ام حارث دختر مالک بن خنساء بن سنان انصاریہ،بقول ابن حبیب انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
رُبَیع دختر نضر،ان کا نسب ہم ان کے بھائی کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،یہ انصار کے قبیلے عدی بن نجار سے تھیں،اور حارثہ بن سراقہ کی والدہ تھیں،جو غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے،ان کی والدہ حضور ِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور گزارش کی،یارسول اللہ حارثہ کس حال میں ہے،اگر وہ بہشت میں ہے،تو میں صبر کروں گی اور اپنے آنسوؤں کو روکے رکھوں گی،اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر میں دل کھول کر روؤں گی، فرمایا،جنت کے کئی درجہ ہیں اور حارثہ کو فردوس اعلیٰ میں جگہ ملی ہے۔ یہ رُبَیع وہی خاتون ہیں،جنہوں نے ایک عورت کا اگلا دانت توڑ دیا تھا،چنانچہ ان کے قبیلے نے تاوان پیش کیا،مگر مخالفین نے معافی پر اصرار کیا،لیکن رُبَیع کے خاندان نے معافی مانگنے سے انکا رکردیا،مقدمہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچا۔تو آپ نے قصاص کا حکم دیا،اس پر رُبَیع کا بھا ئی انس بن نضر ۔۔۔
مزید
ام حارث دختر ثابت بن جذع انصاریہ،بقولِ ابن حبیب انہوں نے حضورِ اکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام حارثتہ الربیع دختر نضر،ہم باب الراء کے تحت ان کا ذکر کر آئے ہیں،ابو موسیٰ نے مختصراً انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام حبان دخترِ عامر بن نابی بن زید بن حرام بن کعب بن سلمہ انصاریہ،یہ خاتون عقبہ بن عامر بن نابی کی ہمشیرہ تھیں۔ ۔۔۔
مزید
رفید ہ انصاریہ،ایک روایت میں سلمیہ ہے،عبیداللہ بن احمد نے یونس ے انہوں نےابنِ اسحاق سے روایت کی کہ جب جناب سعد غزوۂ خندق میں زخمی ہو گئے ،توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اہل ِقبیلہ کو حکم دیا،کہ انہیں اٹھا کر رفیدہ کے خیمہ میں لے جاؤ،تاکہ مجھے ان کی عیادت کے لئے دُور نہ جانا پڑے،اور اس خاتون نے مسجد میں خیمہ تان رکھاتھا،جہاں وہ زخمیوں کا علاج کرتیں،اور جو مسلمان ان کے زیر علاج ہوتے وہ ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کرتیں،اور حضورِاکرم جب بھی ادھر سے گزرتے ان کی خیرو عافیت دریافت کرتے اور تحسین فرماتے،ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام حبیب دخترِ عباس بن عبدالمطلب،ایک روایت میں ام حبیبہ مذکور ہے،مگر اوّل الذکر درست ہے،اور عبداللہ بن عباس کی حدیث میں ان کا ذکر آیا ہے۔ یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے ،انہوں نے حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے ،انہوں نے عکرمہ سے،انہوں نے عبداللہ بن عباس سے روایت کی کہ حضورِ اکرم کی نظر ام حبیب پر پڑی،جب وہ گھٹنوں کے بل چلتی تھی،فرمایا،اگر میں اس بچی کے زمانۂ بلوغت تک زندہ رہا،تو میں اس سے شادی کروں گا،لیکن آپ اس کے جوان ہونے سے پہلے ہی فوت ہوگئے،جب ام حبیب جوان ہوئیں تو ان سے اسود بن سفیان بن عبداللہ مخزومی نے نکاح کیا،اور انہوں نے رزق بن اسود اور لبابہ دختر اسود کو جنم دیا،اور اپنی والدہ کے نام پر ام الفضل لبابہ نام رکھا،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام حبیب دختر عاص بن امیہ بن عبدشمس،بقول جعفر عمرو بن ود کے پاس تھے اور ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے،اور اس بنا پر وہ خالد ،عمرو اور ابان بن عاص کی چچی تھیں،لیکن یہ مستعبد ہے، واللہ اعلم۔ ۔۔۔
مزید
رقیقہ الثقفیہ،یحییٰ بن محمود نے اذناً باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے عمرو بن علی سے،انہوں نے ابوعاصم سے،انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن یعلی بن کعب طائفی سے،انہوں نے عبدرربن حکم سے،انہوں نے رقیقہ کی بیٹی سے،انہوں نے اپنی والدہ سےروایت کی،کہ جب حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح طائف کے لئے شہر کا محاصرہ کیا،تو ہمارے یہاں تشریف لے آئے اور میں نے آپ کو پانی میں سَتّو ڈال کر پیش کئے،حضورِاکرم نے فرمایا اے رقیقہ،تم نہ ان کے بتوں کی پوجا کرنا نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنا،میں نے کہا ،"یا رسول اللہ !پھر تو وہ مجھے قتل کردیں گے"،آپ نے فرمایا،اگر وہ تجھ سے پوچھیں کہ تیرا خدا کون ہے،جو ان بتوں کا خدا ہے،اور جب نماز پڑھے، تو ان کی طرف پیٹھ کرلینا،اس کے بعد حضورِ اکرم ہمارے گھر سے چلے گئے۔ جب بنوثقیف ایمان لے آئے،تو میرے بھائی سفیان اور وہب پسران قیس بن اما۔۔۔
مزید
ام حبیب مولاۃ ام عطیہ،طبرانی نے اپنے تذکرے مکیات من الصحابیات میں ان کا ذکر کیا ہے اور باسنادہ شریک بن عبداللہ سے،انہوں نے عبداللہ بن عبدالملک بن ابوسلیمان سے،انہوں نے ا م حبیب سے روایت کی،کہ میں ان خواتین میں موجود تھی،انہوں نے حضورِ اکرم کی بعض صاحبزادیوں کو کچھ تحفے پیش کئے تھے،تو آپ نے فرمایا تھا کہ جب تم اسے غسل جنابت دو اس کے سر پر تین بار پانی ڈالو،تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید