شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ افضال الرحمن عرف فضلو میاں نقشبندی رحمانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگ اویس زمانہ عارف یگانہ مولانا حضرت شاہ فضل الرحمٰن نقشبندی گنج مراد آبادی کے پوتے اور ان کے دوسرے سجادہ نشین شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ افضال الرحمن عرف فضلو میاں نقشبندی رحمانی کا ایک سو پانچ سال کی عمر میں 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء وصال ھوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ان کی تدفین 13 جمادی الاولیٰ 1439 ہجری بروز بدھ بمطابق 31 جنوری 2018ء بعد نماز عصر بمقام آستانۂ عالیہ رحمانیہ، گنج مراد آباد ضلع اناو میں کی گئی ۔اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند فرمائے آمین ۔۔۔۔
مزید
عالم ربانی برکات ثانی حضرت سید شاہ محمد حقانی قدس سرہٗ ولادتِ با سعادت: حضرت سید شاہ محمد حقانی قدس سرہٗ کی ولادت 1145ھ میں ہوئی۔ سلسلۂ نسب: شاہ حقانی قدس سرہٗ کے والد حضرت سید شاہ آل محمد مارہروی جبکہ دادا جان حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمہما اللہ ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام سیدہ غنیمت بی بی علیہا الرحمہ ہے (جو حضور صاحب البرکات کی دعاؤں کا ثمرہ تھیں) اور نانا جان سید شاہ عظمت اللہ قدس سرہٗ ہیں جو حضور صاحب البرکات کے منجھلے بھائی ہیں۔ تحصیلِ علم: اپنے والد ماجد حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ اور بڑے بھائی حضرت سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی۔ والدِ ماجد کے وصال کے وقت عمر: 20؍ سال بیعت و خلافت: بیعت و خلافت والد ماجد سید شاہ آل محمد قدس سرہٗ سے ہے اور بڑے بھائی سید شاہ حمزہ عینی قدس سرہٗ سے بھی اجازت و۔۔۔
مزید
حضرت سید شاہ آل امام جما میاں قدس سرہٗ ولادتِ با سعادت: حضرت سید آل امام جما میاں کی ولادت 1194ھ میں ہوئی۔ والدِ ماجد: حضرت سید شاہ آل برکات ستھرے میاں رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ بیعت: اپنے چچا حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں سے۔ عقد: پہلا عقد چچا جان حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں صاحب کی صاحبزادی سے ہوا اور دوسرا عقدحضرت سید فقیر صاحب بن شاہ گدا صاحب کی صاحبزادی سے ہوا۔ اولادِ امجاد: عقد اول سے ایک صاحبزادہ حضرت سید اولاد حسین اور تین لڑکیاں ہوئیں جبکہ ثانی سے دو لڑکے حضرت سید ابن امام اورحضرت سید آل محمد تولد ہوئے۔ وصال ِ پُر ملال: موضع کوات میں 8؍ رمضان المبارک 1248ھ میں ہوا اور وہیں آخری آرام گاہ ہے۔ بہ شکریہ : البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، انوپ شہر روڈ،علی گڑھ دعاؤں کا طالب : محمد حسین مُشاہد رضوی۔۔۔
مزید
حضرت سید شاہ بشیر حیدر آل عباقادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادتِ با سعادت: حضرت سید شاہ بشیر حیدر آل عبا قادری کی ولادت 1892ء سیتا پور میں ہوئی۔ والد ماجد کا نام : حضرت سید شاہ حسین حیدر قادری قدس سرہٗ۔ بیعت: حضرت سید شاہ ابو الحسین احمد نوری میاں قدس سرہٗ ۔ خلافت: مجدد برکاتیت سید شاہ ابو القاسم محمد اسماعیل حسن شا ہ جی میاں قدس سرہٗ ۔ اولاد امجاد: سید العلما حضرت سید شاہ آل مصطفی سید میاں قادری، احسن العلما حضرت سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں قادری اور شفیق ملت حضرت سید مرتضی حیدر حسین زیدی قدست اسرارہم ا ور دو صاحبزادیاں حافظہ سیدہ عائشہ خاتون و حافظہ سیدہ زاہدہ خاتون قدس سرہما۔ تحصیلِ علم: انٹر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیا جبکہ گریجویشن عثمانیہ۔۔۔
مزید
مقدام العارفین حضرت میر سید شاہ عبد الجلیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادتِ با سعادت: آپ 20؍رجب المرجب 972ھ بروز جمعرات بوقت ظہر بلگرام شریف میں پیدا ہوئے۔ والدِ ماجد کا نام: حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ مارہرہ شریف میں آمد: 1017ھ میں۔ آپ پر عالم جذب کب طاری ہوا اور کتنے دنوں تک رہا؟ عین عالم شباب میں آپ پر جذب کی کیفیت طاری ہوئی اور پورے بارہ برس تک آپ اسی حالت میں عالم کی سیر کرتے رہے۔ اترنجی کھیڑا کا ایک واقعہ: یہ مارہرہ شریف سے جانب مشرق 3؍ کوس کے فاصلے پر ہے یہاں رجال الغیب میں سے ایک نورانی بزرگ سے میر صاحب کی ملاقات ہوئی، انہوں نے آپ کو دودھ چاول کھلایا اور فرمایا: ’’یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ آباد ہے۔ بارگاہ الہٰی اور دربار رسالت مآب سے وہاں کی ولایت تم کو عطا ہوئی۔ جاؤ اور رشد و ہدایتِ خلق میں مشغول ہوجاؤ۔&lsqu۔۔۔
مزید
جدّ اعلیٰ ساداتِ مارہرہ حضرت میر سید محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت میر سید محمد صغریٰ خاندانِ برکات کے مورثِ اعلیٰ ہیں۔ ہندوستان میں خاندانِ برکات کا آغاز آپ ہی سے ہوا۔ سلسلۂ نسب: میر سید محمد صغریٰ بن سید علی بن سید حسین بن سید ابو لفرح ثانی بن سید ابو الفراس بن سید ابو الفرح واسطی رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین۔ بلگرام سے ہجرت: آپ سے پہلے آپ کے دادا حضرت سید حسین بن سیدابو الفرح ثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سیر و سیاحت فرماتے ہوئے بلگرام کے پاس موضع ’’پینوٹی‘‘ میں تشریف لائے اور ایک ٹیلے پر قیام کیا۔ اہم واقعہ : پینوٹی کے ایک مسلمان نے آپ (حضرت سید حسین قدس سرہٗ) کو گائے بطور تحفہ پیش کی۔آپ نے اسے ذبح کر کے اپنے ساتھیوں کو کھلادیا۔ اس پر بلگرام کا سردار سیخ پا (آگ بگولا) ہوگیا اور اس نے راجہ سانڈی اور قنوج۔۔۔
مزید