پیر , 22 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 08 June,2026

پسنديدہ شخصيات

محمد الجزائری  

              محمد بن محمود بن محمد بن حسین الجزائری: ابن العنابی کے نام سے معروف تھے،فقیہ،مقری،مفتی اور مجود القرآن تھے۔محمد علی خدیو مصر کے زمانے میں اسکندر یہ کے قاضی تھے۔۱۲۶۷؁ھ میں وفات پائی۔التوفیق والشدید فی شرح الفرید فے التجوید اور السعی المحمود فی ترتیب العساکرو الجنود آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد نسیب بن حمزہ دمشقی

                سید محمد نسیب بن حسین بن یحییٰ بن حسن بن عبد الکریم[1]بن محمد بن کمال الدین حسینی دمشقی: ادیب،شاعر،عروضی اور فقیہ تھے۔۱۲۰۱؁ھ میں پیدا ہوئے۔دیوان شعر کے علاوہ شرح الکافی اور تحفۃ الاسماع بمولد حسن الاخلاق والطباع،آپ کی تصانیف ہیں،آپ نے ۱۲۶۵؁ھ میں دمشق میں وفات پائی۔آپ کے بیٹے سید محمود بن سید محمد نسیب بن حمزہ دمشقی،ادیب،شاعر،ناظم،اصولی،متکلم، مفسر،محدث اور فقیہ تھے،شام کے مفتی رہے۔۱۲۳۶؁ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۳۰۵؁ھ میں وفات پائی۔۲۵سے زائد تصانیف آپ کی یادگار ہیں جن میں الاحادیث المتواترہ،در الاسرار فی تفسیر القرآن بحروف مہمل،غریب الفتاویٰ،القواعد الفقہیہ، مصباح الدراریہ فی اصطلاح الدرایہ فی اصطلاح الہدایہ اور منظومہ جامع صغیر للشیبانی فی الفقہ مشہور ہیں۔   1۔ عبد الکریم کے بھائی سید ابراہیم بن محمد ابن حمزہ دمشقی۔۔۔

مزید

یوسف جعبری

یوسف بن اسحٰق بن ابراہیم بن جعبری: ابو المحاسن کنیت اور صدر القراء لقب تھا اپنے زمانہ کے امام،زاہد،مجتہد،محدچ،فقیہ،حافظ،مفسر،ثقہ،متقن،قراءت اور روایات میں فرد زمانہ تھے،علوم ابی العباس احمد سروجی سے اخذ کیے اور مدت تک تحدیث و تدریس اور افتاء کا کام دیا لیکن اعتزال کی تہمت آپ کو دی گئی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

یوسف کردی موصلی  

              یوسف بن عبد الجلیل بن مصطفیٰ حضری جلیلی: کردی الاصل تھے۔ موصل میں پیدا ہوئے۔مصر میں سکونت اختیار کی۔فقیہ،مدرس اور واعظ تھے۔مدرسہ قرہ مصطفیٰ پاشا میں درس دیا۔جامع یونس اور جامع طغرائیر میں واعظ رہے۔الانتصار للاولیاء والاخیار اور کشف الاسرار وذخائر الابرار آپ کی تصانیف ہیں۔۱۲۴۱؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ذوالنون موصلی

                ابو محمد معین الدین بن جر جس موصلی: ذوالنون لقب تھا،فقیہ اور مقری تھے۔۱۲۳۵؁ھ کے قریب وفات پائی۔کشف الضرر فی فروع فقہ حنفی اور جوزہ فی تجوید القرآن اور اس کی شرح سراج الاذہان وغیرہ تصنیف کیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

منیب عینتابی رومی

                محمد بن محمد عینتابی رومی: فاضل علوم اور فقیہ تھے،اناطولی کے قاضی عسکر رہے۔۱۲۳۴؁ھ میں آیدین میں وفات پائی۔ترجمۃ السیر الکبیر فی الفقہ دو جلدوں میں،تیسیر المسیر فی شرح السیر الکبیر،فضائل جہاد وغیرہ آپ کی تصانیف ہیں۔آپ کے بیٹے مصطفیٰ سعید عینتابی متوفی ۱۲۷۹؁ھ بھی مشہور فقیہ تھے۔کتاب انتخاب الفقہاء چار جلدوں میں آپ کی یادگار ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

تاجی بعلبکی

                محمد ہبۃ اللہ بن محمد بن یحییٰ بن عبد الرحمٰن تاجی بعلبکی: عالم فاضل فقیہ تھے۔بغداد کے قاضی رہے۔۱۲۲۴؁ھ میں قسطنطنیہ میں وفات پائی۔تحقیقی الباہر فے شرح الاشابہ والنظائر لا بن نجیم،سلک القلائد اور مہام المنیہ آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

خلیل قونوی

                خلیل بن احمد بن ہمت قونوی: مفسر،مفتی،فقیہ،متکلم اور اصولی تھے۔ مغنیسا شہر کے مفتی تھے،وہیں ذی الحجہ ۱۲۲۴؁ھ میں وفات پائی۔حاشیہ السید لشرح العضد،دیباچہ عقائد نسفیہ،خیالی،شرح قاز آبادی اور بہت سی کتب پر حواشی تحریر فرمائے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

مفتی زادہ ارزنجانی

                محمد صادق بن سید عبد الرحیم (یا عبد الرحمٰن)بن سلیمان بن عبد اللطیف ارزنجانی رومی نزیل قسطنطنیہ عالم،منطقی اور بیانی تھے۔۱۲۲۳؁ھ میں قسطنطنیہ میں وفات پائی،شرح حسینیہ فی الآداب،شرح قطب شمسیہ پر حواشی تحریر کیے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابن بالی

                محمد امین بن علی مدنی معروف بہ ابن بالی: فقیہ اور مفتی تھے۔۱۲۲۰؁ھ میں وفات پائی۔تکملہ شرح عثمان شامی حلی الاشباہ والنظائر،حاشیہ علی منسک الدر المختار اور مجموعۃ الفتاویٰ آپ کی تصانیف ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید