اتوار , 16 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 03 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن سوید بن مقرن: حسن بن سفیان اور منیعی نے ان کا ذکر صحابہ میں کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازتاً ابو علی سے انہوں نے ابو نعیم سے انہوں نے ابو عمرو بن حمدان سے اُنہوں نے حسن بن سفیان سے انہوں نے عثمان بن ابی شیبہ سے انہوں نے عبثر سے انہوں نے مطرف سے انہوں نے عامر سے انہوں نے معاویہ بن سوید سے روایت کی کہ جس شخص نے اپنے بھائی کو کافر کہا۔ تو یہ لفظ دونوں میں سے ایک کو اپنا مصداق بنا لے گا۔ ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن صعقہ التمیمی: بنو تمیم کے جو وفود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ایک وفد میں یہ صاحب بھی شامل تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے۔ جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے باہر آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گنواروں کی طرح آوازیں دینا شروع کردی تھیں۔ ابو عمر نے اختصاراً ان کا ذکر کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ ان سے کوئی روایت مروی نہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نعیمان رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن رفاعہ بن حارث بن سواد بن مالک بن غنم بن تجار: ان کی کنیت ابو عمرو تھی۔ بیعتِ عقبۂ غزوۂ بدر اور اسی طرح باقی غزوات میں شریک رہے طبیعت میں مزاح تھا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی باتیں سن کر محفوظ ہوتے تھے۔ جناب نعیمان سویبط بن حرملہ کے رفیق تھے ہم ان دونوں حضرات کی دلچسپ باتوں سے ایک واقعہ ابو موسیٰ کی زبانی سناتے ہیں ابو علی نے ابو نعیم سے انہوں نے عبد اللہ بن جعفر سے انہوں نے یونس بن حبیب سے انہوں نے ابو داؤد سے انہوں نے زمعہ بن صالح سے انہوں نے زہری سے، انہوں نے عبد اللہ بن وہب سے انہوں نے ام سلمہ سے سنا، ہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے شام پر چڑھائی کی اور جناب نعیمان اور سویبط بن حرملہ ان کے ساتھ تھے۔ یہ دونوں حضرات بدری ہیں اس مہم میں نعیمان راشن کے مہتمم تھے، سویبط ان ے پاس آئے اور کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کہا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آلی۔۔۔

مزید

سیّدنا نقادہ رضی اللہ عنہ

اسدی: ایک روایت میں نقادہ بن عبد اللہ ایک میں نقادہ بن خلف ایک میں نقادہ بن سعر اور ایک میں فقادہ بن مالک آیا ہے حجازی تھے اور صحرا نشین تھے ابو احمدی عسکری کہتے ہیں کہ ان کی کنیت ابو نہیہ تھی بعد میں بصرے میں سکونت اختیار کرلی ان سے زید بن اسلم اور ان کے بیٹے سعر بن نقادہ نے روایت کی۔ ابو یاسر عبد الوہاب بن ہتبہ اللہ نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے، انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے یونس اور عفان سے ان دونونں نے غسان بن بشیر سے انہوں نے سیار بن سلامہ رباحی سے انہوں نے براء سلیطی سے انہوں نے نقادۃ الاسدی سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اک آدمی کے پاس بھیجا کہ اس سے ایک اونٹنی مانگ لائے وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پوری نہ کرسکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دوسرے آدمی کے پاس بھیجا جس نے تعمیل ارشاد کی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔

مزید

سیّدنا نقب رضی اللہ عنہ

بن فردہ بن بدن الانصاری: یہ بنو ساعدہ سے تھے اور غزوۂ احد میں موجود تھے موسیٰ بن عقبہ نے یہ قول ابن شہاب سے نقل کیا ہے ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے ان کی تخریج کی ہے ابو موسیٰ کے مطابق ایک روایت میں ان کا نام نقیب ہے بقول ابن ماکولا ثقیب ہے ایک اور روایت میں الاخرس اور اخرس بھی آیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نقیدہ رضی اللہ عنہ

بن عمرو الخزاعی الکعبی: ان سے حزام بن ہشام نے روایت کی ان کا ذکر صحابہ میں کیا جاتا ہے لیکن بغیر از ثبوت انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ابن مندہ ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نقیر رضی اللہ عنہ

ابو السلیل بن ضرہب بن نقیر کے والد تھے ابو السلیل نے اپنے والد سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک انصاری کے گھر میں تشریف فرما تھے جن کا نام اوس بن حوشب تھا انہوں نے ایک بڑا سا پیالہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں تھما دیا دریافت فرمایا، کیا ہے؟ عرض کیا دودھ اور شہد ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ رکھ دیا اور فرمایا یہ دو مشروب ایسے ہیں جنہیں نہ ہم پیتے ہیں اور نہ جائز گرادنتے ہیں، جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے اللہ اسے اوپر اٹھاتا ہے اور جو شخص غرور کرتا ہے اللہ اسے نیچے گراتا ہے اور نہایت عمدہ طریقے سے اس کے رزق میں اضافہ فرماتا ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا النمر رضی اللہ عنہ

بن تولب بن زہیر بن اقیش بن عبد کعب بن عوف بن حارث بن عوف بن وائل بن قیس بن عوف بن عبد مناہ بن ادا العکلی عوف بن وائل کے بیٹوں کو عکل کہتے تھے کیونکہ جس لونڈی نے ان کی پرورش کی تھی اس کا نام عکل تھا اس لیے سارا خاندان اس نام پر مشہور ہوگیا نمر مشہور شاعر تھے ابن الکلبی نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے لیکن ابو عمر نے ان کا نسب یوں بیان ہے نمر بن تولب بن زہبر بن اقیش بن عبد عوف بن عبد مناہ۔ انہوں نے کعب سے لے کر دوسرے عوف تک پانچ نام حذف کردیے ہیں لیکن اوّل الذکر نسب درست ہے کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ نمر سے لے کر ابن عبد مناۃ تک(جو بنو تمیم کا چچا تھا) صرف پانچ آدمی ہوں۔ مروی ہے کہ جب جناب نمر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک قصیدہ پیش کیا جس کا مطلع یہ تھا۔ انا اتیناک وقد طا۔۔۔

مزید

سیّدنا نمط رضی اللہ عنہ

بن قیس بن مالک بن سعد بن مالک بن لای بن سلمان بن معاویہ بن سفیان بن ارحب الہمدانی ارحبی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن میں ایک جاگیر عطا فرمائی جو ایک طویل عرصے تک ان کے خاندان میں رہی۔ یہ کلبی کا قول ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا نہار رضی اللہ عنہ

العبدی: ابو موسیٰ نے اذنا، ابو القاسم عباد بن محمد بن حن کی کتاب سے انہوں نے ابو احمد بن محمد بن علی المکفوف سے روایت کی ابو موسیٰ کہتے ہیں میں نے ابو الخیر محمد بن رجاء بن یونس سے پڑھا انہوں نے احمد بن عبد الرحمٰن بن احمد سے انہوں نے احمد بن موسیٰ سے ان دونوں نے عبد اللہ بن محمد سے انہوں نے محمد بن احمد بن معدان سے انہوں نے محمد بن عوف سے انہوں نے سفیان انفراری سے انہوں نے یوسف بن اسباط سے انہوں نے سفیان ثوری سے انہوں نے ثور بن یزید سے انہوں نے نہار سے جنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی سنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرتِ اسحاق[۱] ذبیح اللہ تھے اس کے راوی ابو بکر ہیں جنہوں نے بغیر ازا سناد نہار العبدی سے روایت کی انہوں نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا یا رسول اللہ! حسب و نسب کے ل۔۔۔

مزید