بن عبداللہ کے داداتھے۔یعقوب بن محمد مدنی نے ابوامیہ بن عبداللہ بن عمرو سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ انھون نے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجبریل نے مجھے ہریسہ نامی ایک مرکب غذاکھلائی جس سے میری کمرمیں قوت زیادہ ہوگئی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ دوسی۔جعفرمستغفری نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔زیادبکائی نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے زہری سےروایت کی ہے کہ عمروبن امیہ دوسی نے کہامیں کعبہ مکرمہ میں داخل ہواتومجھے قریش کے کچھ لوگ ملےاورانھوں نے کہاکہ خبردارمحمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سے نہ ملنااوران کی بات نہ سننا ورنہ تم ان کے فریب میں آجاؤگےاس کے بعد انھوں نے پوری حدیث ذکرکی۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ یہ قصہ عمروبن طفیل کےنام سے مشہورہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن خویلہ بن عبداللہ بن ایاس بن عبیدبن ناشرہ بن کعب بن جدی بن ضمرہ بن بکربن عبدمناہ بن کہنانہ یاکنانی ضمری۔کنیت ان کی ابوامیہ ہے۔ان کونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے(ایک مرتبہ)تنہاکفارقریش کے پاس جاسوس بناکربھیجاتھاچنانچہ یہ وہاں سے حضرت حبیب کی نعش مبارک بھی اس لکڑی سے اتارکرلے آئےتھے جس پر انھیں صلیب دی گئی تھی اور(ایک مرتبہ) آپ نے انھیں نجاشی کے ہاں وکیل بناکربھیجاتھاچنانچہ انھوں نے وہاں آپ کانکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان کےساتھ کردیاتھا۔اسلام ان کا قدیم تھاپہلے انھوں نے حبش کی طرف ہجرت کی تھی بعد ازاں مدینہ کی طرف ہجرت کی سب سے پہلاغزوہ ان کا بیرمعونہ تھا۔یہ ابونعیم کا قول ہے اورابو عمر نے کہاہے کہ یہ غزوہ بدراوراحد میں مشرکوں کی طرف سےشریک تھےاوراحد میں جب مشرک لوٹ کرجانے لگے تویہ اسلام لے آئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کواکثر کاموں پر متعین فرمایاکرتےتھےیہ عرب کے شریف اور۔۔۔
مزید
بن حارث بن اسد بن عبدالعزیزبن قصی بن کلاب قریشی اسدی۔والدہ ان کی زینب بنت خالدبن عبدمناف بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھیں۔یہ زبیرکاقول ہے انھوں نے سرزمین حبش کی طرف ہجرت کی تھی اوروہیں وفات پائی۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئےتھےان سے حضرت ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئےتھےاورآپ سے کچھ پوچھاتھاہمیں ابواحمد یعنی عبدالوہاب بن علی نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حماد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہمیں محمد بن عمرونے ابوسلمہ سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کرکے خبردی کہ عمروبن اقیش رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےزمانہ جاہلیت میں ان کے گھرانے میں سے کوئی شخص قتل ہوگیاتھالہذایہ قاتل سے انتقام لئے بغیراسلام پسن نہ کرتےتھےپس یہ احد کے دن(مدینہ)آئے اورپوچھاکہ میرے چچاکے بیٹے کہاں ہیں لوگوں نے کہااحد میں ہیں انھوں نے (نام لے کر)پوچھا فلاں فلاں لوگ کہاں ہیں لوگوں نے کہااحد میں ہیں پس انھوں نے اپنا لباس پہنااورگھوڑے پر سوارہوکراحد کی طرف روانہ۔۔۔
مزید
