جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیّدنا عمر ابن غزیہ رضی اللہ عنہ

   نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئےتھےاورآپ سے بیعت کی تھی۔محمد بن سائب کلبی نے ابوصالح سے انھوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے عمربن غزیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے اورعرض کیاکہ یارسول اللہ میں نے ایک عورت سے چھوہاروں کی خریداری کامعاملہ کیااوراس کو اپنے گھربلایا جب وہ آئی اورتنہائی میں مجھ سے ملی تو میں سوا جماع کے اس کے ساتھ سب کچھ کیارسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپھرکیاکیاانھوں نے کہا پھرمیں نے غسل کیااورنمازپڑھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۱؎اقم الصلوۃ طرفی النہارعمرنے پوچھاکہ یارسول اللہ یہ میرے لیے خاص ہے یاتمام لوگوں کے لئے ہے آپ نے فرمایاتمام لوگوں کے لیے ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے یہ بھی لکھاہے ک یہ عمربن غزیہ انصاری بیعت عقبہ کے شرکامیں سے ہیں اورانھوں نے حدیث مذرکی روایت میں ان کا نام بجائے عمرکے عمرو۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن عوف رضی اللہ عنہ

   نخعی ۔بعض لوگوں نے ان کانام عمروبیان کیاہے ان کاتذکرہ محمد بن اسمعیل نے صحابہ میں لکھاہے یہ ابن مندہ کاقول تھامالک بن عامر سے ابن سعدی نےروایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہجرت کاحکم اس وقت تک قائم رہےگا جب تک کہ کفارلڑتے رہیں گے ۔معاویہ بن ابی سفیان اورعمروبن عوف نخعی اورعبداللہ بن عمروبن عاص نے بیان کیاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہجرت دوقسم کی ہوتی ہے ایک ہجرت یہ ہے کہ گناہوں کوترک کرکے عبادت کی طرف رجوع کرے دوسری ہجرت یہ ہے کہ اپناوطن چھوڑکراللہ ورسول کی خدمت میں آئے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخرین نے ان کاتذکرہ صحابہ میں کیاہے اورکہاہے کہ محمدبن اسماعیل نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے اوران کانام عمربیان کیاہے مگراس میں کلام ہے ابونعیم نے وہ حدیث بھی ذکرکی ہےجوابن مندہ نے بیان کی ہے اورابوعمرنے بھی ہجرت والی حدیث لکھی ہے اوربجا۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن عمیربن عدی رضی اللہ عنہ

   بن نابی۔انصاری سلمی ثعلبہ بن غنمہ بن عدی بن نابی اورعبس بن عامربن عدی کے چچازاد بھائی ہیں چند غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئےتھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن عکرمہ رضی اللہ عنہ

   بن ابی جہل بن ہشام مخزومی جنگ یرموک میں شہیدہوئےاوربعض لوگ کہتےہیں جنگ اخباوین میں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن عبیداللہ رضی اللہ عنہ

   بن ابی زکریا۔ان کاذکرصحابہ میں کیاگیاہےمگرصحیح نہیں ہے۔ان کی حدیث ابوضمرہ یعنی انس بن عیاض نے حارث بن ابی ثابت سے انھوں نے عمربن عبیداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ نمازمغرب میں سہوہوگیاتھاان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن عامر رضی اللہ عنہ

  سلمی۔انھوں نے ایک مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاتھاان سے یعنی ابوعبدالحمید نے روایت کی ہے محمد بن احمد بن سلام نے یحییٰ بن ورود سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے والدنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عدی بن فضل نے عثمان بتی سے انھوں نے عبدالحمیدبن سلمہ سے انھوں نے اپنےوالد سےانھوں نے عمربن عامرسلمی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازکے متعلق کچھ پوچھاتوآپ نے فرمایاکہ صبح کی نماز پڑھ چکنے کے بعد طلوع     آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھوکیوں کی آفتاب شیطان کی دوسینگوں کے ساتھ طلوع کرتاہے پھرجب آفتاب بلند ہوجائے تونمازپڑھو نمازمقبول ہوگی پھردوپہر تک نمازپڑھنے کی اجازت ہے یہاں تک کہ آفتاب سمت الراس پرآجائے تونمازموقوف کردوپھر جب زوال ہوجائے تونماز پڑھو نماز مقبول ہوگی پھر عصر کی نمازکے بعد کوئی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوجائے کیو۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن عامر رضی اللہ عنہ

  سلمی۔انھوں نے ایک مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاتھاان سے یعنی ابوعبدالحمید نے روایت کی ہے محمد بن احمد بن سلام نے یحییٰ بن ورود سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم سے ہمارے والدنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عدی بن فضل نے عثمان بتی سے انھوں نے عبدالحمیدبن سلمہ سے انھوں نے اپنےوالد سےانھوں نے عمربن عامرسلمی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازکے متعلق کچھ پوچھاتوآپ نے فرمایاکہ صبح کی نماز پڑھ چکنے کے بعد طلوع     آفتاب تک کوئی نماز نہ پڑھوکیوں کی آفتاب شیطان کی دوسینگوں کے ساتھ طلوع کرتاہے پھرجب آفتاب بلند ہوجائے تونمازپڑھو نمازمقبول ہوگی پھردوپہر تک نمازپڑھنے کی اجازت ہے یہاں تک کہ آفتاب سمت الراس پرآجائے تونمازموقوف کردوپھر جب زوال ہوجائے تونماز پڑھو نماز مقبول ہوگی پھر عصر کی نمازکے بعد کوئی نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوجائے کیو۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر ابن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ

بن عبدالاسد قرشی مخزومی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب تھےکیوں کہ ان کی والدہ حضرت ام سلمہ ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ان کا تذکرہ اس کے قبل ان کے باپ عبداللہ بن عبدالاسدکے ذکرمیں ہوچکا۔ان کی کنیت ابوحفص ہے ۲ھ؁ ہجری میں حبشہ میں پیدا ہوئے اوربعضوں نے کہاہےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن یہ نوبرس کے تھے اور غزوہ خندق میں یہ اورابن زبیرحسان بن ثابت انصاری کے گھرمیں تھے۔جنگ جمل میں حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت علی نے ان کو بحرین اورفارس کاعامل مقررکیاتھا۔عبدالملک بن مروان کے زمانہ میں ۸۳ھ؁ ہجری میں مدینہ میں وفات پائی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت حدیثیں انھوں نے روایت کیں ان سے سعید بن مسیب اورابوامامہ بن سہل ابن حنیف اورعروہ بن زبیرسے روایت کی ہے۔ ہم کواسمعیل بن علی وغیرہ نے اپنی اسناد کے ساتھ ابوعیسیٰ ترمذی سے روایت کرکےخبردی وہ کہتےتھےہم کوعبدالل۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر بن سفیان رضی اللہ عنہ

   بن عبدالاسدبن ہلال بن عبداللہ بن عمربن مخزوم قرشی مخزومی۔اسود بن سفیان کے بھائی اورابی سلمہ بن عبدالاسد کےبھتیجے ہیں ان مہاجرین میں سے ہیں جنھوں نےحبشہ کو ہجرت کی تھی ان کاتذکرہ ابوعمرنے مختصراًلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ

  ابن سعدسلمی۔مطین نے ان کاتذکرہ وحدان میں لکھاہےمگراس میں اعتراض ہے یہ  ابونعیم نے کہا ہے۔ہم کوابوموسیٰ حافظ نے اپنی سند کے ساتھ خبردی وہ کہتےتھے ہم کوابوعلی نے خبردی وہ کہتے تھےہم کوابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھےہمسے محمد بن محمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حضرمی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے ہمارےباپ نے محمد بن اسحاق سے روایت کرکے بیان کیاانھوں نے جعفر بن زبیرسے روایت کی وہ کہتےتھےہم نے زیاد بن عمربن سعدسلمی کوعروہ بن زبیرسے روایت کرکےبیان کرتےہیں وہ کہتےتھےمجھ سے میرے باپ اوردادانے جوجنگ خیبرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھےبیان کیاوہ دونوں کہتےتھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ظہر کی نمازپڑھائی پھرایک درخت کے سایہ میں بیٹھ گئے اوردیث کاقصہ بیان کیاان کا تذکرہ ابن مندہ اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید