ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام سفیان( رضی اللہ عنہا)

ام سفیان بن ضحاک،ان کا شمار صحابیات میں کیا گیا ہے،لیکن بغیراز ثبوت،چنانچہ طبرانی اور جعفر مستغفری نے انہیں صحابیات میں شمار کیا ہے۔ عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے ہدبہ بن خالد سے،انہوں نے حماد بن سلمہ سے،انہوں نے یعلی بن عطاء سے،انہوں نے موسیٰ بن عبدالرحمٰن سے،انہوں نے ام سفیان سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ کے پاس آیا کرتی تھی،اور جب بات چیت کرچکنے کے بعد اٹھتی تو کہتی خدا آپ کو عذاب ِقبرسے محفوظ رکھے،جب رسولِ اکرم تشریف لائے،تو حضرت عائشہ نے آپ سے ذکر کیا،فرمایا،یہ تو اہل کتاب کے بار ے میں ہے،پھرسورج کو گرہن لگ گیا،آپ نے فرمایا،اَعُوْ ذُ بِاللہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے،ابوموسیٰ نے بھی ابن مندہ پر ان کے ذکر سے استدراک کیا ہے،لیکن چونکہ ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے،اس لئے استدراک بے ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام سلیمان( رضی اللہ عنہا)

ام سلیمان یا ام سلمہ ،یا ام سلیم دختر ابوحکیم عدویہ،وہی ہیں،ام سلیمان بن ابی حثمہ،ان سے عبداللہ بن طیب نے روایت کی،کہ انہوں نے خانہ نشین (عمر رسیدہ )عورتوں کو آپ کے پیچھے نماز پڑھتے دیکھا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عمرو السلمی: یہ لوگ بنو عبدالشمس کے حلیف تھے۔ یہ صحابی اپنے دو بھائیوں ثقف اور مدلج کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ جناب مالک کو جنگ یمامہ میں شہادت نصیب ہوئی۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، جناب مالک اور ان کے دو بھائی جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ وہ مدلج اور کثیر تھے۔ اس کی تینوں نے تخریج کی ہے، لیکن ابن مندہ اور ابونعیم کا خیال ہے کہ مالک بن عمرو، ثقف بن عمرو کے بھائی تھے اور یہ لوگ بنو حجر سے ہیں، جو بنو سلیم سے منسوب ہیں۔ لیکن ابو عمر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سلمی ہیں، جو بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ ہم ’’ثقف‘‘ کے لفظ کے تحت لکھ آئے ہیں کہ یہ لوگ اسدی ہیں یا اسلمی ہیں، لیکن انھوں نے وہاں یہ نہیں کہا تھا کہ جناب مالک اسلمی ہیں۔ اس لیے ابو عمر کو اب سوچنا چاہیے اور غور کرنا چاہیے۔ ابن الکلبی نے جناب مالک کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ مالک، ثقف اور صفوان عمرو کے ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ محجن( رضی اللہ عنہا)

امِ محجن،ابن بریدہ نے اپنے والد سےروایت کی کہ حضورِ اکرم ایک بار ایک نئی قبر کے پاس سے گزرے دریافت فرمایا،یہ کس کی قبر ہے،صحابہ نے عرض کیا،یہ ام محجن کی قبر ہے،جو مسجد نبوی کی صفائی میں بڑی دلچسپی لیتی تھی،فرمایا،مجھے کیوں نہ بتایا،صحابہ نے گزارش کی،آپ آرام فرمارہے تھے ہم نے جگانا نہ چاہا،فرمایاایسامت کیا کرو کیونکہ میری دعاسے ان کی قبر میں نور جگمگااٹھتاہے،اس کے بعد صحابہ نے صف باندھی اور آپ نے قبر پر نماز ادافرمائییحییٰ بن ابوانیسہ نے علقمہ سے انہوں نے ایک مدنی آدمی سےمرسلاً روایت کیا ہے اورا س خاتون کا نام محجنہ لکھاہے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سفافہ(رضی اللہ عنہا)

سفافہ دختر حاتم طائی،ہم ان کے بھائی عدی کے ترجمے میں ان کا نسب بیان کرآئے ہیں،ان کے والد حاتم کی کنیت ابوسفانہ تھی۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس ے ،انہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی ،کہ حضور اکرم کے ایک دستہ فوج نے سفانہ کو قید کرلیا،اور حضورِاکرم کے سامنے پیش کیا،آپ نے دروازۂ مسجد کے سامنے ایک حجرے میں ان کے قیام کا بندوبست فرمایا،نبی کریم وہاں سے گزرے تو سفانہ نے اُٹھ کر گزارش کی، یارسول اللہ! میرا والد فوت ہوگیاہے،اور میرا کفیل غائب آپ مجھ پر کرم فرمائیں،اللہ آپ کو اس کی جزاد ے گا،دریافت فرمایا،تیرا کفیل کون ہے،کیا عدی بن حاتم اللہ اور رسول کا بھگوڑا،حضورِ اکرم مجھے اسی حالت میں چھوڑ کر آگے نکل گئے۔ اسی طرح تیسری بار پھر میرے پاس سے گزرے،اور ایک آدمی نے جوحضورِاکرم کے پیچھے چل رہے تھے،اشارہ کیاکہ میں اپنی عرضداشت پھر پیش کروں،چنانچہ میں نے مذکورہ بالا ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ مالک( رضی اللہ عنہا)

ام مالک انصاریہ،یحییٰ بن محمود اجازۃً باسنادہ ابن ابی عاصم سے ،انہوں نے ابوبکر بن ابی شیبہ سے، انہوں نےمحمد بن فضیل سے،انہوں نے عطاء بن سائب سے،انہوں نے یحییٰ بن جعدہ سے،انہوں نے ایک آدمی سے،جنہوں نے ام مالک انصاریہ سے روایت کی،کہ وہ گھی کی ایک کپّی لے کرحضور کی خدمت میں آئیں،حضورِ اکرم نے بلال کو حکم دیا،کہ وہ کپّی لے لیں،بلال نے گھی نچوڑ کر کپی ام مالک کو واپس کردی ،مگر انہوں نے دیکھا کہ کپی لبالب بھری ہوئی ہے،انہوں نے آکر حضورِاکرم سے کہا،یا رسول اللہ ،مجھے عجیب واقعہ پیش آیا ہے،پوچھا کیا ہے؟ ام مالک نے کہا ،کہ میراہدیہ لوٹا دیا گیا ہے ،حضرت بلال کو بلایا گیا،توانہوں نے کہا،یارسول اللہ ،بخدا میں نے تو گھی کواس طرح نچوڑا تھا، کہ خود مجھے شرم آگئی تھی،حضورِ اکرم نے فرمایا،ام مالک تمہیں مبارک ہو ،کہ تمہارا تحفہ مقبول ہوا،اور تمہیں فوراً ہی اس کا بدلہ بھی مِل گ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ مالک( رضی اللہ عنہا)

ام مالک بہزیہ،اسماعیل اور ابراہیم وغیرہ نے باسنادہم تا ابوعیسیٰ،عمران بن موسیٰ قزاز سے، انہوں نے عبدالوارث بن سعید سے،انہوں نے محمد بن حجادہ سے،انہوں نے ایک آدمی سے،انہوں نے طاؤس سے انہوں نے ام مالک بہزیہ سےروایت کی کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنے کا ذکر یوں کیا،گویا وہ بہت قریب ہے،انہوں نے رسول کریم سے دریافت کیا،یارسول اللہ!بہترین آدمی کون ہے،فرمایا،کثیر اولاد ہو،ان کا حق ادا کرے اور اللہ کی عبادت کرے،اور اسی طرح وہ آدمی بھی جس نے گھوڑے کی لگام ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہو،وہ دشمن سے ڈرتا ہے،اور دشمن اس سے ڈرتاہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن التیہان بن مالک بن عبید بن عمرو بن عبدالاعلم بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو (یعنی النبیت بن مالک بن اوس انصاری الاوسی مراد ہے) ایک روایت کی رو سے وہ بلی بن عمرو بن الحاف ابن قضاعہ کے قبیلے سے ہے۔ جو بنو عبدالاشہل کے حلیف تھے اور مالک بن التیہان ان چھ انصار میں شامل تھے۔ جنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ اول اور ثانی میں ملاقات کی تھی اور بنو عبدالاشہل کی روایت کے مطابق مالک رضی اللہ عنہ پہلے انصاری ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، بنو النجار کا قول ہے کہ اسعد بن زرارہ نے سب سے پہلے بیعت کی، بنو سلمہ کی رائے میں یہ اعزاز کعب بن مالک کو نصیب ہوا ایک اور روایت کے مطابق البراء بن معرور نے اول از ہمہ بیعت کی۔ مالک اور اسید بن حضیر بنو عبدالاشہل کے نقیب تھے۔ اول الذکر بدر و احد کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)صفیہ(رضی اللہ عنہا)

صفیہ دخترعبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف قرشیہ ،ہاشمیہ،حضور اکرم کی پھوپھی تھیں،اور زبیر بن عوام کی والدہ ،ان کی والد ہ کا نام ہالہ دختر وہیب بن عبد مناف بن زہرہ تھا،اور وہ حمزہ،مقوم اور حجل کی بہن تھیں،ان کے اسلام کے بار ے میں کو ئی اختلاف نہیں،ہاں البتہ عاتکہ اور اروی کے بارے میں اختلاف ہے،لیکن صحیح روایت یہی ہے،کہ سوائے جناب صفیہ کسی اور نےاسلام قبو ل نہیں کیا، زمانہ جاہلیت میں ان سے حارثہ بن حرب نے جو سفیان کا بھائی تھا،نکاح کیا تھا،اس کی وفات کے بعد عوام بن خویلد کے نکاح میں آئیں،اور دو بچوں زبیر اور عبدالکعبہ کو جنم دیا،لمبی عمر پائی،اورہجری کے بیسویں سال ،حضرت عمر کے عہد خلافت میں وفات پائی،۷۳برس زندہ رہیں، اور جنت البقیع میں مدفون ہوئیں،ایک روایت میں ہے کہ جناب صفیہ کا نکاح پہلے عوام سے ہوا تھا، لیکن یہ روایت بے اصل ہے۔ جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ مسعود( رضی اللہ عنہا)

ام مسعود بن حکم،محمد بن اسحاق نے حکیم بن حکیم بن عباد بن حنیف سے،انہوں نے مسعود بن حکم سے انہوں نے اپنی والدہ سےروایت بیان کی وہ کہتی ہیں،کہ میں گویا اب بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر خچر پر سوار شعبِ انصاری میں گھومتادیکھ رہی ہوں،وہ کہتے پھرتے ہیں،آج کھانے پینے کا دن ہے۔ اس حدیث کو یزید بن ہا د نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے،انہوں نے عمروبن سلیم سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کیا،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید