منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ان سے ابو الزبیر نے روایت کی کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک ایسی عورت ہے جو کسی چھونے والے ہاتھ سے بدکتی نہیں فرمایا اسے طلاق دے دو اس نے عرض کیا میں اسے پسند کرتا ہوں اور وہ مجھے چاہتی ہے فرمایا اسے استعمال کر بقول ابن اثیر اس میں اختلاف ہے تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن صبابہ بن حزن بن سیار بن عبد اللہ بن کلیب بن عوف بن کعب عامر بن یسث بن بکر بن عبد مناہ بن کناتہ الکنافی لیشی: ان کے بھائی کا نام مقیش بن صبابہ تھا۔ ابو صالح نے عبد اللہ بن عباس سے روایت کی کہ مقیش کے بھائی ہشام کو کسی نے بنو نجار میں سے قتل کردیا مقیش نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں معاملہ پیش کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زہیر بن عیاض فہری کو مقیش کے ساتھ بنو نجار کے پاس روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ اگر ہشام بن صبابہ کے قاتل کو جانتے ہو تو اسے مقیش کے حوالے کردو اور اگر نہیں جانتے تو خون بہا ادا کرو بنو نجار نے باہم مل کر خون بہا جمع کیا اور مقیش کے حوالے کردیا مقیش خون بہا وصول کرچکا تو اس نے زہیر کو قتل کردیا اور مرتد ہوکر بھاگ گیا اس موقعہ پر اس نے کچھ اشعار کہے جن میں سے ایک شعر درج ذیل ہے۔ فادرکت ثاری واضطجعت وسادۃ وکنت من الاسلام اول راجع ترجمہ: میں نے۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن عاص بن وائل بن ہاشم بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیض بن کعب بن لوئی قرشی سہمی ان کی والدہ کی کنیت ام حرملہ دختر ہشام بن مغیرہ تھی یہ عمرو بن عاص کے بھائی اور قدیم الاسلام تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکے ہی میں تھے کہ جناب ہشام ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تھے جب انہیں معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینے چلے گئے ہیں تو جناب ہشام مکے آئے۔ تو ان کے قبیلے نے انہیں روک لیا اور پھر غزوۂ خندق کے بعد دوبارہ ہجرت کرکے مدینے آئے ہشام بڑے پارسا اور فاضل آدمی تھے اور عمرو بن عاص کے چھوٹے بھائی تھے ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکے ہی میں تھے کہ ان کے قبیلے نے انہیں روک لیا تھا۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس بن بکیر سے انہوں نے اب اسحاق سے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر سے انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ جب ہم ہجرت کے لیے جمع ہوئے تو میں عیاش بن ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن عاص بن ہشام بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم قرشی، مخزومی: ان کی والدہ کا نام عاتکہ تھا جو ولید بن مغیرہ کی بیٹی اور خالد کی ہمشیرہ تھیں اور ہشام ابو جہل بن ہشام کے بھتیجے تھے ان کا باپ عاص غزوۂ بدر میں کفر کی حالت میں مارا گیا تھا بردایتے انہیں حضرت عمر بن خطاب نے قتل کیا تھا اور عاص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ماموں تھا۔ ہشام فتح مکہ ے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ سے کپڑا اتارا اور مہت نبوت پر ہاتھ رکھ لیا آپ نے ان کے ہاتھ کو ہٹا کر تین دفعہ ان کے سینے پر ہاتھ مارا، اور فرمایا۔ اے خدا تو اس کے دل سے کینہ اور حسد دور فرما اور ان میں ایک آدمی جس کی گردن ٹیڑھی تھی اور جس کا نام محمد بن عبد الرحمان بن ہشام بن یحییٰ بن ہشام بن عاص تھا کہا کرتے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے ہم میں بغض اور کینہ کم ہے ابو عمر نے اس کا۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن عامر بن امیہ بن زید بن ححاس بن مالک بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار الانصاری جاہلیت میں ان کا نام شہاب تھا، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر ہشام کردیا ان کے والد عامر غزوہ احد میں شریک تھے جناب ہشام نے بعد میں بصرہ میں سکونت اختیار کرلی تھی یہ سعد بن ہشام کے والد ہیں جنہوں نے حضرت عائشہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتروں کے بارے میں دریافت کیا تھا انہوں نے بصرے میں وفات پائی۔ ابو الربیع سلیمان بن ابو البرکات محمد بن محمد بن خمیس نے اپنے والد سے انہوں نے ابو نصر احمد بن عبد الباقی بن حسن بن طوق سے انہوں نے ابو القاسم نصر بن احمد بن المرجی سے انہوں نے ابو یعلی موصلی سے انہوں نے شیبان بن فروخ سے انہوں نے سلیمان بن مغیرہ سے انہوں نے حمید بن ہلال سے انہوں نے ہشام بن عامر سے سنا کہ انصار غزوۂ احد کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، یا رسول اللہ ہم ز۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد الشمس القرشی عبشمی: یہ معاویہ کے ماموں تھے کنیت ابو حزیفہ اور نام ہشیم تھا ایک روایت میں مہشم مذکور ہے وہ اور ان کے آزاد کردہ غلام سالم ۱۱؍ ہجری میں جنگ یمامہ میں موجود تھے نیز وہ غزوۂ بدر کے مجاہدوں میں بھی شامل تھے چونکہ وہ کنیت سے زیادہ مشہور ہیں اس لیے ہم ان کا ذکر وہاں زیادہ تفصیل سے لکھیں گے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن جذیمہ بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤسی: اور جذیمہ نصر بن مالک کے بھائی مولقہ القلوب میں سے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غنائم حنین سے سو کے لگ بھگ اونٹ عطا فرمائے تھے یہ ابن مندہ کا قول ہے۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ رسولِ اکرم نے کئی آدمیوں کو سو کے لگ بھگ اونٹ دیے تھے ان میں سے ہشام بن عمرو بھی تھے جو بنو عامر بن لوی کے بھائی تھے یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے اس صحیفے کو جسے قریش نے بنو ہاشم سے مقاطعہ کے متعلق لکھ کر کعبے میں لٹکا دیا تھا۔ اور جس میں تحریر تھا کہ نہ بنو ہاشم کو کوئی چیز بیچیں گے اور نہ خریدیں گے اتار کر پھینک دیا تھا۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ اس صحیفے کے خلاف جس میں بنو ہاشم کے خلاف تمام قریش مکہ نے ایک عہد نامہ مرتب کیا تھا کچھ عرصے کے بعد قریش کے کئی ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن قتادہ الرہاوی: انہوں نے رہا میں سکونت اختیار کرلی تھی یہ بغوی کا قول ہے ابو نعیم اور یحییٰ نے ان کاتتبع کیا ہے جناب ہشام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور ان سے قتادہ بن فضیل نے روایت کی۔ ابو موسیٰ نے اذنا ابو علی سے، انہوں نے ابو نعیم سے، انہوں نے احمد بن محمد بن یوسف سے انہوں نے منیعی سے، انہوں نے ابو بکر بن زنجویہ سے، انہوں نے علی بن بحر سے، انہوں نے قتادہ بن فضیل بن عبد اللہ بن قتادہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے چچا ہشام بن قتادہ سے روایت کی، کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی قوم کا سردار مقرر فرمایا تو میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی التجا کی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تقوی تیرا زادِ سفر ہو اللہ تیرے قصور معاف فرمائے اور تو جہاں بھی ہو۔ بھ۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن مغیرہ بن عاص: ابن ابی مریم نے ابو غان سے، انہوں نے ابی حازم سے، انہوں نے عمرو بن ہشام سے، انہوں نے عمرو اور ہشام(یہ دونوں ان کے بزرگ تھے) سے روایت کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے اور قرآنِ حکیم کی بعض آیات دوسری آیات کی تصدیق کرتی ہیں جن آیات کے مفہوم تک تمہاری رسائی ہوجائے(یعنی آیات محکمات) ان پر عمل کرو۔ اور جو آیات تمہاری ذہنی گرفت میں نہ آسکیں(یعنی متشابہات) ان پر ایمان لاؤ۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ ایک اور ہشام ہیں اور جفر نے ان کا نام لیا ہے اور باسنادہ عمران القطان سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے زرارہ بن ابی اونی سے انہوں نے سعد بن ہشام سے انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کہ جس کا نام شہاب تھا کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ آج سے تمہارا نام ہشام ہے ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے ممکن ہے وہ ہشام بن عامر ہوں جو سعد کے والد تھے۔۔۔۔

مزید