بن امّیہ بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم قرشی مخزومی: ان کی والدہ کا نام ہندہ بنتِ عتیق بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھا اور ہندہ کی والدہ کا نام حضرت خدیجہ بنت خویلد تھا ان سے کوئی روایت مروی نہیں اور نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مصاحبت ہی ثابت ہے یہ ابو عمر کی رائے ہے ابو موسیٰ نے ان کا نام محمد بن صیفی الخزومی لکھا ہے ابنِ شاہین کہتا ہے کہ یہ صحابی انصاری نہ تھے ان کا سلسلۂ نسب محمد بن صیفی بن امّیہ بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ہے وہ لکھتا ہے کہ یہ صحابی انصاری نہ تھے ان کس سلسلۂ نسب محمد بن صیفی بن امّیہ بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ہے وہ لکھتا ہے کہ میں نے عبد اللہ بن سلیمان کو سُنا کہ وہ اپنی تصنیف کتاب المصابیح میں انھیں نسب قداح سے شمار کرتا ہے ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن امّیہ بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم قرشی مخزومی: ان کی والدہ کا نام ہندہ بنتِ عتیق بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم تھا اور ہندہ کی والدہ کا نام حضرت خدیجہ بنت خویلد تھا ان سے کوئی روایت مروی نہیں اور نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مصاحبت ہی ثابت ہے یہ ابو عمر کی رائے ہے ابو موسیٰ نے ان کا نام محمد بن صیفی الخزومی لکھا ہے ابنِ شاہین کہتا ہے کہ یہ صحابی انصاری نہ تھے ان کا سلسلۂ نسب محمد بن صیفی بن امّیہ بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ہے وہ لکھتا ہے کہ یہ صحابی انصاری نہ تھے ان کس سلسلۂ نسب محمد بن صیفی بن امّیہ بن عابد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم ہے وہ لکھتا ہے کہ میں نے عبد اللہ بن سلیمان کو سُنا کہ وہ اپنی تصنیف کتاب المصابیح میں انھیں نسب قداح سے شمار کرتا ہے ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
کوفیوں میں شمار ہوتے ہیں ان سے بقول ابو عمر سوائے شعبی کے اور کسی نے کوئی حدیث روایت نہیں کی(شعبی کی روایت کردہ حدیث کا تعلق صوم عاشورہ سے ہے) ابن مندہ اور ابو نعیم نے محمد بن سعد الواقدی سے روایت کی ہے کہ محمد بن صیفی اور محمد بن صفوان دو مختلف آدمی تھے۔ شعبی نے دونوں سے روایت کی ہے اور دونوں کوفہ میں سکونت پذیر ہوگئے تھے ابو احمد عسکری نے ان کا نسب ہوں بیان کیا ہے: محمد بن صیفی بن حارث بن عبید بن عنان بن عامر بن خطمہ بعض اور لوگوں نے ان کا نسب ہوں بیان کیا ہے: محمد بن صفوان بن سہل اور بقول ان کے دونں ایک ہیں ابو حاتم نے دونوں میں یوں فرق کیا ہے کہ محمد بن صیفی مدنی ہیں اور محمد بن صفوان کوفی ہیں۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ محمد بن صیفی مخزومی تھے۔ ابن ابی خیثمہ کی رائے ہے کہ دونوں حضرات کا تعلق انصار سے ہے۔ عبد الوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے، اس نے۔۔۔
مزید
بن ابی بن سلول: یہ عبد اللہ مجہول کے بھائی تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں صحبت میسّر نہیں ہوئی جعفر بن عبد اللہ سالمی نے ربیع بن بدر سے اس نے راشد الحمانی سے اس نے ثابت السنانی سے اُس نے محمد بن عبد اللہ بن ابی سے روایت کی کہ ہم رسولِ کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا اے انصار! اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کو بہ نظر دیکھا ہے۔ کیا تم بتاؤ گے کہ تم کیا کرتے تھے۔ ہم نے عرض کیا رسول اللہ! ہم میں کچھ اہلِ کتاب بھی بود و باش رکھتے تھے۔ جب وہ بیت الخلا سے واپس آتے، تو پانی سے طہارت کیا کرتے۔ یہ حدیث اسی طرح بیان ہوئی ہے اور جعفر السالمی سے روایت کی گئی ہے لیکن یہ غلط ہے اور درست اسناد حسبِ ذیل ہے: محمد بن عبد اللہ بن سلام ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی بن سلول: یہ عبد اللہ مجہول کے بھائی تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنھیں صحبت میسّر نہیں ہوئی جعفر بن عبد اللہ سالمی نے ربیع بن بدر سے اس نے راشد الحمانی سے اس نے ثابت السنانی سے اُس نے محمد بن عبد اللہ بن ابی سے روایت کی کہ ہم رسولِ کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا اے انصار! اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کو بہ نظر دیکھا ہے۔ کیا تم بتاؤ گے کہ تم کیا کرتے تھے۔ ہم نے عرض کیا رسول اللہ! ہم میں کچھ اہلِ کتاب بھی بود و باش رکھتے تھے۔ جب وہ بیت الخلا سے واپس آتے، تو پانی سے طہارت کیا کرتے۔ یہ حدیث اسی طرح بیان ہوئی ہے اور جعفر السالمی سے روایت کی گئی ہے لیکن یہ غلط ہے اور درست اسناد حسبِ ذیل ہے: محمد بن عبد اللہ بن سلام ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: محمد بن عبد اللہ حضرمی نے المغارید میں ان کا ذکر کیا ہے ابو نعیم انھیں غیر مقصل قرار دیتا ہے صفوان بن سلیم نے عبد اللہ بن یزید سے جو اسود کا مولی ہے اور محمد بن عبد الرحمٰن سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مولی ہے۔ روایت کی کہ جس شخص نے کسی عورت کی شرمگاہ کو ننگا کیا اس پر اس کا مہر واجب ہوگیا۔ ابو موسیٰ ابو نعیم نے رائے کو غلط نہیں گردانتا کیونکہ جو راوی درمیان میں رہ گیا ہے وہ ابن السلمانی ہے اور عبدان بن محمد بن عیسی المروزی نے اپنی کتاب معرفۃ الصحابہ میں اس کا ترجمہ لکھا ہے اور ن کی طرف سے یہ حدیث قیتبہ سے اس نے لیث سے اس نے عبید اللہ سے روایت کی ہے اور اس کے اسناد میں محمد بن ثوبان کا ذکر کیا ہے عبدان لکھتا ہے مُجھے اس کا علم تو نہیں، آیا اُنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھایا نہیں لیکن بعض حضرات کی مسانید م۔۔۔
مزید
بن حزم الانصاری: ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں ان کی کنیت ابو القاسم یا ابو سلیمان تھی۔ ایک روایت میں ابو عبد الملک آیا ہے ان کی پیدائش ہجرت کے دسویں برس بخران میں ہوئی ان کے والد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہاں کے عامل تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ ان کی پیدائش رسولِ اکرم کی وفات سے دو سال پہلے ہوئی والدہ نے محمد نام اور ابو سلیمان کنیّت رکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی حضور نے نام تو وہی رہنے دیا لیکن کنیّت بدل کر عبد المالک کردی محمد بن عمرو امّت مسلمہ کے عالم اور فقہہ شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے اپنے والد اور بعض صحابہ سے بھی روایت کی ہے اور خود ان سے کئی فقہائے مدینہ نے روایت ی ہے اور جناب محمد بن عمرو ۳۳ ہجری میں یزید کے عہد میں ایامِ حرہ میں قتل کیے گئے۔ مدائنی لکھتا ہے کہ ایک شامی نے خواب میں دیکھا کہ وہ لڑائی میں محمد ۔۔۔
مزید
بن عاص: ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں عددی کا قول ہے کہ انھیں رسولِ کریم کی صحبت میسّر آئی۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہ جوان تھے واقدی لکھتا ہے کہ محمد بن عمرو بن عاص جنگ صفین میں موجود تھے انھوں نے لڑائی میں حصّہ لیا، لیکن ان کے بھائی عبد اللہ شریک نہ ہوئے یہی رائے زبیر کی ہے محمد بن عمرو بے اولاد مرے: زہری لکھتا ہے کہ جناب محمد نے میدان جنگ میں اپنی بہادری کے خوب خوب جوہر دکھائے اور ذیل کے اشعار کہے۔ (۱) اگر جنگِ جمل: صفین کے میدانِ جنگ میں کسی دن میرے مقام اور طریق جنگ کا مشاہدہ کرتی، ترو دہشت سے اس کے بال سفید ہوجاتے۔ (۲) جس دن اہلِ عراق ہم پر حملہ آور ہوئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا گویا سمندر میں طوفان اٹھا ہے کہ جس کی موجیں اوپر نیچے تہ در تہ ہیں۔ (۳) اور ہم یوں ان کی طرف بڑھے، گویا ہمارے بہادروں کی صفیں کالی گھٹا۔۔۔
مزید
انھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر آئی۔ ان کا شمار شامیوں میں ہوتا ہے ان سے جبر بن نفیر نے روایت کی۔ ہمیں یحییٰ بن محمود نے باسنادہ جو ابن عاصم تک پہنچتا ہے کتابۃً بتایا، اسے دجیم نے اسے ولید بن مسلم نے ثور بن یزید سے، اس نے خالد بن معدان سے اس نے جبیر بن نفیر سے اُس نے محمد بن عمیرہ سے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ روایت کی آپ نے فرمایا اگر کوئی آدمی پیدا ہوتے ہی اللہ کی عبادت میں سجدہ ریز ہوجائے اور مرتے دم تک اسی حالت میں پڑا رہے، تو قیامت کے دن جب اسے اس کا اجر و ثواب ملے گا، تو اس عمر بھر کی عبادت کو کمتر خیال کرے گا اور اس کی خواہش ہوگی کہ کاش اسے عبادت کا اور موقعہ مِلتا۔ ابنِ ابی عاصم نے اس کو اسی طرح موقو فاًر روایت کیا ہے اور یحییٰ بن سعد نے خالد بن معدان سے روایت کی ہے اور کہا ہے، کہ عتبہ بن عبد نے رسول اللہ صلی اللہ ۔۔۔
مزید
ابو موسیٰ اشعری کے بھائی تھے ہم ان کا نسب ابو موسیٰ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں طلحہ بن یحییٰ نے ابی بردہ سے اس نے ابن موسیٰ سے اس نے اپنے والد سے روایت کی کہ میں اور تیرا بھائی بذریعہ سمندر(یمن سے) مکّے پہنچے اور میرے ساتھ ابو بردہ بن قیس، ابو عامر بن قیس، ابور ہم بن قیس اور محمد بن قیس کے علاوہ پچاس آدمی قبیلہ اشعری کے اور چھ افراد قبیلہ عک کے تھے۔ چنانچہ ہم پھر سمندر کے راستے سے مدینے پہنچے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ے فرمایا، لوگوں نے ایک ہجرت کی ہے اور تم نے دو ہجرتیں کی ہیں۔ ابن ابی بردہ نے اپنے بزرگوں سے اسی طرح روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم روانہ ہوئے اور میرے ساتھ میرے بھائی تھے۔ انھوں نے محمد بن قیس کا ذکر نہیں کیا ابو مندہ اور ابو نعیم کی تخریج یہی ہے لیکن ابو نعیم کہتا ہے کہ یہ فاش غلطی ہے۔ ابو کرین نے ابو اسامہ سے اُس نے یزید سے اُس نے ابو ب۔۔۔
مزید