڑے بیٹے شیخ ملک شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ پر قتل کا مقدمہ بن گیا۔ حوالدار معہ پولیس ان کو گرفتار کرنے کے لیے موضع رَن مل میں آیا۔آپ نے حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے روضہ اطہر میں دُعامانگی کہ خداتعالےٰ پولیس کے شرسے بچاوے۔امرالٰہی ایسا ہواکہ رات کو حوالدارکوٹھے پر سویاتوچارپائی سے نیچے گرپڑا۔تین مرتبہ ایساہوا۔آخر ۔۔۔

مزید

حافظ حاجی شیخ شمس الدین چاوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ شیخ قطب الدین بن شیخ محمد غوث صاحب چاوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کےفرزندارجمندتھے۔خرقہ خلافت و اجازت شیخ غلام حسن بن شیخ بڈھاصاحب سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ تعلیم آپ نے ابتدأ میں قرآن مجید حفظ کیااور قدرے تعلیم ظاہری بھی پائی ۔ اسرارطریقت و حقیقت سے واقف تھے۔ اخلاق و عادات آپ خلیق ،حلیم الطبع،شریعت کے پابندتھے۔عبادات و طاعات میں یکتا تھے۔ حرمین شریفین کے حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔ فیض صحبت کا حصول آپ ہرسال عُرس بِھڑی شاہ رحمان پر حاضرہواکرتے۔وہاں حضرت مولانا سیدحافظ قُل احمد صاحب پاک ذات نوشاہِ ثانی برخورداری ساہنپالوی رحمتہ اللہ علیہ کی ملاقات و زیارت سے مستفیض ہاکرتے اور قرآن مجید کا دَورکیاکرتے۔اُن کی صحبت سراپابرکت سے فیض حاصل کیاکرتے۔ سورۂ یٰسٓ کی اجازت دینا ایک مرتبہ سائیں علم الدین فقیر نوشاہی برقندازی ساکن کرنب بلوچ ضلع راولپنڈی نے آپ کی خدمت میں عرض ۔۔۔

مزید

شیخ فیض احمد بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ شیخ غلام حسن بن شیخ بُڈھاصاحب سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر اورسجادہ نشین تھے۔بیعت و خلافت اپنے بڑے بھائی شیخ غلام حسین صاحب موتیانوالہ سےپائی۔ تاریخ ولادت آپ کی ولادت ۱۲۹۶ھ؁ میں ہوئی۔ جذب وجلالیت آپ کی طبیعت میں جذب وجلالیت بہت تھا۔کسی کو سامنے کُھلم کُھلا گفتگو کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔اورادِ قادریہ سے واقف تھے۔آپ کو اپنے والد صاحب کی دُعاتھی۔ جوکچھ زبان سے نکالتےخداوند عزاسمہٗ پُوراکردیتا۔کئی بے اولادوں کو آپ کی دعاسے اولاد ہوئی۔ آپ بڑے درازقد ۔بھاراجسم۔لحیم۔شحیم تھے۔چہرہ بارعب تھا۔اَن پڑھ تھے۔موٹی زبان میں گفتگو کیاکرتے۔ منصب سجادگی جب آپ کے والدشیخ غلام حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ہوئی ۔تو اُن کے بعد خلافت و سجادگی کے متعلق دونوں بھائیوں کاآپس میں تنازعہ ہوگیا۔شیخ فضل حسین صاحب بڑاہونے کی حیثیت سے سجادگی کاحق زیادہ رکھتےتھے۔مگرآپ نے مقدّمہ کرکے م۔۔۔

مزید