اودی کنیت ان کی ابوعبداللہ ہے انھوں نے جاہلیت کا زمانہ پایاتھااورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائےتھےاورسوحج کیے تھے اوربقول بعض سترحج کیے تھے اوراپنی زکوۃ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجی تھی کہتے تھے کہ معاذبن جبل ہمارے پاس یمن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے گئے صبح کے وقت بلندآواز سے تکبیر کہتےہوئے ہمارے یہاں پہنچے وہ بہت خوبصورت تھے ان کی محبت میرے دل میں جم گئی پس میں نے ان کا ساتھ نہ چھوڑایہاں تک کہ میں نے ان کودفن کیاپھربعدحضرت معاذ کے یہ ابن مسعود کی صحبت میں رہنے لگےاہل کوفہ کے اعلیٰ طبقہ کے تابعین میں ان کا شمارکیاجاتاہے یہی ہیں جنہوں نے روایت کی ہے کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندرکودیکھاکہ اس نے زناکی پس سب بندرجمع ہوئے اورسب نے اس کو سنگسار کیا یہ روایت صحیح بخاری میں ہے مگراس روایت کامدار عبدالملک بن مسلم ہے وہ عیسیٰ بن۔۔۔
مزید
ابن عبداللہ بن عمروبن خصم بن عمروبن زبیداصغر۔زبید کادوسرانام مبنہ بن ربیعہ بن سلمہ بن مازن بن ربیعہ بن مبنہ بن زبیدالربن حارث بن صعب بن سعد عشیرہ بن مذحج زبیدی مذحجی۔ کنیت ان کی ابوثورتھی۔ابوعمرنے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہےاورہشام کلبی نے بجائے خصم کے عصم بیان کیاہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں قبیلہ مراد کے وفد کے ساتھ حاضر ہوئے تھےیہ اپنی قوم سعدعیثرہ سے علیحدہ ہوگئے تھےاورقبیلۂ مرادہی میں رہتےتھےاورانہیں کے وفد کے ساتھ آئے تھےاورانہیں کے ساتھ اسلام لائےتھےاوربعض لوگوں کابیان ہے کہ زبید کے وفد کے ساتھ آئے تھےواللہ اعلم ۹ھ ہجری میں یہ اسلام لائے تھےاورواقدی نے کہاہے کہ ۱۰ھ ہجری میں اسلام لائے تھےیہ سب لوگ اسلام لانے کے بعداپنے وطن واپس گئے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تواسود عنسی کے ساتھ یہ بھی مرتد ہوگئے تھےپس خالد بن سعید بن عاص ان کے ۔۔۔
مزید
خزاعی ابن شاہین نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھاہےاوروہ حدیث لکھی ہے جویزید بن عمرو بن مسلم نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے نقل کی ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ وہ حدیث مسلم کی ہے نہ کہ عمروکی۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن مالک بن حارث بن مازن بن سعدبن مالک بن رفاعہ بن نصر بن مالک بن غطفان بن قیس بن جہنیہ جہنی۔بنی غطفان میں سے ہیں اوربعض لوگ ان کواسدی اوربعض ازدی کہتے ہیں مگرپہلاقول زیادہ مشہورہے کنیت ان کی ابومریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں وفد بن کر آئے تھےاورعرض کیاتھا کہ جوشریعت آپ لائے ہیں اس پر میں ایمان لایااگرچہ یہ بہت قوموں کو ناگوار گذرے یہ قدیم الاسلام ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اکثر مشاہد میں شریک رہے۔شام میں رہتےتھے ان سے عیسیٰ بن طلحہ اورسبرہ بن معبداورمضربن عثمان وغیرہم نے روایت کی ہے ہمیں عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسمعیل بن ابراھیم نے علی بن حکم سے نقل کرکے بیان کیا وہ کہتےتھے مجھ سے ابوحسن نے بیان کیا کہ عمروبن مرہ نے حضرت معاویہ سے کہاکہ اے معاو۔۔۔
مزید
سلمی۔ان کا نسب ان کے بھائی عباس بن مرداس کے نام میں بیان ہوچکاہے ان کا تذکرہ مولفتہ القلوب میں کیاگیاہےمحمد بن مروان نےمحمد بن سائب سے انھوں نے ابوصالح سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے مولفت القلوب پندرہ آدمی تھے جن کے نام ہیں (۱)ابوسفیان بن حرب(۲)اقرح بن سابس(۳)خینیسہ بن حصن فزاری(۴)سہیل بن عمرو عامری(۵)حارث بن ہشام مخزومی(۶)حویطب بن عبدالعزی خاندان بنی عامر بن لوی سے (۷) سہیل بن عمروجہنی(۸)ابوالسنابل بن بعکک (۹)حکیم بن حزم قبیلہ بن اس بن عبدالعزی سے (۱۰) مالک بن عوف نضری (۱۱)صفوان بن امیہ (۱۲)عبدالرحمن بن یربوع خاندان بنی مالک سے(۱۳) جدبن قیس سہمی (۱۴)عمروبن مرداس سلمی (۱۵)علاءبن حارث ثقفی ان میں سے ہر شخص کو سو سو اونٹ دئیے گئے تھےاوریربوع اورحویطب کوپچاس پچاس جیسا کہ ایک طویل حدیث میں مذکور ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔اورابونعیم نے کہاہے ۔۔۔
مزید
مسلمہ۔انصاری۔ان کا نسب انشاء اللہ تعالیٰ ہم ان کے والد کے نام میں لکھیں گے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاشرف صحبت حاصل کیاتھااورفتح مکہ میں اوراس کےبعد کے تمام مشاہد میں شریک تھےاس کو ابن شاہین نے عبداللہ بن ابی داؤد سے نقل کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن قیس بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ بن محصن کے بھائی ہیں۔غزوہ احد میں شریک تھے ابن اسحاق نے کہاہے کہ جب مہاجرین ہجرت کرکے پہ در پہ آنے لگے توبنی غنم بن دودان بھی آئےان لوگوں کو مدینہ کی آب وہوا ناموافق ہوئی عمروبن محصن بھی انہیں میں سے تھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے اورابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ ابن مندہ پر استدراک کرنے کے لیے لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عمرو سے انھوں نے عمرو بن محصن سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقرب قیامت کی علامات سے بھی یہ ہیں کہ پانی بہت برسے اورپیداوارکم ہو اورقراء زیادہ ہوں اور فقہا کم ہوں امراء زیادہ ہوں مگر اہل امانت کم ہوں۔لیکن اس استدراک کی کوئی وجہ نہیں ابن مندہ نےان کا تذکرہ کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن قیس بن بجیدبن رواس۔ان کا نام حارث بن ربیعہ بن عامرابن صعصعہ ہے عامری رواسی کوفی تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں اپنے مالک کے ہمراہ آئے تھے۔وکیع بن جراح نے اپنے والد سے انھوں نے ایک شخص سےجنکانام طارق تھاانھوں نے عمروبن مالک سے روایت کی ہےکہ وہ کہتےتھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں گیا(آپ مجھ سے کچھ ناراض تھے) میں نے عرض کیاکہ یارسول اللہ آپ مجھ سے راضی ہوجائیے پس تین بارمیری طرف سے منہ پھیرلیا میں نے کہاواللہ یارسول اللہ اللہ بھی راضی ہوجاتاہےآپ بھی راضی ہوجائیے پس آپ راضی ہوگئے یہ حدیث یوں بھی مروی ہے کہ عمروبن مالک رواسی نے اپنے والد سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابوعمراورابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہےاورابوموسیٰ نے عمروبن مالک اوسی رواسی کا حال اس تذکرہ میں بھی لکھاہےجو اس سے پہلے ہوچکا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن جعفربن کلاب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ۔عامری جعفری لقب ان کا ملاعب الاسنہ ہے۔ابن مندہ اورابونعیم نے اسی طرح بیان کیاہےاورانھوں نے ابواحمد زبیری سے انھوں نے مسعر بن خشرم بن حسان سے روایت کی ہےکہ عمروبن مالک ملاعب الاسنہ نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں کسی آدمی کودوالینےکے لیے بھیجاتھا۔اس حدیث کوبہت لوگوں نے مسعربن خشرم سے انھوں نے مالک بن ملاعب الاسنہ سے روایت کیاہےاوریہی صحیح ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اوسی معروف بہ رواسی۔ابن شاہین نے ان کاتذکرہ اسی طرح لکھاہے مکی بن ابراہیم نے موسیٰ بن عبیدی سےانھوں نے محمد بن کعب سےانھوں نے عمروبن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھتاہے اس کو ایک نیکی یافرمایا کہ دس نیکیاں ملتی ہیں میں نہیں کہتاکہ الم (ذلک الکتاب)ایک حرف ہے الف ایک حرف ہے اور لام ایک حرف اورمیم ایک حرف ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ یہ نام غلط ہے۔صحیح نام عوف بن مالک ہے بعض لوگ ان کو عمروبن مالک اوربعض ابی بن مالک کہتےہیں ابن مندہ نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورکہاہے کہ ان کانام عمروبن مالک ہےاوربعض لوگ مالک بن عمراوربعض لوگ ابی کہتےہیں۔ردیف ہمزہ میں ان کاذکرہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید