کنیت ان کی ابوسماک تھی۔ان کا تذکرہ ابن شاہین نے لکھاہےاورانھوں نے اپنی سندکے ساتھ بندار سے انھوں نے محمد بن عبداللہ انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ایک دن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں تھا کہ ایک شخص ایک آدمی کو کھینچتاہوا لایا الی آخرالحدیث ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ یہ غلط ہے کیونکہ بندارسماک بن حرب سے اوروہ علقمہ بن وائل سے وہ اپنے والد بن حجرسے روایت کرتےہیں اوریہی صحیح ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبداللہ بن ربیعہ ثقفی بصرہ میں رہتےتھےان سے ان کے بیٹے سفیان وغیرہ نے روایت کی ہے ہمیں عبداللہ بن احمد نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسے انھوں نے اسماعیل بن ابراہیم انصاری سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے عبدالکریم نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے علقمہ بن سفیان نے بیان کیاوہ کہتےتھے میں ان لوگوں میں تھا جوقبیلہ ثقیف سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضرہوئےتھےآپ نے ہمارے لیے دوخیمے نصب کرادئیےمغیرہ کے مکان کے پاس بلال ہمارے پاس آتے تھے اوررمضان میں ہمیں افطارکراتےتھے حالانکہ خوب روشنی پھیلی ہوتی تھی۱؎۔اس حدیث کوابراہیم بن سعد نے ابن اسحاق سے انھوں نے عیسیٰ بن عبداللہ سے انھوں نے عطیہ بن سفیان بن عبداللہ سے روایت کیاہے اورزیادہ بکائی نے ابن اسحاق سے انھوں نے عیسیٰ سے انھوں نے علقمہ بن سفیان سے روایت کی ہے اوریہی صحیح ہے یہ ابن مندہ کاکلام تھا اورضحاک بن عثمان ۔۔۔
مزید
بلوی۔یہ ان لوگوں میں تھے جنھوں نے درخت کے ینچےبیعتہ الرضوان کی تھی۔فتح مصر میں شریک تھے لیث بن سعد نے یزیدبن ابی حبیب سے انھوں نے سوید بن قیس تجیبی سے انھوں نے زبیربن قیس بلوی سے انھوں نے علقمہ بن رمثہ بلوی سےروایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےعمروبن عاص کوبحرین کی طرف بھیجا اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم خود کسی لشکرکے ہمراہ تشریف لے گئے اورہم لوگ بھی آپ کے ہمراہ تھے پس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پرغنودگی طاری ہوئی جب آپ بیدارہوئے توفرمایاکہ اللہ عمرو پر رحم کرے پس ہم نے جس جس کانام عمروتھااس کی تفتیش کی پھردوبارہ آپ پر غنودگی طاری ہوئی توآپ نے ایساہی فرمایا پھر سہ بارہ ایساہی ہواتوہم نے پوچھاکہ یارسول اللہ عمروکون آپ نے فرمایاعمروبن عاص کے لئے اللہ کے یہاں بہت بھلائی ہے زبیرکہتےتھے جب فتنہ پھیلا تو میں نے اپنے دل میں کہاکہ میں اس ۔۔۔
مزید
۔بعض لوگ ان کوعلقمہ بن حارث کہتے ہیں غفاری ہیں ہمیں یحییٰ بن محموداصفہانی نے اجازۃً اپنی سند کے ساتھ ابوبکریعنی احمد بن عمروسے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےہم سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے فضل بن سلیمان نے محمد بن مطرف سے انھوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے علقمہ بن حویرث غفاری صحابی سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآنکھوں کازنایہ ہے کہ نامحرم کی طرف نظرکی جائے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
غفاری۔ان کاتذکرہ جعفرنے لکھاہےاورکہاہے کہ بروعی نے بیان کیاہے کہ یہ مدینہ میں رہتےتھے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک حدیث روایت کی ہے مگرجعفر نے اس حدیث کوبیان نہیں کیا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ابن قانع نے ان کا تذکرہ لکھاہےاورانھوں نے اپنی سندکے ساتھ کلثوم بن علقمہ حضرمی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں اس وفد میں تھاجو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیاتھااورآپ نے فرمایاکہ تم لوگ اپنے گھرلوٹ جاؤ نہ تم قیدکیےجاؤگےنہ روکے جاؤگے۔ان کا تذکرہ ابن دباغ نے ابن مندہ پراستدراک کرنے کے لئے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کا تذکرہ علی عسکری نے لکھاہے۔حجاج بن ارطاہ نے عبدالجبار بن وائل بن علقمہ بن حجر سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاآپ(نمازمیں)اپنی پیشانی اورناک دونوں کے بل سجدہ کرتے تھےان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے حالانکہ یہ غلط ہے اس کو بہت لوگوں نے عبدالجبار بن وائل حجر سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کیاہے اوروہی صحیح ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔احمد بن خلف دمشقی نے احمد بن ابی الحواری سے انھوں نے ابوسلیمان دارانی سےانھوں نےعلقمہ بن سوید بن علقمہ بن حارث سےانھوں نے اپنے والدسے انھوں نے ان کے داداعلقمہ بن حارث سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں اپنی قوم کے چھ آدمیوں کے ساتھ گیاتھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورانھوں نے کہاہے کہ بہت سے راویوں نے احمد بن حواری سے یہ حدیث روایت کی ہے اورانھوں نے بجائے ان کے سوید بن حارث کانام لیاہے(خلاصہ یہ کہ ان علقمہ کے صحابی ہونے میں کلام ہے)وہ روایت اوپرگذرچکی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبداللہ قیس ازدی ثم الجحری۔یہ صحابی تھےفتح مصرمیں شریک تھےاوربحرین میں حضرت معاویہ کی طرف سے حاکم رہے تھے ۵۹ھ ہجری میں وفات پائی۔یہ ابوسعیدبن یونس کا قول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابواوفی۔اسلمی ہیں۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی زکوۃ کامال بھیجاتھاتو آپ نے فرمایاتھاکہ یا اللہ ابواوفی کے خاندان پر رحمت نازل کر۔یہ علقمہ عبداللہ بن ابی اوفی کے والد تھے۔اصحاب بیعتہ الرضوان سے تھے۔ہمیں مسمار بن عمربن عویس وغیرہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل (بخاری)سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے حفص بن عمرنے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے عمروسے انھوں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت کرکے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی قوم اپناصدقہ آپ کے پاس (تقسیم کے لیے) لاتی توآپ دعافرماتے کہ یااللہ فلاں شخص کے خاندان پررحمت نازل کرچنانچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ آپ کے پاس لے گئے توآپ نے فرمایا کہ اے اللہ ابواوفی کے خاندان پر رحمت نازل کر ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید