آپ کے والد کا اسم گرامی یوسف تھا جونپور کے رہنے والے تھے شیخ دانیال چشتی کے خلیفہ تھے آپ مغلوب الحال اور صاحب سُکر بزرگ تھے جس طرح بعض حضرات نے انا اللہ۔ اناالحق اور سبحانی کہا تھا آپ اناالمہدی کا نعرہ لگاتے تھے مگر جب ہوش(صحو) میں ہوتے تو دوسرے بزرگانِ دین کی طرح دعویٰ مہدیت سے توبہ کرتے تھے اس زمانے کے جاہل عوام نے آپ کی اس تردید کو قبول نہ کیا اور آپ کومہدی موعود ماننے لگے اس طرح وہ اپنی جہالت کی سیاہیوں میں پھنسے رہے انہوں نے اپنے طور پر ہی بہتر فرقوں کے علاوہ ایک فرقہ مہدیہ بنالیا بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت کے اناالمہدی کے دعویٰ سے مراد مہدی موعود نہ تھا بلکہ ہادی مہدی تھا جس طرح بہت سے اولیاء ہادی اور مہدی کے القابات سے ملقب ہوئے ہیں لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت سید محمد فرقہ مہدیت سے جس قدر دُور رہتے تھے لوگ اسی قدر دعویٰ مہدیت کو درست قرار دیتے تھے چنانچہ یہ فرقہ ایک عرصہ تک ہندوستان۔۔۔
مزید
آپ پیر کبار کی اولاد سے تھے اہل تجرید، تفرید اور تقویٰ میں بدرجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے سات بار حج کیا چہرے پر برقعہ رکھا کرتے تھے تاکہ کسی نامحرم کی ناموس پرنگاہ نہ پڑے لیکن اِس کے باجود ان کے دل پر وہ کیفیت طاری نہ ہوئی جو کامیابی کی علامت ہوتی ہے وہ کئی اولیا اللہ کے پاس گئے التجائیں کیں امداد طلب کی مگر کام نہ بنا جب وہ ساتویں بار حج کرنے گئے تو وہاں کھڑے ہوکر اللہ سے رو کر التجاء کی غیب سے حاتف نے آواز دی کہ آپ کا کام شیخ عیسیٰ مشوانی رحمۃ اللہ علیہ سر انجام دیں گے چنانچہ مکہ سے چل کر ہندوستان آئے اور شیخ عیسیٰ مشوانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے شیخ عیسیٰ ملامتیہ طریقہ کے مالک تھے وہ کھلے عام شراب نوشی کرتے شیخ حاجی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ بہت ہی نیک اور متقی آدمی تھے وہ شیخ عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نہ گئے اور دل میں آیا کہ یہاں سے لوٹ چلوں شیخ عیسیٰ نے کشفی طور پر آ۔۔۔
مزید
آپ حضرت پیر کبار کی اولاد سے تھے بڑے متوکل اور متورع بزرگ تھے اپنے حجرہ میں معتکف رہا کرتے تھے اور غم و شادی پر بھی باہر نہ آتے تھے جب آپ کو نفس مجبور کرتا کہ حجرے سے باہر آئیں تو اندر ہی اندر دیوار بنانا شروع کردیتے پھر تھک جاتے تو دیوار گرادیتے اور پھر حجرے میں ہی عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے حضرت اخوند سید شوربانی آپ کی بے پناہ عزت کرتے تھے کہتے ہیں ایک بار آپ نے دعا کی ’’اے اللہ تو نے مجھے کثیر الاولاد بنایا ہے ان میں بعض نیک ہیں اور بعض بُرے ہیں میری استدعا ہے کہ تمام کو بخش دے غیب سے ہاتف نے آواز دی کہ ایک سخت کمان اٹھاؤ اور اس پر ایک تیر رکھ کر دُور پھینکو جہاں تک تیر جائے گا قدم پر تمہیں اولاد دوں گا آپ نے تیر پھینکا تو چار قدم پر جا پڑا آپ نے سمجھ لیا کہ میری اولاد چار پشتوں تک رہے گی جنہیں اللہ تعالیٰ بخش دے گا آپ ۱۰۴۹ھ کو فوت ہوئے مزار قصور میں ہے لوگ آپ کے مزا۔۔۔
مزید