سعیدقریشی نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھاہے۔شریح بن عبیدحضرمی نے حارث بن حارث سے انھوں نے عمروبن اسودابوامامہ سے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایاقریش کے پیشواؤں میں سے جولوگ اچھے ہوں گے وہ تمام دنیاکے پیشواؤں سے بہترہوں گے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔میں کہتاہوں کہ یہ تینوں تذکرہ میں لکھ چکاہوں مگر میں نہیں کہہ سکتاکہ یہ تینوں ایک ہیں یاجدانداان تینوں تذکروں کوابونعیم نے ذکرکیاہے لیکن نہ انھوں نے کوئی نسب ذکرکیانہ اورکوئی چیزایسی بیان کی جس سے کوئی فیصلہ ان کے ایک یاجداجدا ہونے کاہوسکےباقی رہیں ہر تذکرہ کی حدیثیں تو ممکن ہےایک ہی شخص سے کئی کئی حدیثیں مروی ہوں واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔عنسی۔ابن ابی عاصم۔ہمیں عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکےخبردی وہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوالیمان نے ابوبکربن ابی مریم سے انھوں نے حکیم بن عمیراورضمرہ بن حبیب سے روایت کرکے بیان کیاوہ دونوں حضرت عمربن خطاب سے روایت کرتے تھےکہ انھوں نے فرمایاجس شخص کواس بات کی خواہش ہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روش اپنی آنکھوں سے دیکھےاس کو چاہیے کہ عمروبن اسود کی روش کو دیکھ لے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نےلکھاہےاورکہاہے کہ یہ عمرو صحابی نہیں ہیں بلکہ وہ صحابہ اورتابعین سے حدیث کی روایت کرتےہیں۔ان کا تذکرہ ابوالقاسم دمشقی نے لکھاہےاور انھوں نے کہاہے کہ ان کا نام عمروہے مگربعض لوگ عمیربن اسود کہتےہیں۔کنیت ان کی ابوعیاض ہے اوربعض لوگ ابوعبدالرحمن بیان کرتےہیں قبیلہ عنس کے اورحمص شہرکے رہنے والے تھے اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ انھ۔۔۔
مزید
۔عنسی۔ابن ابی عاصم۔ہمیں عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکےخبردی وہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوالیمان نے ابوبکربن ابی مریم سے انھوں نے حکیم بن عمیراورضمرہ بن حبیب سے روایت کرکے بیان کیاوہ دونوں حضرت عمربن خطاب سے روایت کرتے تھےکہ انھوں نے فرمایاجس شخص کواس بات کی خواہش ہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روش اپنی آنکھوں سے دیکھےاس کو چاہیے کہ عمروبن اسود کی روش کو دیکھ لے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نےلکھاہےاورکہاہے کہ یہ عمرو صحابی نہیں ہیں بلکہ وہ صحابہ اورتابعین سے حدیث کی روایت کرتےہیں۔ان کا تذکرہ ابوالقاسم دمشقی نے لکھاہےاور انھوں نے کہاہے کہ ان کا نام عمروہے مگربعض لوگ عمیربن اسود کہتےہیں۔کنیت ان کی ابوعیاض ہے اوربعض لوگ ابوعبدالرحمن بیان کرتےہیں قبیلہ عنس کے اورحمص شہرکے رہنے والے تھے اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ انھ۔۔۔
مزید
بن عامر۔جنگ یمامہ میں شہیدہوئے۔ابن دباغ نے ان کا تذکرہ ابوعمرپراستدراک کرنے کے لیے مختصری لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حسن بن سفیان اوربغوی وغیرہمانےان کاتذکرہ لکھاہے۔ہمیں ابوموسیٰ نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن حرب مروزی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوعمروبن حمدان نےبیان کیاوہ کہتےتھےہم سے حسن بن سفیان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے محمد بن حرب مروزی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم ے محمد بن بشرعبدی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبیداللہ بن عمرنے ابن شہاب انھوں نے عمروبن ابی الاسدسے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاکہ صرف ایک چادراوڑھےہوئے نمازپڑھ رہےتھےاوراس چادرکے دونوں سرے آپ نے اپنےشانوں پرڈال لیےتھے اس حدیث کوعیاش دوری نے اورعلی بن حرب نے اورابوکریب نے محمد بن بشرسے اسی طرح روایت کیاہے اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ اس میں محمدبن بشرسے غلطی ہوگئی ہے صحیح وہ ہے جوابواسامہ وغیرہ نے عبیداللہ سے انھوں نے زہری سے انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں۔۔۔
مزید