بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

سیّدنا عمرو ابن شرجیل رضی اللہ عنہ

  ۔ابوعمرنے کہاہے کہ یہ صحابی ہیں ۔مجھے ان کا نسب معلوم نہیں۔یہ عمرو بن شرجیل ہمدانی نہیں ہیں کنیت ان کی ابومیسرہ ہے حضرت ابن مسعود کے شاگردتھے۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ابوعبدالرحمن نسائی نے اپنی سنن میں ابوکریب سے انھوں نے ابومعاویہ سے انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابوعمار سے انھوں نے عمروبن شرجیل سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ  وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ سے انھوں نےپوچھاکہ جوشخص ہمیشہ روزہ رکھتاہو اس کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں الخ ابوزکریانےکہاہے کہ عمروشرجیل سے ابوعطیہ وداعی سے جن کانام مالک بن عامرتھا روایت کی  ہے یہ اعمش کاقول ہے۔یہ دونوں ایک ہیں۔تابعی ہیں بعض لوگ کہتےہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایاہے۔ہمیں عمربن محمد بن طبرزدنے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے محمد بن عبد بن عامر نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابراہیم بن اشعث نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے فضیل بن عیاض ن۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن شراحیل رضی اللہ عنہ

  ۔طبرانی نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ مددکراس کی جو علی کی مدد کرے یااللہ بزرگی کراس کی جو علی کی بزرگی کرے۔ ان کا تذکرہ ابونعیم نےلکھاہےاورکہاہے کہ ان کی حدیث کی سند میں کلام ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن شہل بن عجلان رضی اللہ عنہ

   بن عتاب بن مالک ثقفی بیعتہ الرضوان میں شریک تھے حبیبہ بنت مطعم بن عدی ان کے نکاح میں تھیں پھرانھوں نے مقبل بن خویلہ ہزلی کی لڑکی سے نکاح کیا۔ان کا تذکرہ ابن دباغ نے ابوعمرپر استدراک کرنے کے لیے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

 سیّدنا عمرو ابن شاس بن عبید رضی اللہ عنہ

   بن ثعلبہ بن رویبہ بن مالک بن حارث بن سعد بن ثعلبہ بن دودان بن اسد بن خزیمہ اسدی اوربعض لوگ ان کو تمیمی کہتےہیں قبیلہ ٔبنی لمجاشع بن دارم سے یہ بنی تمیم کے وفدکے ساتھ  رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھےمگرپہلاہی قول صحیح ہےیہ ابوعمرکابیان ہے۔اورابن مندہ اورابونعیم نے بیان کیاہے کہ عمروبن شاس اسلمی ہیں اوراس کے سوا ان کے نسب میں کوئی اختلاف نہیں بیان کیاگیا۔صحابی ہیں۔حدیبیہ میں شریک تھے بڑے رعب اور دلیری کے آدمی تھے۔شعربھی بہت عمدہ کہتےتھے۔ان کا شماراہل حجاز میں ہے انھوں نے اپنے بیٹے عراراوراپنی بی بی ام حسان کے بارے میں کچھ اشعارکہےتھےام حسان عرارسے ناخوش رہاکرتی تھیں اوران کو ستایاکرتی تھیں عمروام احسان کو اس سے منع کیاکرتے تھے مگروہ نہ مانتی تھیں۔وہ اشعار حسب ذیل ہیں۔ ۱؎ ارادت عرارابالہوان ومن یرد         &nbs۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سہل بن حارث رضی اللہ عنہ

   بن عروہ بن عبدرزاح بن ظفربن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری اوسی ثم الظفری کنیت ان کی ابولبید تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔واقعۂ جسرمیں شہید ہوئے تھے جب ایک زرہ کے چوری کی تہمت ان کولگائی گئی تواللہ عزوجل نے ان کی براءت اپنی کتاب مقدس میں نازل فرمائی ۱؎ ومن یکسب خطیئتہ اواثماثم یرم بہ بریئاالایہ پس رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلوایااورفرمایا کہ اللہ نے تمھاری براءت نازل کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ حافظ ابوزکریا نے ان کاتذکرہ لکھاہے میں کہتاہوں کہ ابوموسیٰ نے ان کی کنیت ابولبید تھی یہ غلط ہے ان کا نام لبید بن سہیل ہےانہیں کی بابت بنی ابیرق نے روایت کی ہے کہ انھوں نے رفاعہ بن زید عم قتادہ بن نعمان کا کچھ غلہ  اور ان کی زرہ چرائی تھی  حالانکہ خودبنی ابیرق نے یہ حرکت کی تھی پس اللہ عزوج نےان کی براءت نازل فرمائی۔ ہمیں اسمعیل بن ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سنان رضی اللہ عنہ

     خدری۔ان کاتذکرہ ابوسعید خدری نے لکھاہے۔ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے ابوسعید خدری سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے ہم غزوہ خندق میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے پس قبیلۂ بنی خدرہ میں سے ایک شخص کھڑے ہوئے جن کا نام عمروبن سنان تھاانھوں نے کہاکہ یارسول اللہ میرانیانکاح ہواہے آپ مجھے اجازت دیں تو میں اپنی بی بی کے پاس جوقبیلہ بنی سلمہ میں ہیں چلاجاؤں پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کواجازت دے دی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے اسی طرح لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سمرہ رضی اللہ عنہ

   بن حبیب بن عبد شمس قریشی عبشمی عبدالرحمن بن سمرہ کےبھائی ہیں۔اقطع انہیں کا لقب ہے۔یزید بن ابی حبیب نے عبدالرحمٰن بن ثعلبہ انصاری سےانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ عمروبن سمرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس آئےاورکہاکہ یارسول اللہ میں نے فلاں شخص کا ایک اونٹ چرایاتھاالی آخر الحدیث۔ہم نے ان کاتذکرہ ثعلبہ اور عمروبن حبیب کے نام میں لکھا ہے۔ ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوعمرواورابوموسیٰ نے لکھاہے۔مگرابوعمرنے کہاہے کہ عمروبنی سمرہ کا تذکرہ صحابہ میں کیاگیاہے میں خیال کرتاہوں کہ یہ وہی شخص ہیں جن کا ہاتھ چوری میں کاٹاگیاتھا اور ابوموسیٰ نے ان کا نسب اس طرح بیان کیاہے عمروبن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس اوربعض لوگ کہتےہیں عمروبن حبیب اقطع۔ابوزکریانے ان کاتذکرہ اپنے داداپراستدراک کرنے کے لیے لکھاہے حالانکہ ان کے دادانے ان کاتذکرہ لکھاہے صرف انھوں نےیہ کیاہے کہ نسب نامہ میں حبیب کانام سمرہ ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سلیمان رضی اللہ عنہ

   مزنی۔ان کا تذکرہ ابن قانع نے لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ مشمعل بن ایاس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے عمروبن ایاس سے سناوہ کہتےتھے میں نے عمروبن سلیمان مزنی سےسناوہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سےسناآپ فرماتےتھے کہ عجوہ جنت کی کھجورہے۔ان کا تذکرہ ابن دباغ نے ابوعمرپر استدراک کرنے کے لیے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سلیم رضی اللہ عنہ

   عوفی ان کا تذکرہ ابن ابی عاصم نے کتاب الاحادوالمثانی میں لکھاہےہمیں یحییٰ بن ابی الرجاء نے اجازۃً اپنی سند ابن ابی عاصم تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبدالوہاب بن ضحاک نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسماعیل بن یاض نے قیس بن عبداللہ سے انھوں نے عمروبن سلیم عوفی سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکےبیان کیاکہ آپ فرماتے تھے قبائل کے آباواجداد (عالم مثال میں)میرے سامنے پیش کیے گئے تو میں نے بنی عامر کےجدکودیکھاکہ وہ ایک سرخ اونٹ ہے جودرخت کے پتے کھارہاہےاورقبیلۂ غطفان کے جد کو دیکھا کہ وہ ایک سبزرنگ پتھرہے جس سے نہریں بہ رہی ہیں اورمیں نے بنی تمیم کے جدکودیکھا کہ وہ سرخ رنگ کا مینھ ہے کہ اس کے قریب کوئی نہیں جاسکتاایک شخص نے عرض کیاکہ قبیلہ ایہم کوآپ  نے کیادیکھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاان کا ذکرنہ کرو ان کے سربڑے ہیں ثابت قدم لوگ ہیں حق کے مددگارہی۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن سلمہ رضی اللہ عنہ

   بن نخیع۔اوربعض لوگ سلمہ بن قیس اوربعض سلمہ بن لائے بن قدامہ جرمی کہتےہیں۔ کنیت ان کی ابوبریدتھی انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی قوم کی امامت کیاکرتا تھاحالانکہ اس وقت میری عمرچھ یاسات برس کی تھی۔اور حجاج بن منہال نے حماد بن سلمہ سے انھوں نے ایوب سے انھوں نے عمروبن سلمہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں ان لوگوں میں تھاجووفد بن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت  میں حاضرہوئے تھےآپ نے فرمایاکہ جو شخص تم سب میں زیادہ قاری قرآن ہو وہی امامت کرےتو میں ہی سب سے زیادہ قاری قرآن تھا۔حماد بن سلمہ نے ایسا ہی بیان کیاہے۔ہمیں ابواحمد یعنی عبدالوہاب بن علی نے اپنی سند ابوداؤد یعنی سلیمان بن اشعث تک پہنچاکر خبردی وہ کہتےتھےہم سے قیضبہ نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے وکیع نے مسعربن حبیب جرمی روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھےمجھ سے ع۔۔۔

مزید