بدھ , 12 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 29 April,2026

پسنديدہ شخصيات

ابوالعوجا رضی اللہ عنہ

ابوالعوجا،زہری کاقول ہے کہ حضوراکرِم نے بنوسلیم کے خلاف ایک سریہ ابوالعوجاء سلمی کی کمان میں روانہ کیا،وہ سب قتل کردیئے گئے،ابن اسحاق نے ان کا نام ابن ابوالعوجاء لکھاہے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالعوسجہ ضبی رضی اللہ عنہ

ابوالعوسجہ ضبی،ابوموسیٰ نے کتابتہً ابوالخیر محمدبن احمد بن باغیان سے،انہوں نے ابوالحسین سے، انہوں نےابوعبداللہ الجرجانی سے،انہوں نے ابوالعباس اصم سے،انہوں نے عباس الدوری سے، انہوں نے مہدی بن حفص ابواحمد سے ،انہوں نے ابوالاحوص سے،انہوں نے سلیمان بن فرم سے، انہوں نے عوسجہ سے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ ایک سفر میں حضورِاکرم کے ساتھ تھا،انہوں نے دیکھاکہ حضورِاکرم موزوں پر مسح فرماتے تھے۔ امام بخاری نے ذہلی سے ،انہوں نےمہدی سےیہ روایت کی،بقول ابن عقدہ عوسجہ کوفے کے ضبی قبیلے سے ہیں،ابوعمراورابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوعویمر اسلمی رضی اللہ عنہ

ابوعویمراسلمی،جعفرنے ان کا ذکرکیاہے،ابن ابواویس نے اپنے والدسے،انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے ابوعویمراسلمی سے روایت کی کہ حضورِ اکرم نے ہاتھ سے بجلی کی طرف اشارہ کرنے سے منع کیا،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالاعور بن ظالم رضی اللہ عنہ

ابوالاعور بن ظالم بن عیسیٰ بن حرا م بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجارانصاری خزرجی، غزوہ بدر اور احد میں موجودتھے،ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ ان کا نام کعب بن حارث تھا،ابوجعفر نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے،بہ سلسلۂ شہدائے بدراز بنوحرام بن جندب،ابوالاعور بن حارث کانام لیا ہے،اور یہی رائے ابن الکلبی کی ہے،ابنِ عمارہ کہتے ہیں کہ ابوالاعور کا نا م حارث بن ظالم بن عبس تھا،اور کعب الاعور کے چچاکانام تھااور جو شخص ان کے نسب کو نہیں جانتا،اس نے کعب الاعور کا نام رکھ دیا،لیکن یہ غلط ہے،ابن ہشام لکھتے ہیں،کہ ان کا نام ابوالاعور حارث بن ظالم تھا،لیکن صحیح بات وہ ہے،جو ابنِ اسحاق نے کہی ہے،اور اسی طرح موسیٰ بن عقبہ نے ابوالاعور بن حارث لکھا ہے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالاعورجرمی شامی رضی اللہ عنہ

ابوالاعور جرمی شامی،جبیر بن نفیر سے مروی ہے کہ بنو جرم کا ایک شخص جس کا نام ابوالاعور تھا، حضورِ اکرم کی خدمت میں آیا،اور السلام علیک یارسول اللہ کہا،حضور نے جواب میں وعلیکم السّلام ورحمتہ اللہ فرمایا اور اس کی خیریت دریافت کی،تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالاعور عمروبن سفیان السلمی رضی اللہ عنہ

ابوالاعور عمروبن سفیان السلمی ہم ان کا ذکر کر آئے ہیں،صحابی تھے،ابوحاتم رازی لکھتے ہیں،نہ تو ان کی صحبت ثابت ہے،اور نہ ان سے کوئی روایت مروی ہے،ایک روایت میں ہے کہ وہ غزوۂ حنین میں بہ حیثیت کافر شریک ہوئے اور بعد میں مالک بن عوف کے ساتھ اسلام قبول کیا،اور انہوں نے غزوۂ حنین میں بنوحوازن کی شکست کا واقعہ بیان کیا،بعد میں وہ امیر معاویہ کے خواص میں شامل ہوگئے تھےاور جنگ صفین میں شریک تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ان مخالفین میں سے تھے،جن کے خلاف امیرالمومنین قنوت میں بددعافرمایاکرتے،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ

ابوعیاش زرقی،ان کے نام میں اختلاف ہے،بقول ابن اسحاق ،زیدبن صامت یاعبیدبن زیدبن صامت تھا،خلیفہ کہ مطابق ان کا نام عبیدبن معاویہ بن صامت بن یزید بن خلدہ بن عامربن عبدحارثہ بن مالک بن غضب بن جثم خزرحہ انصاری،خزرجی زرقی ہے،ان کی والدہ خولہ دختر زید بن نعمان بن خلدہ بن عامر بن زریق تھیں،اکثر اہلِ حدیث کا خیال ہے،کہ ان کا نام زید بن صامت تھا، کچھ کہتے ہیں،کہ زیدبن نعمان تھا،اورنعمان بن عیاش کے والد تھے،ابوعیاش کو حضوراکرم کی صحبت نصیب ہوئی،اورتمام غزوات میں شریک رہے اورحضوراکرم کی وفات کے بعدبھی زندہ رہے، ان سے مجاہد،ابوصالح السمان نے روایت کی،امیرمعاویہ کے عہد تک زندہ رہے اور چالیس سال ہجری کے بعد وفات پائی،ایک روایت میں ہے کہ پچاس سال ہجری کے بعدفوت ہوئے۔ یحییٰ بن محمودبن سعیداصفہانی نے حسن بن احمد سے اور میں وہاں حاضرتھااورسن رہاتھا،انہوں نے حافظ احمد بن عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے ابوبکربن۔۔۔

مزید

ابوالازہررضی اللہ عنہ

ابوالازہر،نسب نامعلوم یہ ابوموسیٰ کا قول ہے،ابواحمد کہتےہیں،کہ یہ صاحب اول الذکر سے مختلف ہیں،ابوموسیٰ نے باسنادہ ربیعہ بن یزید سے،انہوں نے واثلہ بن سقع اور ابوالازہر سے روایت کی کہ حضورِاکرم نے دربارۂ علم مذکورہ حدیث ارشاد فرمائی،ابوموسیٰ نے اس کا ذکرکیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں،کہ ابوموسیٰ کی یہ حدیث اول الذکر سے علیحدہ ہے،کیونکہ اسے ابن مندہ نے بیان کیا ہے،اور اس میں صرف سونے کی دعا کا ذکر ہے،اور طلب علم کی حدیث کو مع سونے کی دعاکے ابوعمر نے انماری کے ترجمے میں بیان کیا ہے،اور دونوں کو ایک آدمی قرار دیا ہے،لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکاکہ ابواحمد کو کس طرح معلوم ہوگیا،کہ یہ صحابی انماری سے علیحدہ ہیں،کیونکہ نہ توان کانسب ان سے علیحدہ ہے اور نہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور دلیل ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالازوراحمری رضی اللہ عنہ

ابوالازوراحمری ،بلند مرتبہ صحابہ سے تھے،اور شراب پینے کے بارے میں ان کا واقعہ مشہورہے، ابوالازور،ابوجندل اور ضرار بن خطاب نے شراب کے بارے میں قرآن سے ایک آیت کی تاویل کی تھی،جسے ہم ابوجندل کے ترجمے میں بیان کریں گے۔ ابوالازور نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی،آپ نے فرمایا،رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

ابوالبداح بن عاص رضی اللہ عنہ

ابوالبداح بن عاصم بن عدی بن جد بن عجلان البلوی(جو بنوعمروبن عوف انصار کے حلیف تھے)ہم انکانسب ان کے باپ کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں،ان کی صحبت کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں ہے کہ ان کے والد کو صحبت نصیب ہوئی،لیکن یہ خود تابعی ہیں،اور اپنے والد سے روایت کرتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ انہیں صحبت نصیب ہوئی،اور یہ سبیعہ اسلمیہ کے شوہر تھے،جسے ان کی وفات پر ابوالسنابل بن بعکک نے نکاح کا پیغام بھیجا تھا،ابن جریح وغیرہ نے بھی ان کا ذکر کیا ہے،اور بقول اب عمر اکثر لوگ انہیں صحابی شمار کرتے ہیں،ابوالبداح کے مطابق ان کا لقب اور کنیت ابوعمر تھی،ابونعیم کہتے ہیں کہ بعض متاخرین (ابن مندہ)کو ان کے بارے میں اشتباہ ہؤا ہے،اور لکھا ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابوبکر نے ان سے حدیث روایت کی،حالانکہ راوی ابوبکر بن عمر تھے،واللہ اعلم، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابنِ اثیر لکھتے ہیں،ابوعمر کا ابوالبداح کو سبیعہ سل۔۔۔

مزید