جمعہ , 15 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 03 April,2026

سیدنا محمد بن اسلم بن بجرۃ الانصاری رضی اللہ عنہ

بنو حارث بن خزرج کے بھائی تھے اُنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اُن کے والد کو حضور کی صحبت میّسر آئی۔ محمد بن اسحاق نے عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے اسنے محمد بن اسلم بن بجرۃ الانصاری سے، جو بنو حارث بن خزرج کا بھائی تھا اور کافی بوڑھا ہو چُکا تھا۔ روایت کی کہ وہ جب بھی شہر میں آتا اور بازار میں خرید و فروخت کرچکتا اور واپس گھر کو لوٹتا اور چادر اُتار کر رکھتا تو اسے یاد آجاتا کہ اس نے مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا نہیں کی، تو اسے اس فرو گزاشت پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو شخص اس شہر(مدینے) میں وارد ہو، اسے چاہیے کہ میری مسجد میں دو رکعت ادا کرے چنانچہ وہ پھر گھر سے لوٹ کر مدینۃ النبی میں آتا دو رکعت نماز ادا کرتا اور واپس چلا جاتا۔ ابن مندہ اور ابع نعیم نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے ابو عمر کا۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد الانصاری رضی اللہ عنہ

ایک روایت میں الدوسی ہے: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہوئی تھی اور ان کا ذکر حضرت انس کی حدیث میں ہے حماد نے ثابت سے انھوں نے حضرت انس سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسولِ کریم سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی اس وقت آپ کے پاس انصار کا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جس کا نام محمّد تھا حضور اکرم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے تک پہنچنے سے پہلے قیامت آجائے گی۔[۱] اس حدیث کو حماد بن زید نے معبد بن ہلال سے اور اُس نے حضرت انس سے روایت کی لیکن انھوں نے لڑکے کا نام نہیں لیا۔ روایت ہے کہ اس کا نام سعد تھا اسی روایت کو ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے، انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی لیکن لڑکے کے نام نہیں لیا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ [۱۔ حیرت ہے کہ ابن اثیر نے اسے حدیث کیسے جانا اسے کون حضور سے منسوب کرسکتا ہے۔ مترجم] ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن رافع رضی اللہ عنہ

عبدان نے اس کا ذکر کیا ہے لیکن اسے ان کی صمابیت کے بارے میں کچھ علم نہیں ہاں البتہ بعض محدّثین نے انھیں صحابی گردانا ہے اور ان سے وہ حدیث منسوب کی ہے جو اسرائیل بن عبد الاعلی سے اس نے اسحاق بن حکیم سے اس نے محمّد بن رافع سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایسی قوم کی طرف بھیجا جن کی کھجوروں میں پھل نہیں لگتا تھا۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن رافع رضی اللہ عنہ

عبدان نے اس کا ذکر کیا ہے لیکن اسے ان کی صمابیت کے بارے میں کچھ علم نہیں ہاں البتہ بعض محدّثین نے انھیں صحابی گردانا ہے اور ان سے وہ حدیث منسوب کی ہے جو اسرائیل بن عبد الاعلی سے اس نے اسحاق بن حکیم سے اس نے محمّد بن رافع سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایسی قوم کی طرف بھیجا جن کی کھجوروں میں پھل نہیں لگتا تھا۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ

ان کی کنیت ابو حمزہ تھی اور عبد المطلب بن ربیعہ کے بھائی تھے روایت ہے کہ انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا لیکن نہ اس کا کوئی ثبوت ملا ہے اور نہ انھوں نے حضور ارکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت ہی بیان کی ہے۔ ابن مندہ ار ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی تھے ان کا اصلی نام مانا ہیہ تھا۔ آپ نے محمّد رکھ دیا حاکم ابو عبد اللہ نے ان کا ذکر ان صحابہ میں کیا ہے۔ جو ترکِ وطن کرکے خراسان آگئے تھے۔ عبد اللہ بن محمّد بن مقاتل بن محمّد بن موسیٰ بن محمّد بن ابراہیم بن محمّد نے جو حضور اکرم کے مولی تھے بیان کیا کہ مُجھ سے میرے باپ نے اپنے باپ مقاتل بن محمّد بن موسیٰ سے، اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ محمد کا نام مانا ہیہ تھا اور وہ ایک مجوسی تاجر تھا۔ انھوں نے حضور کا نام نامی سُنا اور مرو سے بہ غرضِ تجارت روانہ ہوئے اور مدینہ میں آئے۔ اسلام لے آئے۔ اور حضور اکرم نے ان کیا نام محمّد رکھا اور اپنا مولی(دوست، مقرب) قرار دیا۔ بعد از قبولِ اسلام وہ واپس چلے گئے۔ ان کا مکان جامع مسجد کے آمنے سامنے تھا۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی تھے ان کا اصلی نام مانا ہیہ تھا۔ آپ نے محمّد رکھ دیا حاکم ابو عبد اللہ نے ان کا ذکر ان صحابہ میں کیا ہے۔ جو ترکِ وطن کرکے خراسان آگئے تھے۔ عبد اللہ بن محمّد بن مقاتل بن محمّد بن موسیٰ بن محمّد بن ابراہیم بن محمّد نے جو حضور اکرم کے مولی تھے بیان کیا کہ مُجھ سے میرے باپ نے اپنے باپ مقاتل بن محمّد بن موسیٰ سے، اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ محمد کا نام مانا ہیہ تھا اور وہ ایک مجوسی تاجر تھا۔ انھوں نے حضور کا نام نامی سُنا اور مرو سے بہ غرضِ تجارت روانہ ہوئے اور مدینہ میں آئے۔ اسلام لے آئے۔ اور حضور اکرم نے ان کیا نام محمّد رکھا اور اپنا مولی(دوست، مقرب) قرار دیا۔ بعد از قبولِ اسلام وہ واپس چلے گئے۔ ان کا مکان جامع مسجد کے آمنے سامنے تھا۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّدج بن زہیر بن ابی جبل رضی اللہ عنہ