آپ کو شیخ محمد جانسی بھی کہا جاتا تھا آپ کا لقب محقق ہندی تھا آپ شیخ اللہ داد قدس سرہ کے خلیفہ تھے آپ کے کلام میں اپنے پیر و مرشد کی بڑی تعریف کی گئی ہے آپ کو اکبر بادشاہ کے دربار میں لایا گیا تو اس وقت آپ کو زپشت(کبڑے) ہو چکے تھے بادشاہ آپ کی شکل و صورت دیکھ کر ہنس پڑا آپ نے فرمایا بادشاہ حضور آپ چھوٹے پر ہنس رہے ہیں یا بڑے پر یہ تو سب اس کے بنائے ہوئے ہیں بادشاہ اس بات سے متنبہ ہوگیا اور آپ کی باتوں سے بہت متاثر ہوا آپ نے ہندی زبان میں بہت سی کتابیں لکھی تھیں جن میں سے پد ماوت، کتھاوت، اکبروتی، کہرانامہ، پوشی نامہ، ہولی نامہ بڑی مشہور ہوئیں تھیں کہتے ہیں کہ آپ شیخ اللہ داد کے زیر تربیت رہ کر بڑے بلند مقامات پر فائز ہوئے تھے ۱۰۴۹ھ میں فوت ہوئے صاحب معارج الولایت نے لکھا ہے کہ آپ اکبر بادشاہ کے آخری سال اقتدار تک زندہ تھے۔ محمد چوں ز دنیا نزد حق رفت بسال رحلت آں شاہ عالی یکے فضل کمال اولیا۔۔۔
مزید
آپ سید محمد رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے بھی تھے اور مرید بھی ظاہری اور باطنی علوم میں جامع تھے سکر و جذبہ، حقائق، معارف، عشق و محبت سماع و جد کے رسیا تھے ظاہری اور باطنی علوم کے مالک تھے ہندی اور فارسی میں اشعار کہا کرتے تھے منکرین اسلام سے مناظرہ کیا کرتے تھے مسائل توحید پر گفتگو کرتے شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کے خیالات کو اعلانیہ بیان فرمایا کرتے تھے فرض نماز پڑھنے کے بعد نو بار کلمہ لاالہکا ورد کرتے آپ شاہ جہاں پور کے نقشبندی اور مجددیوں سے مسئلہ توحید و سماع پر مناظرہ کرتے تھے وہ آپ سے ناراض تھے آپ کے ساتھ جو بھی مناظرہ کرتا تو آپ فرماتے تم نقشبندی تو نہیں ہو چونکہ آپ کو بزرگان چشت سے خصوصی لگاؤ تھا۔ آپ ہر وقت اس سلسلہ کی تعریف میں رطب اللسان رہتے خصوصًا حضرت خواجہ گیسو دراز سے بڑی محبت رکھتے تھے آپ نے عربی میں ایک کتاب لکھی جو اسمائے حسنہ کی شرح تھی اس کا نام جو امع الک۔۔۔
مزید
آپ قوم کے گجر تھے اور وقت کے کامل مشائخ میں سے تھے عبادت میں مشغول رہتے تھے چشتیہ سلسلے میں سرگرم ہے آپ کا طریقہ مولانا درویزہ پشاوری کا طریقہ تھا۔ آپ محزن الاسلام کتاب کو بڑی دلچسپی سے پڑھتے تھے لوگوں کو بھی اِس کو پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے آپ اگرچہ پشتو میں بات کرتے تھے لیکن شعر فارسی میں کہتے تھے کبھی کبھی ہندی زبان میں بھی گفتگو کرتے آپ کے مریدوں میں مولانا چلاک میانا شخو شاہ جہاں پوری اور شیخ علی بڑے مشہور ہوئے۔ آپ کی مجلس میں جو بھی پہنچ جاتا دینی علوم میں ماہر ہوجاتا۔ آپ ۱۰۷۳ ہجری میں فوت ہوئے۔ آپ کا مزار پشاور میں ہے۔ جو پنجو رستم سر پنجہ عشق ز دنیا گشت در ذات خدا طاق وصالش عارف اخلاص گفتم دگر کرم ارقم فیاض آفاق ۱۰۷۳ھ ۔۔۔
مزید
آپ ظاہری اور باطنی علوم میں کامل تھے آپ شیخ عبدالکریم رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے آپ کے اکثر مرید صاحبِ علم فضل اور ریاضتوں مجاہدہ میں کامل ہوئے ہیں آپ کے زمانے میں پیر محمد پکنوی بھی تھے وہاں کے لوگ جن میں علماء و فضلا بھی تھے شیخ پیر محمد پکنوی سے نفرت کرتے تھے اور ان کی طرف رجوع کرتے تھے حتیٰ کہ شیخ پیر محمد پکنوی مجرد اور اکیلے تھے اور لباسِ فقر پہنا کرتے تھے دوسری طرف پیر محمد سلون شادی شدہ اور عیال دار تھے اور مشائخ کا لباس پہنتے تھے اخبار الاولیاء کے مصنف نے آپ کی بڑی کرامتیں نقل کیں ہیں وہ لکھتے ہیں کہ شیخ پیر محمد اپنی شکل و صورت میں اللہ کی ایک نشانی تھے وہ جس صورت میں چاہتے اپنی صورت بنالیتے ہندی اور فارسی میں شعر کہا کرتے تھے۔ آپ کی وفات ۱۰۷۴ھ میں ہوئی۔ واصل وصل محمد پیر دین یافت ازحق دولت وصلت بدست رحلتش گو عارف جنت کریم ہم بخوان پیر محمد حق پرست ۱۰۷۴ھ۔۔۔
مزید
آپ بنگال کے رہنے والے تھے شیخ محمد حالیہ رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے بڑے صاحب عظمت و شہامت بزرگ تھے پہلے قصبہ حالیہ میں رہتے تھے پھر بجنیر چلے آئے تیس سال تک ضرورت کے بغیر اپنے حجرۂ عبادت سے باہر نہیں نکلے ہمیشہ روزہ رکھتے تھے لوگوں سے نذرانے قبول نہیں کرتے تھے۔ ذکر اسم ذات میں مشغول رہتے تھے آپ کی کشف و کرامات بہت ہیں چنانچہ صاحب معارج الولایت لکھتے ہیں کہ ایک بار حضرت شیخ نے میرے بھائی عبدالستار کو فرمایا کہ تمہارا بھائی فلاں فلاں تاریخ کو فلاں فلاں منصب پر فائز ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک دن ایک سپاہی کو فرمانے لگے کہ تم عنقریب شاہ عالم بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوکر نوکری کروگے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی وفات ۱۰۷۹ھ میں ہوئی۔ آپ کا مزار اورنگ آباد میں ہے۔ چوں محب خدا حبیب زمن شد بجنت بسال رحلت آں متقی شاہ اکبر است بگو نیز اعظم ولی حبیب بخواں ۔۔۔
مزید
آپ بنگال کے رہنے والے تھے شیخ محمد حالیہ رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے بڑے صاحب عظمت و شہامت بزرگ تھے پہلے قصبہ حالیہ میں رہتے تھے پھر بجنیر چلے آئے تیس سال تک ضرورت کے بغیر اپنے حجرۂ عبادت سے باہر نہیں نکلے ہمیشہ روزہ رکھتے تھے لوگوں سے نذرانے قبول نہیں کرتے تھے۔ ذکر اسم ذات میں مشغول رہتے تھے آپ کی کشف و کرامات بہت ہیں چنانچہ صاحب معارج الولایت لکھتے ہیں کہ ایک بار حضرت شیخ نے میرے بھائی عبدالستار کو فرمایا کہ تمہارا بھائی فلاں فلاں تاریخ کو فلاں فلاں منصب پر فائز ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک دن ایک سپاہی کو فرمانے لگے کہ تم عنقریب شاہ عالم بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوکر نوکری کروگے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی وفات ۱۰۷۹ھ میں ہوئی۔ آپ کا مزار اورنگ آباد میں ہے۔ چوں محب خدا حبیب زمن شد بجنت بسال رحلت آں متقی شاہ اکبر است بگو نیز اعظم ولی حبیب بخواں ۔۔۔
مزید
آپ بڑے کامل اور مکمل درویش تھے حرمین الشریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ کا اصلی وطن تو جونپور تھا مگر آپ نے تعلیم حاصل کرنے کے لیے مختلف شہروں میں قیام کیا ایک عرصہ تک دہلی رہے اور وہاں ہی پڑھتے رہے وہاں سے قنوج آئے اور وہاں کے علماء کرام سے بعض کتابیں پڑھیں وہاں سے لکھنو چلے گئے اور سید عبدالقادر لکھنوی سے چند کتابیں پڑھیں وہاں سے ہی جذب الٰہی دامن گیر ہوا ان دنوں ایک چشتی بزرگ شاہ عبداللہ سیاح رحمۃ اللہ علیہ کوہ بستان میں سکونت پذیر تھے آپ نے ساری اسلامی دنیا کی سیر کی تھی آپ انہی کے مرید ہوگئے خاندان چشتیہ سے خاص فیض ملا آپ کو دوسرے سلسلوں میں بھی بیعت کا شرف ملا تھا تدریس و تعلیم میں مشغول رہے مخلوق خدا کو ہدایت کرتے رہے لکھنو میں آپ کو مرشد گرامی نے حکم دیا کہ دریائے گومتی کے کنارے جاکر ریاضت کریں وہاں آپ ایک طرف لوگوں کو روحانی تربت دیتے دوسری طرف طلباء کو کتابیں پڑھاتے تھے آپ۔۔۔
مزید