ابوحذیفہ ثقفی رضی اللہ عنہ ابوحذیفہ ثقفی،عتاب بن مالک کی اولاد ہیں،بیعت رضوان میں موجودتھے،یہ مداینی کاقول ہے، ابن الدباغ اندلسی نے انہیں ابوعمر کے خلاف بطور استدراک بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعبادہ انصاری،ان کا نام سعدبن عثمان بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن زریق انصاری زرقی تھا،غزوۂ بدراوراحد میں شریک تھے،ابوعمرنے مختصراً ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوامامہ انصاری،جریری نے ابونضرہ سے،انہوں نے ابوسعید خدری سے روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے،تو وہاں انصار کا ایک آدمی ابوامامہ موجود تھا، ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابواسحاق بیعی،بنوجہنیہ کےایک آدمی سے،بقولِ ابونعیم،ابوالاحوص نےابواسحاق سے،انہوں نے بنوجہنیہ کے ایک آدمی سےروایت کی،کہ حضورِاکرم نےفرمایا،بہترین چیزجوایک شخص دوسرے کودے سکتاہے،وہ حُسن خلق ہے،اوربدترین چیز،اچھی شکل کے اندربُرادل ہے،ابونعیم نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوجاریہ انصاری،انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے یہ روایت کی کہ ساراقرآن صواب ہے،اس حدیث کو حرب بن ثابت نے اسحاق بن جاریہ سے انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں اپنے دادا سے روایت کیا،ابنِ مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالجودان،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہےاور صرف یہ لکھا ہے،کہ ابو زکریا نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوجندب عتقی،انہیں صحبت نصیب ہوئی،فتح مصر میں موجود تھے،ان سے کوئی حدیث مروی نہیں یہ ابوسعید بن یونس کا قول ہے،ابنِ مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعریض ابوحاتم رازی نے محمد بن دینارالخراسانی سے،انہوں نے عبداللہ بن مطلب سے،انہوں نے محمد بن جابر الحنفی سے،انہوں نے ابومالک اشجعی سے،انہوں نے ابوعریض سےجواہلِ خیبر میں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راہنماتھے،ان سے مروی ہے کہ آپ نے انہیں ایک سو اونٹ عطا کئے تھے،انہوں نے ایک حدیث منکر بیان کی،ابوعمرنے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعسیم،بعض نے انہیں ابوعیب شمارکیا ہے،اوربعض نے ان کے علاوہ،حاکم ابواحمد وغیرہ نے دونوں میں امتیاز کیاہےابن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے بہز اورابوکامل سے،انہوں نے حماد بن سلمہ سے،انہوں نے ابوعمران الجونی سے،انہوں نے ابوعیب یا ابوعسیم سے روایت کی،کہ بہزحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے جنازے میں موجودتھے،لوگوں نے پوچھا،ہم حضورِاکرم کی نمازجنازہ کیسے پڑھیں،انہوں نے کہا،حجرے میں داخل ہوکرعلیحدہ علیحدہ پڑھو،چنانچہ ایک دروازے سے داخل ہوتےاوردوسرے سے نکل جاتے، حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لحد میں رکھاجاچکا،تومغیرنے کہاکہ آپ کے پاؤں تلے کچھ خرابی رہ گئی تھی،جسے آپ نے درست نہیں کیا،انہوں نے کہا،تواُترکردرست کردو،چنانچہ انہوں نے قبرمیں اترکر خرابی درست کردی اورکفن میں ہاتھ ڈال کر آپ کے پاؤں کوچھؤا،پھران ل۔۔۔
مزید
ابوسبرہ جعفی،ان کانام یزید بن مالک بن عبداللہ بن ذؤیب بن سلمہ بن عمروبن ذہل بن مران بن جعفی بن سعدالعشیرہ ہے یہ والد تھے سبرہ بن ابوسبرہ اور عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے،انہوں صحبت میسرآئی،اورانہوں نے کوفہ میں سکونت اختیارکرلی تھی۔ حسن بن محمد بن ہبتہ اللہ دمشقی نے ابوالعشائر محمد بن خلیل بن فارس سے،انہوں نے ابوالقاسم علی بن محمدبن علی سے،انہوں نے ابومحمدعبدالرحمٰن بن عثمان بن ابونصرسے،انہوں نے ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن ابوثابت سے،انہوں نے ہلال بن علاء سے،انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے عبادبن عوام سے،انہوں نے حجاج بن ارطاۃ سے،انہوں نے عمیر بن سعید سے،انہوں نے سبرہ بن ابوسبرہ سے،انہوں نے اپنے والد سےکی کہ وہ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،آپ نےدریافت کیا،تمہارے بیٹوں کا کیانام ہے؟میں نے عرض کیا،فلاں،فلاں اور عبدالعزی،آپ نے ف۔۔۔
مزید