حسن بن سفیان نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے؟ ہمیں ابو موسیٰ نے کتابۃً بتایا کہ اسے حسن بن احمد نے، اسے احمد بن عبد اللہ نے اسے ابو علی محمد بن احمد بن حسین نے اسے عبد اللہ بن حنبل نے اسے اس کے باپ نے اسے محمد بن جعفر نے اسے شعبہ نے، اس نے ابو عمران الجونی سے اس نے محمّد بن زہیر بن ابی جبل سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رات کو چھت پر ننگا سوئے مجھ پر اس کی کوئی ذمّہ داری نہیں اسی طرح جو شخص طوفانی سمندر میں سفر کرے، میں اس کے بارے میں بھی کوئی ذمّہ داری نہیں لوں گا۔ ابو نعیم لکھتا ہے کہ میرے خیال کے مطابق اُنھیں حضور اکرم کی صحبت میسّر نہیں ہوئی اور ابو عمران الجونی کو کئی صحابہ سے ملاقات کا موقع ملا انھیں خضارمہ گروہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ ابن مندہ کہتا ہے کہ محمد بن زہییر مرسل ہے۔ یعنی انھیں حضور اکرم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی ان سے ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّدج بن زہیر بن ابی جبل رضی اللہ عنہ

حسن بن سفیان نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے؟ ہمیں ابو موسیٰ نے کتابۃً بتایا کہ اسے حسن بن احمد نے، اسے احمد بن عبد اللہ نے اسے ابو علی محمد بن احمد بن حسین نے اسے عبد اللہ بن حنبل نے اسے اس کے باپ نے اسے محمد بن جعفر نے اسے شعبہ نے، اس نے ابو عمران الجونی سے اس نے محمّد بن زہیر بن ابی جبل سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رات کو چھت پر ننگا سوئے مجھ پر اس کی کوئی ذمّہ داری نہیں اسی طرح جو شخص طوفانی سمندر میں سفر کرے، میں اس کے بارے میں بھی کوئی ذمّہ داری نہیں لوں گا۔ ابو نعیم لکھتا ہے کہ میرے خیال کے مطابق اُنھیں حضور اکرم کی صحبت میسّر نہیں ہوئی اور ابو عمران الجونی کو کئی صحابہ سے ملاقات کا موقع ملا انھیں خضارمہ گروہ میں شامل کیا جاتا ہے۔ ابن مندہ کہتا ہے کہ محمد بن زہییر مرسل ہے۔ یعنی انھیں حضور اکرم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی ان سے ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن سہیل رضی اللہ عنہ

ابو موسیٰ کہتا ہے کہ بعض لوگوں نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے عثمان بن عمر نے شعبہ سے، اس نے واقد بن محمد سے اس نے صفوان بن سلیم سے، اس نے محمّد بن سہل بن ابی خیثمہ سے یا سہل بن ابی خیثمہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی چیز کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تو اس کے قریب کھڑے ہو تاکہ شیطان تم میں اور تمہاری نماز میں حائل نہ ہو: اسے معاذ بن معاذ اور یزید بن ہارون نے شعبہ سے اسی طرح روایت کیا۔ اسی طرح اسے ابن عیینہ نے صفوان سے اس نے نافع بن جبیر سے اس نے سہل سے بلاشبہ روایت کیا ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید