ہفتہ , 01 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 18 April,2026

سیّدنا عوف ابن ربیع رضی اللہ عنہ

   بن جاریہ بن ساعدہ بن خزیمہ بن نصربن قعین بن حارث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد بن خزیمہ ملقب بہ ذوالخیار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھےاورمقام رقہ میں فروکش تھےان کی اولاد نہیں تھی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے بیان کیاہے کہ بعض متاخرین نے ان کا تذکرہ علی بن احمد حرانی سے انھوں نے محمود ابن محمد اویب سے نقل کیاہے اوراس سے زیادہ ان کا کچھ حال نہیں بیان کیا۔ابوعروبہ نے اورابوعلی بن سعید نے تاریخ جزریین میں ان کاتذکرہ نہیں کیا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن دلہم رضی اللہ عنہ

  ۔ان کا ذکرصحابہ میں کیاگیاہے۔اصمعی نے ابوعوانہ سے انھوں نے عبدالملک بن عمیر سے انھوں نے عوف ابن دلہم سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہاچاربی بیاں جائز ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف خثعمی رضی اللہ عنہ

۔حصین بن عوف کے والد تھے۔ان کا ذکر ردیف حامیں ان کے بیٹے کے نام کے ساتھ ہوچکا ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن حضیر رضی اللہ عنہ

  ہ۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھا۔ان سے شعبی نے روایت کی ہے۔یہ شام میں رہتےتھے۔حصین بن عبدالرحمن نے شعبی سے انھوں نے عوف بن حضیرہ سےجو اہل شام میں سے ایک شخص تھےروایت کی ہے کہ جمعہ کی وہ ساعت جس میں دعاقبول ہوتیہے اس وقت سے شروع ہوتی ہےجب امام خطبہ پڑھنے کے لیے نکلتاہے اورنمازکے ختم ہوتے ہی یہ ساعت خرم ہوجاتی ہے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہے۔اورابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ بطور استدراک کے لکھاہے حالاں کی استدراک بے وجہ ہے ابن مندہ سے ان کا تذکرہ متروک نہیں ہوا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن حارث رضی اللہ عنہ

   اوربعض لوگ کہتےہیں ابن عبدالحارث بن عوف بن حشیش بن ہلال بن حارث بن رزاح بن کلفہ بن عمروبن لوی بن دہرابن معاویہ بن اسلم بن احمس بن غوث بن انماربجلی ۔احمسی۔ کنیت ان کی ابوحازم تھی قیس بن ابی حازم کے والد ہیں ۔اوربعض لوگوں نے یہ بھی بیان کیاہے کہ ان کانام عبدعوف ہے۔ہم ان کو تذکرہ کنیت کے باب میں انشاء اللہ تعالیٰ کریں گے۔ہمیں عبداللہ بن احمد خطیب نے اپنی سند کے ساتھ ابوداؤد طیالسی سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے شعبہ نے اسماعیل بن ابی خالد سے انھوں نے قیس ابن ابی حازم سے روایت کرکےبیان کیاکہ وہ کہتے تھےرسول خداصلی اللہ علیہ وسلم (ایک روز)خطبہ پڑھ رہے تھےآپ نے میرے والد کو دیکھاکہ دھوپ میں ہیں تواشارہ سے فرمایاکہ سایہ میں آجاؤ۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف سیّدنا عوف رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ

   ان کا مشہورنام مسطح بن اثاثہ بن عبادبن مطلب بن عبدمناف بن قصی ہے۔کنیت ان کی ابو عباد تھی اوربعض لوگ کہتےہیں ابوعبداللہ ۔یہ واقدی کاقول ہے یہ مسطح وہی ہیں جن کا واقعہ افک میں آتاہے بدرمیں شریک  تھےاوربعض لوگوں کا بیان ہے کہ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے اوربعض لوگ کہتےہیں صفین سے چونتیس برس پہلے وفات پاچکے تھےمگرپہلاقول زیادہ مشہورہے۔ ان کی والدہ ابورہم بن مطلب کی بیٹی تھیں نام ان کا سلمی تھااوران کی ماں ریطہ بنت صخر بن عامر تیمی ابوبکرصدیق کی خالہ تھیں اسی قرابت کی وجہ سے ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ کچھ سلوک کیاکرتےتھےمگرجب حضرت عائشہ کی تہمت میں شریک ہوئے اوراللہ تعالیٰ نے ان کی براءت ظاہرفرمائی توابوبکرصدیق نے قسم کھالی کہ میں ان کو کچھ نہ دیاکروں گااس پر یہ آیت نازل ہوئی۱؎ولایاتل اولوالفضل منکم والسعتہ ان یوتواولی القربی والمساکین والمہاجرین فی سبیل اللہ ۔۔۔

مزید

سیّدنا عوسجہ ابن حرملہ رضی اللہ عنہ

   بن جذیمہ بن سبرہ بن خدیج بن مالک بن عمروبن ذہل بن عمروبن ثعلبہ بن رفاعہ بن نصر بن مالک بن غطفان بن قیس بن جہنیہ جہنی ۔فلسطین میں رہتےتھے۔بخاری نے ان کو صحابہ میں ذکر کیاہے۔عروہ بن ولید نے عوسجہ بن حرملہ جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے دادا عوسجہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیاآپ مروہ میں فروکش تھےاورمروہ کے نیچے مشرقی جانب ٹھہرے ہوئے تھےاوردوپہرکواس مقام پر آجاتےتھے جہاں اب مسجد بنی  ہوئی ہےان دونوں مقاموں میں آپ کا دورہ رہتاتھاجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کودیکھااورآپ کو تعجب معلوم ہوا کہ عرب کااورکوئی قبیلہ یہاں نہیں ہے توآپ نے فرمایاکہ اے عوسجہ مجھ سے مانگومیں تمھیں دوں گا۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوذ ابن عفراء رضی اللہ عنہ

  ۔یہ ان کی والدہ کانام ہےوالد کانام حارث بن رفاعہ بن حارث بن سواد بن غنم بن مالک بن نجار ہے۔انصاری خزرجی نجاری ہیں۔حضرت معاذ اورمعوذ فرزندان عفراء کے بھائی ہیں انھیں عوذ اورمعوذ نے ابوجہل کوماراتھا۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہےاوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کا نام عوف ہے جیساکہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوام ابن جہیل رضی اللہ عنہ

   سامی۔یغوث (نامی بت) کے مجاورتھےیہ ابواحمد عسکری کاقول ہے اور ابن درید سے مروی ہے وہ سکن بن سعید سے وہ محمدبن  عباد سے وہ ہشام بن کلبی سے روایت کرتے ہیں کہ عوام بن جہیل مسامی قبیلۂ ہمدان سے تھےاوریغوث (نامی بت کی)خدمت کیاکرتےتھےمسلمان ہوجانے کے بعد بیان کرتےتھے کہ میں ایک مرتبہ شب کو اپنی قوم کے چند لوگوں کے ساتھ کچھ باتیں کررہا تھا جب وہ سب لوگ اپنے اپنے گھرگئےتومیں اسی بت کے مکان میں رہ گیاہوابہت تیزچل رہی تھی بجلی چمکتی تھی بادل گرجتاتھامیں سوگیاجب کچھ رات ہوگئی تومیں نے سناکہ بت سے آواز آرہی ہے اس سے پہلے ہم نےکوئی آواز نہ سنی تھی وہ آواز یہ تھی کہ اے ابن جہیل اب بتوں کی خرابی آئی ہے دیکھو سرزمین مقدس سے یہ نورچمکاہے اب تم یغوث کواچھی طرح چھوڑدو اس آواز کو سنتے ہی واللہ میرے دل میں بتوں سے نفرت پیداہوگئی مگریہ واقعہ میں نے اپنی قوم سے پوشیدہ رکھاپھر میں نے ایک&n۔۔۔

مزید

سیّدنا عنیز غفاری رضی اللہ عنہ

  ۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین وادی قریٰ میں عنایت فرمائی تھی یہ وہیں رہتے  تھےیہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی بعض لوگوں نےان کا نام عس بیان کیاہےاورکہاگیاہے کہ یہی صحیح ہے اورابن مندہ نے ان کاتذکرہ اسی وجہ سے نہیں کیاکہ وہ جانتے تھے کہ عنیزصحیح نہیں ہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید