پیر , 08 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 19 October,2026

حضرت شیخ علاؤالدین نیلی

آپ اودھ کے عالمِ اجل  تھے آپ کا ظاہری اور باطنی مزاج عالمانہ تھا لیکن صوفیانہ طرزِ ندگی کو اپنائے رکھتے تھے۔ اگرچہ آپ کو حضرت سلطان المشائخ سے خرقۂ خلافت  و اجازت ملا تھا، لیکن کسی کو بیعت نہیں کیا کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے اگر میرے پیر و مرشد زندہ ہوتے تو میں یہ اجازت نامہ انہیں  واپس کردیتا، کیونکہ  مجھ جیسے ناکارہ آدمی سے اتنی عظیم ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی۔ میر حسن علائی سنجری کی کتاب فوائد الفوائد جو حضرت خواجہ نظام الدین کے ملفوضات پر مشتمل ہے اپنے قلم سے لکھ کر ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے اور  دن رات مطالعہ کرتے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ تصوف، فقہ، حدیث اور تفسیر کی ہزاروں کتابیں آپ کے پاس موجود ہیں، مگر آپ سوائے فوائد الفواد کے کسی میں دلچسپی نہیں لیتے اور اسے تعویذ بناکر پاس رکھتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سلوک کی کتابوں سے سارا جہاں بھرا پڑا ہے مگر میرے پیر و مرشد ک۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سراج الدین چشتی

آپ چشتیہ  سلسلہ کے مشہور مشائخ میں شمار ہوتے ہیں آپ نے سلسلہ سہروردیہ سے بھی فیض پایا تھا زاہد۔ متقی۔ عاشق۔ بعشق الٰہی دنیا داری سے کوئی واسطہ نہ تھا روزی کے معاملہ میں بڑے محتاط تھے حلال کا رزق حاصل کرنے کے لیے مختصر سی کھیتی باڑی کرلیا کرتے تھے ایک وقت آیا کہ ملک میں بعض حوادثات کی وجہ سے کاشتکاری میں بھی روکاوٹ آگئی تو بھوک اور فاقہ اختیار کرلیا کئی بار ایسا ہوتا  کہ یوں پورا ہفتہ لقمہ نہ ملتا اگر کوئی کھانا لاتا تو شبہ کی بنا پر دوسروں کو کھلا دیتے اور خود دست  کش رہتے آپ اسی خیال میں آخری دم تک کھانے سے اجتناب کرتے رہے۔ ایک بار آپ نے اپنے گھر کھانا تیار کرایا جب کھا  چکے تو فرمانے لگے کہ آج مجھے اس  کھانے  سے بوجھ اور کدورت محسوس ہوئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کچھ ملاوٹ کی گئی ہے کھانا تیار کرنے والوں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ نہایت احتیاط سے کھ۔۔۔

مزید

شیخ عبدالعزیز بن حسن طاہر قدس سرہ

آپ قاضی خان ہشتمی کے خلیفہ خاص تھے۔ زہد و تقوی میں بے مثال تھے تجرید و تفرید میں باکمال تھے علم و رضا صبر و تحمل میں درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے جس پر نگاہ ڈالتے خدا  رسیدہ بنا دیتے تھے حالت  وجد و  سماع میں حالت اضطراب میں رہتے تھے آپ نے مجلس سماع میں ہی جان دے دی اس آیت کریمہ فَسبُحان الذی بیدہ الملکوت کل شی والیہ ترجعون کی سماعت پر جان دے دی۔ آپ کو جو شخص ایک بار دیکھتا سبحان اللہ سبحان اللہ پکار اٹھتا۔ آپ کی ولادت جونپور میں ۸۹۸ھ میں ہوئی اور وفات چھ مجاوی آلاخر ۹۷۵ھ کو ہوئی شیخ عبدالحق دہلوی نے اخبار الاخیار میں آپ کا قطعہ وصال اس طرح لکھا ہے۔ شیخ کامل عارف دَورانِ خود عبدالعزیز آنکہ می داد اہل دل رامجلسش یا داز بہشت ہرچہ از اوصاف اہل اللہ در عالم بود حق تعالیٰ را دل فطرت بذات اوسرشت یاد گار اہل حقیقت او بود  ور دورانِ خویش گشت زاں تاریخ خوئش یادگار اہل چشت ۸۹۸ھ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حمید قلندر

آپ حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی قدس سرہ کے خلیفہ تھے بچپن میں اپنے والد مکرم کے ساتھ حضرت خواجہ محبوب الٰہی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مرید ہوئے۔ حضرت خواجہ کے وصال کے بعد آپ کے خلفائے کرام سے استفادہ کیا مولانا برہان الدین غریب، شیخ نصیرالدین  چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہما کے علاوہ دوسرے خلفاء سے سلوک چشتیہ میں تربیت پائی حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی کے ملفوظات میں ایک کتاب بحرالمجالس ترتیب دی یہ کتاب ۷۵۰ھ سے ۷۶۰ھ کی مجالس کے احوال پر مشتمل ہے۔ آپ بڑے کامل شاعر اور سخنور تھے۔ اگرچہ آپ قلندری سلوک کے بھی واقف تھے مگر قلندرانہ زندگی بسر نہیں کی تھی۔ ایک دن آپ بچپن میں اپنے والد کے ساتھ حضرت خواجہ محبوب الٰہی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت خواجہ نے دستر خوان بچھایا تو آپ نے ایک روٹی کے دو حصے کرکے ایک حصہ آپ کو دیا، شیخ حمید نے یہ روٹی کھانے کی بجائے اپنے پاس رکھ لیا ور باپ کے ساتھ باہ۔۔۔

مزید

شیخ ادہن چونپوری قدس سرہ

آپ حضرت شیخ بہاؤالدین جونپوری رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے تھے اور وقت کے بڑے مشائخ میں سے مانے جاتے تھے آپ کی عمر سو سال سے بھی زیادہ تھی آپ اس قدر ناتواں اور ضعیف تھے کہ جب تک آپ کو دونوں بازوؤں سے سہارا نہ دیا جاتا تھا اٹھ نہ سکتے تھے مگر اس ناتوانی کے باوجود مجلس سماع میں جب آپ پر رقت طاری ہوتی تو بغیر کسی سہارے کے اُٹھ کھڑے ہوتے وجد میں آجاتے اور یوں دکھائی دیتا کہ آپ پوری طرح تندرست  ہیں۔ جن دنوں آپ کے والد حضرت  شیخ بہاء الدین اپنے پیر و مرشد شیخ عیسیٰ قدس سرہ کی خدمت میں رہا کرتے تھے تو  ہر روز صبح کی نماز حضرت شیخ کے پیچھے ادا کیا  کرتے تھے آپ نے کبھی تکبیر اولیٰ قضا نہ  کی ایک بار حضرت شیخ بہاء الدین کا ایک لڑکا فوت ہوگیا آپ تجہیز و تکفین میں مصروف رہے تو آپ کی تکبیر اولیٰ قضا ہوگئی اور آپ صبح کی نماز  کی جماعت میں تشہد میں جا کر  ملے نماز کے بعد حضرت۔۔۔

مزید

حضرت سید محمد بن مبارک

آپ شیخ نصیرالدین محمود کے بڑے خلیفہ تھے اور سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید تھے۔ اگرچہ آپ نے بچپن میں سلطان مشائخ سے بیعت کرلی تھی، لیکن تکمیل کے مراحل شیخ نصیرالدین کی نگرانی میں گزرے اس طرح آپ سلطان المشائخ کے اویسی تھے اور کئی بار خواب میں اُن کی زیارت بھی کی تھی اور ان سے خواب میں بیعت بھی کی، آپ کے والد اور دادا   بھی حضرت شیخ کے مقربین میں سے تھے۔ مبارک بن سید محمد کرمانی سیرالاولیاء کتاب لکھی، یہ اتنی بے مثال اور مستند کتاب ہے جس میں چشتی بزرگوارانِ دین کے احوال درج ہیں، یاد رہے چشتی بزرگوں کے تذکرے میں سیرالاولیاء کے نام سے دو کتابیں مشہور و معروف ہیں۔ ایک بدرالدین اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی، جس میں حضرت خواجہ فرید شکر گنج کے ملفوظات ہیں، دوسری اسی نام کی کتاب سید محمد بن مبارک کرمانی کی ہے۔ شجرۂ چشتیہ میں آپ کا سن وفات سات سو ستر ہجری ہے۔ جبکہ فیروز شاہ ت۔۔۔

مزید

حضرت شیخ یوسف چشتی

آپ بھی شیخ محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ اور مرید تھے ظاہری علوم فقہ حدیث تفسیر میں بڑے ماہر تھے، آپ کی ایک مشہور کتاب تحفۂ نصائح ہے۔ اس میں احکام شرع فرائض اور سنتیں درج ہیں بڑی خوبصورت نظم میں لکھی گئی ہے اُس کا ہر ایک شعر لفظ پر ختم ہوتا ہے۔ کتاب کے آخر میں اپنے پیر کی یوں تعریف لکھتے ہیں: شیخ معظم پیر ما محمود آں صاحب قرآن چوں اونبا شد ہیچ کس ہم محتشم ہم معتبر عالم بعالم مثل او ہرگز ندیدہ مردمی اندر کرامت مثل او خیز  و کجا دور قمر او بود شیخ مقتدا اور جائے مقتدا گشتند داعمی دیدہا چوں رفت آں اہلِ نظر گوہد یمی یوسف گدا در وعظ سخنے چند را از بر خلف خوش لقابو الفتح آں ابوالنصر آپ کی وفات ۷۷۴ھ میں ہوئی تھی۔ یوسف دین احمدی یوسف کرد چوں از جہاں بخلد مکان رحلتش یوسف حقیقت گو یوسف حسن ماہ تاباں داں ۔۔۔

مزید

شیخ محمد طاہر گجراتی قدس سرہ

آپ شیخ علی متقی کے مرید خاص تھے آپ گجرات میں بسنے والی قوم بوہڑہ سے تعلق رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو علمی اور روحانی کرامات سے نوازا تھا حرمین الشریفین میں ایک عرصہ تک رہے وہاں کے علماء مشائخ سے علمی استفادہ کرتے رہے۔ شیخ علی متقی کے بھی خاص شاگرد رہے۔ ایک عرصہ کے بعد واپس وطن آئے وطن میں آکر آپ نے اپنے علاقہ اور خاص کر اپنے قبیلوں میں رائج بدعات کی بیخ کنی شروع کردی اور لوگوں کو علم حدیث کی تعلیم دینے کے لیے کئی مدارس قائم کیے پھر تشریح احادیث پر بڑی مفید کتابیں لکھیں ان میں ایک کتاب صحابۂ کرام کے ذکر خیر میں ہے جس کا نام مجمع الجار ہے ایک اور کتاب جس میں اسماء الرجال کی تصحیح کی گئی ہے لکھی یہ بڑی مختصر مگر چند کتابیں ہیں۔ آپ نے اپنی تصانیف میں اپنے استاد علی متقی قدس سرہ کی بڑی تعریف کی ہے آپ اپنے پیر اور مرشد کی وصیّت کے مطابق اپنے شاگردوں کے لیے خود سیاہی تیار کرتے تھے۔ بعض اوقات س۔۔۔

مزید

شیخ رزق اللہ قدس سرہ

آپ حضرت مصباح العاشقیں ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے آپ کے والد نے  شیر خوار گی کے دنوں میں ہی حضرت ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کی گود میں ڈال دیا تھا جنہوں نے دیکھتے ہی فرمایا یہ بچہ ہمارا مرید ہوگا۔ ابھی آپ کی عمر چار  سال تھی کہ آپ کے مرشد حضرت ملاوہ وفات پاگئے۔ سن بلوغت کو پہنچے تواپنے پیر و مرشد کی روحانی تربیت اور فیضان سے بلند مراتب پر پہنچے۔ عشق و محبت میں باکمال ہوئے حضور و استقامت میں یگانہ روز گار ہوئے آپ نے بے شمار سفر کیے بزرگان دین کی مجالس سے فائدہ اٹھایا آپ کا  کلام ہندی اور  فارسی اشعار سے پُر ہے آپ کی ایک کتاب ہمایٔن وحوت بزنجش بڑی مشہور  ہوئی اور  ہندی اشعار میں راجن تخلص فرماتے تھے اور فارسی اشعار میں مشاقی فرماتے آپ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے چچا تھے۔ صاحب اخبار الاخیار نے آپ کی تاریخ ولادت ۸۹۷ھ اور وفات  سے بستم ربیع ا۔۔۔

مزید

شیخ رزق اللہ قدس سرہ

آپ حضرت مصباح العاشقیں ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے آپ کے والد نے  شیر خوار گی کے دنوں میں ہی حضرت ملاوہ رحمۃ اللہ علیہ کی گود میں ڈال دیا تھا جنہوں نے دیکھتے ہی فرمایا یہ بچہ ہمارا مرید ہوگا۔ ابھی آپ کی عمر چار  سال تھی کہ آپ کے مرشد حضرت ملاوہ وفات پاگئے۔ سن بلوغت کو پہنچے تواپنے پیر و مرشد کی روحانی تربیت اور فیضان سے بلند مراتب پر پہنچے۔ عشق و محبت میں باکمال ہوئے حضور و استقامت میں یگانہ روز گار ہوئے آپ نے بے شمار سفر کیے بزرگان دین کی مجالس سے فائدہ اٹھایا آپ کا  کلام ہندی اور  فارسی اشعار سے پُر ہے آپ کی ایک کتاب ہمایٔن وحوت بزنجش بڑی مشہور  ہوئی اور  ہندی اشعار میں راجن تخلص فرماتے تھے اور فارسی اشعار میں مشاقی فرماتے آپ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے چچا تھے۔ صاحب اخبار الاخیار نے آپ کی تاریخ ولادت ۸۹۷ھ اور وفات  سے بستم ربیع ا۔۔۔

مزید