بن ربیعہ بن عمروبن بکاءبن عامربن ربیعہ بن عامربن صعصعہ ظلمیابنت عبدالعزیز بن مولہ نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے انھوں نے ابوہوذہ عرس اورعمروبن عامربن ربیعہ سے روایت کی ہے کہ وہ دونوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئےتھےاوراسلام لائے تھے پس آپ نے دونوں کو ان کے رہنے کے مقامات میں معافیاں دی تھیں۔ان کاتذکرہ ابن دباغ نے ابوعمیرپراستدراک کرنے کے لیے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن وائل بن ہاشم بن سعید بن عمروبن ہصیص بن کعب لوی بن غالب۔قریشی سہمی کنیت ان کی ابوعبداللہ ہے اوربعض لوگ کہتےہیں ابومحمد ہے۔والد ہ ان کی نابغہ منیت حرملہ تھیں قبیلۂ بنی جلان بن عتیک بن اسلم بن یذکربن عرّہ سے قید ہوکرآئی تھیں۔عمروبن عاص کے اخیانی بھائی عمرو بن اثاثہ عددی اورعقبہ بن نافع بن عبدقیس فہری تھے ایک شخص نے خود عمروبن عاص سے ان کی والدہ کاحال پوچھاتوانھوں نے کہاکہ میری والدہ کا نام سلمی بنت حرملہ اورلقب نابغہ تھا۔قبیلۂ بنی عترہ سے تھیں عرب کی کسی لڑائی میں گرفتارہوئی تھیں اورعکاظہ میں بیچ ڈالی گئی تھیں ان کو فاکہ بن مغیرہ نے مول لیاتھاپھران سے عبداللہ بن جدعان نے ان کوخریدلیاتھابعدان کے عاص بن وائل کے پاس آئیں اوران سے وائل کی اولادہوئی۔کفارقریش نے انھیں عمربن عاص کو نجاشی کے پاس بھیجاتھاکہ جس قدرمسلمان ان کے ملک میں ہیں ان کوواپس کردیں مگرنجاشی نے اس ک۔۔۔
مزید
بن یزید بن امیہ بن کعب بن غنم بن سواد۔انصاری سلمی ۔بقول اکثرین بدرمیں شریک تھےمگرابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ بدریوں میں نہیں لکھا۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ غزوہ احد میں شریک تھے ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیر سے انھوں نے ابن اسحاق سے شہدائے بدرکےناموں میں لکھاہےکہ قبیلۂ بنی سلمہ سے عمروبن طلق بن زیدتھے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔قوم جن سے تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ طبرانی نے ان کا حال بیان کیاہے۔ان کاتذکرہ عمروجنی کے نام میں گذرچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عمرو بن طریف ۔ان کا نسب طفیل کے نام میں گذرچکاہے یہ عمرو غزوہ شام میں شریک تھے اوریرموک میں شہیدہوئے۔یہ ہشام بن کلبی کابیان ہے اورابوموسیٰ نے کہاہے کہ یہ عمرو طفیل بن عمرودوسی کے والد کے والد ہیں محمد بن اسحاق نے بیان کیاہے کہ ابن طفیل کہتےتھے کہ جب میں ہوکراپنی قوم کے پاس لوٹ کرگیاتومیرے والد میرے پاس آئے تو میں نے کہا کہ مجھ سے علیحدہ رہو۔کیونکہ میں مسلمان ہوں۔انھوں نے کہاکہ اے بیتے جودین تمھارا ہے وہی میراہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔قاسم یعنی ابوعبدالرحمن نے ابوامامہ باہلی سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عمروبن طفیل کوخیبرسےان کی قوم کے پاس بھیجاتاکہ وہ ان سے مدد لیں انھوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ جب لڑائی کا وقت آگیاتوآپ مجھے یہاں سے ہٹائے دیتے ہیں تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیاتم اس بات پرراضی نہیں ہو کہ رسول اللہ کے رسول بنو۔یہ ابن مندہ اور ابونعیم کابیان ہے اورابوعمر نے کہاہے کہ ان کانام عمروبن طفیل بن عمرودوسی ہیں پہلے ان کے والد اسلام لائے تھےاس کے بعد یہ خود اسلام لائے اوراپنے والد کے ساتھ جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اسی دن ان کاہاتھ کٹ گیاتھااورجنگ یرموک میں شہید ہوئے تھے طفیل کے اسلام کا حال ان کے نام میں گذرچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
محاربی۔صحابی ہیں ان سے صخر بن ولید نے روایت کی ہے بخاری نے ان کو صحابہ میں ذکرکیا ہےسیف بن اہیب نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے مجھ سےابوالطفیل نے بیان کیاکہ ہم میں سے ایک شخص تھے جن کا نام عمروبن ضلیع تھاوہ صحابی تھےان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔یافعی۔فتح مصر میں شریک تھے۔ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاگیاہے۔عمروبن سعواء کے نام میں ان کا تذکرہ ہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاگیاہےان کا تذکرہ ابوعمر نے اسی طرح مختصر لکھاہے اور کہاہےکہ میں ان کا کچھ حال نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابوشریح ہے۔خزاعی ہیں۔یحییٰ بن یونس نے ان کانام اسی طرح بتایاہے اورکہاہے کہ نام ان کا خویلد بن عمروہےاوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ابوشریح کعبی کانام خویلد بن عمروہے اور ابوشریح خزاعی کانام کعب بن عمروہے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہےاورکہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید