ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )ام خارجہ( رضی اللہ عنہا)

ام خارجہ جوزید بن ثابت کی زوجہ تھیں،انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، ابن ابی عاصم نے وحدان میں ان کا ذکر کیاہے۔ یحییٰ باسنادہ ابن ابی عاصم سے،انہوں نے محمد بن اسماعیل سے،انہوں نے مکی بن ابراہیم سے،انہوں نے عبداللہ بن ابی زیاد سے،انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ بن ابو ربیعہ سے،انہوں نے ام خارجہ سے روایت کی،ان کا بیان ہے کہ ہم حضور ِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک دیوار کے احاطے میں بیٹھے تھے،آپ نے فرمایا،جو شخص اوّل از ہمہ دیوار کے پیچھے سے نمودار ہوگا،وہ جنّتی ہے،اس پر ہم میں سے ہر آدمی کی خواہش یہی تھی،کہ کاش یہ موقعہ اسے نصیب ہوتا،ہم اسی حالت میں تھےکہ ہمیں کسی کے پاؤں کی آہٹ سنائی دی،ہم منتظر تھے،دیکھئے کو ن آتا ہے،حضورِاکرم نے فرمایا،ہوسکتا ہے کہ آنے والا علی ہو،اتنے میں حضرت علی سامنے آگئے،ابنِ مندہ اور ابون۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سعیدہ(رضی اللہ عنہا)

سعیدہ مقاتل بن حبان کا بیان ہے،کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضورِاکرم اور کفار مکہ کے درمیان جو معاہدہ طے پایا تھا،اس میں یہ شرط بھی تھی،کہ اگر کوئی آدمی مکے سے مسلمان ہو کر حضورِ اکرم کے پاس آگیا تو اسے واپس بھیج دیناہوگا،کچھ عرصے کے بعدسعیدہ نامی خاتون جو ابو صیفی راہب کی زوجہ تھیں،اور مشرک مقیم مکہ تھیں،بھاگ کر مکے سے مدینے آگئیں،کفّارِمکہ نے ان کے واپسی کا مطالبہ کیا،حضور نےفرمایا،معاہدے میں مرد کا ذکر ہے،اس لئے عورت کی واپسی کا تقاضا غلط ہے،اس پر یہ آیت نازل ہوئی، " فَاَمتَحِنُوھُنَّ "یعنی انہیں آزماؤ،اوراچھی طرح جانچ پڑتال کرو،تاکہ بعد میں پشیمانی نہ ہو،ابو موسیٰ نے ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام خولہ( رضی اللہ عنہا)

ام خولہ دختر حکیم انصاریہ،بکیر بن اشبح نے خولہ سے ،انہوں نے اپنی ماں سے روایت کی ،کہ رسولِ اکرم نے ام سلمہ سے فرمایا کہ تم عدت گزارنے والی خاتون ہو،اسلئے خوشبو نہ استعمال کرو،اور نہ حنا استعمال کرو،کہ وہ بھی خوشبو ہے،ابوعمر نے ان کاذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)سعیرہ(رضی اللہ عنہا)

سعیرہ اسدیہ ،بقول جعفر اس حدیث کا اسناد مخدوش ہے،ابن مندہ وغیرہ نے ان کا نام شعیرہ اور جعفرمستغفری نے سعیرہ لکھا ہے،اور یہی درست ہے،عطا خراسانی نے عطاء بن ابورباع سے روایت کی،کہ ایک بار مجھے عبداللہ بن عباس نے کہا،کیامیں تمہیں دنیا میں ایک جنتی انسان دکھاؤں؟ انہوں نے مجھےایک موٹی سی زرد چہرہ حبشن دکھائی،اور کہا،کہ یہ عورت سعیرہ اسدیہ ہے،جو ایک بار حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی،اور عرض کیا کہ یارسول اللہ !مجھے مرض جنون ہے،آپ دعا فرمائیں،کہ اللہ تعالیٰ مجھے شفا عطا فرمائے،آپ نے فرمایا،اگر تو چاہتی ہے کہ تیری شفایابی کے لئے جناب باری میں دعاکروں،تو تندرست ہوجائے گی،مگر شفایابی کے بعد تیرے سارے اعمال اچھے بُرے بھی لکھے جائیں گے،لیکن اگر تواس مرض کو صبر سے برداشت کرسکے تو میں تجھے جنت کی بشارت دیتاہوں اس نے صبر کر کے جنت ہتھیالی۔ ابوموسیٰ نے ان کا ذ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) امِ کجہ( رضی اللہ عنہا)

ام کجہ ،اوس بن ثابت کی زوجہ تھیں،انہی کے بارے میں آیت مواریث نازل ہو ئی ابومحمد عبداللہ بن سویدہ نے باسنادہ ابوالحسن علی بن احمد مفسرسے اس آیت(اَلرِّجَالُ نَصِیبٌ مِّمَّاتَرَکَ الوَالِدانِ وَالاَقرَبُونَ) کے بارے میں ابنِ عباس سے کلبی کی روایت میں بیان کیا،کہ اوس بن ثابت انصاری فوت ہوگئے اور ان کی تین لڑکیاں رہ گئیں،اور ایک بیوی ام کجہ نامی،اوس کے بنوعم میں سے دو آدمی آئے،اور متوفی کا ساراترکہ اٹھا کر لے گئے،اور بیوہ اور لڑکیوں کے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا،اس پر بیوہ نے حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہو کر صورتِ حال بیان کی،تو مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے جابر سے روایت کی کہ ام کجہ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش کی،یارسول اللہ!میر ا خاوند دولڑکیاں چھوڑ مراہے،اور وارثوں نے ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑا،اس پر یہ آیت نازل ہو ئی،۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن برھ بن نہثل المجاشعی رضی اللہ عنہ

: ابن شاہین نے انھیں صحابی میں شمار کیا ہے۔ ابو معشر نجیح نے یزید بن رومان اور محمد بن کعب القرظی سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ مالک بن برھ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ کیا میں اپنے قبیلے کا بہترین فرد نہیں ہوں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم میں عقل ہے، تو بلاشبہ یہ خوبی وجہ فضیلت ہوگی، اگر تم میں اخلاق فاضلہ پائے جاتے ہوں، تو با مروت ہو گے اور اگر تم مالدار ہو تو با حیثیت شمار ہوگے اور اگر تم دین دار ہو تو متقی اور پرہیزگار ہوگے۔ اک روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم متقی ہو تو لازماً دین دار ہوگے۔ ایک اور روایت کے مطابق جناب مالک رضی اللہ عنہ کے سلسلہ نسب میں کچھ اختلاف ہے! مالک بن عمرو بن مالک بن برھ۔ یعنی سلسلۂ نسب میں بعض نام رہ گئے ہیں۔ جس کا ذکر آتا ہےش ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام بلال( رضی اللہ عنہا)

ام بلال جو بلال کی بیوی تھیں،بقولِ جعفر امام بخاری نے ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے، جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی،ابوموسیٰ نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) ام ِعیسیٰ( رضی اللہ عنہا)

ام عیسیٰ بن جزار عصریہ،انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صحبت اور روایت حاصل ہوئی، بقولِ ابن ماکولا عبدالرحمٰن بن عمرو بن جبلہ نے ام فروہ دختر مزاحم العصریہ سے اپنی والدہ امِ عیسیٰ سے روایت کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ ) ام ِفروہ( رضی اللہ عنہا)

ام فروہ انصاریہ،حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی،ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ،انہوں نے والد سے،انہوں نے ابو عاصم سے،انہوں نے عبداللہ بن عمر سے،انہوں نے قاسم بن غثام بیاضی سے،انہوں نےام فروہ سے روایت کی،حضورِ اکرم سے پوچھا گیا،یا رسول اللہ ! کونسا عمل افضل ہے،فرمایا،اول وقت میں نماز ادا کرنا،اسے لیث،عبدالرزاق اور ابونعیم وغیرہ نے عبداللہ بن عمر سے،انہوں نے قاسم سے،انہوں نے اپنی قریبی دادی سے،انہوں نے اپنی دادی ام فروہ سے روایت کیا اور قزعہ بن سوید اور معمر بن سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کیا،اور ابن ابی فدیک نے ضحاک بن عثمان سے،انہوں نے قاسم بن غثام سے اور انہوں نے ایک عورت سے، جس نے حضورِ اکرم سے بیعت کی تھی،روایت کی،ابنِ مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )اُمیمہ( رضی اللہ عنہا)

اُمیمہ دختر ِشراحیل،حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نکاح کے بعد اسے طلاق دے دی تھی،مسمار بن عمرو الحسین بن فناخرہ وغیرہ نے باسنادہم محمد بن اسماعیل سے،ا نہوں نے حسین بن ولید سے،انہوں نے عبد الرحمٰن بن غسیل سے انہوں نے عباس بن سہیل سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے ابو اسید سے روایت کی،کہ آپ نے شراحیل کی بیٹی سے نکا ح کیا،اور جب خلوت میں آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا،تو عورت نے نا خوشی کا اظہار کیا،آپ نے ابو اسید کو حکم دیا کہ اسے کتان سفید کے دو کپڑے دے کر واپس لے جاؤ۔ امام بخاری لکھتے ہیں، ک عبداللہ بن محمد نے ابراہیم بن ابوالوزیر سے انہوں نے عبدالرحمٰن سے انہوں نے حمزہ ( یعنی ابو اسید کے بیٹے) اور ابنِ عباس بن سہل سے روایت کی ،ہم جونیہ کے ترجمے میں اس واقعہ کو پھر بیان کریں گے۔ ۔۔۔

مزید