جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر شیبہ بن ربعیہ،یہ خاتون ہند دختر عتبہ بن ربعیہ کی عمزاد تھیں،اور عقیل بن ابوطالب کی زوجہ،غزوۂ حنین میں جب حضرت علی بعد از فتح اپنے گھر واپس آئے تو ان کی تلوار خون سے لتھڑی ہوئی تھی،بیوی نے پوچھا،میدان جنگ سے بطور غنیمت کیا لائے ہو،انہوں نے ایک سوئی انہیں دی،یہ لو،اس سے کپڑے سیاکرنا،اتنے میں منادی کی آواز ان کے کان میں پڑی،کہ اگرکسی نے تاگا یاسوئی بھی مال غنیمت سے اٹھائی ہو تو واپس کردی جائے،حضرت علی نے سوئی واپس کردی۔ ابن ہشام نے زید بن اسلم سے،انہوں نے اپنے والد سے اس خاتون کے بارے میں یہ روایت بیان کی واقدی کہتے ہیں،کہ سوئی کا واقعہ فاطمہ دخترِ ولید بن عتبہ کے بارے میں ہے،جوعقیل کی زوجہ تھیں،لیکن ابن ابی ملیکہ او رابن ابی حسین سےمروی ہے کہ عقیل کی بیوی فاطمہ دخترعتبہ بن ربعیہ تھیں،جو ہند کی بہن تھیں غسانی نے ان کا ذکرکیا ہے،اور ابوعمر پر استدراک کی۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر عمرو بن حرام،انہیں صحبت حاصل ہوئی،جعفر مستغفری نے اسی طرح لکھا ہے،اور اتنا اضافہ کیا ہے،کہ میرے خیال میں یہ جابر بن عبداللہ کی پھوپھی ہیں،واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر عمرو بن حرام،جابر بن عبداللہ کی پھوپھی تھیں،ابوالفضل عبداللہ بن احمد نے باسنادہ ابوداؤد طیالسی سے،انہوں نے شعبہ سے،انہوں نے محمد بن منکدر سے،انہوں نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی کہ جب میرا والد قتل ہوگیا،تو میں ان کے چہرے سے کپڑااٹھاتاتھااور لوگ مجھے ایسا کرنے سےمنع کرتے تھے،مگر حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بھی منع نہ فرمایا،ہاں میری پھوپھی بھائی کی موت پر روئے جارہی تھی حضور نے اسے مخاطب ہو کر فرمایا،تو روئے یا نہ روئے، فرشتے ا س پر اپنے پر پھیلائے رکھیں گے،ابن مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر عتبہ بن ربعیہ بن عبد شمس قرشیہ عبشمیہ،جو ہند کی بہن اور معاویہ کی خالہ تھیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائیں اور بیعت کی۔ محمد بن عجلان نے اپنے والد سے،انہوں نے فاطمہ دختر عتبہ سے روایت کی کہ ان کا بھائی ابو حذیفہ مجھے اور میری بہن ہند کو بیعت کےلئے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس لے کر گیا،جب آپ نے بیعت کی شرائط پیش کیں،تو ہند نے کہا،اے بھائی!تم اپنی قوم کی عورتوں کی پسندیدہ اور نا پسندیدہ عادات سے واقف ہو،اس نے جواب دیا،تم بیعت کرلو ،یہ شرائط سب کے لئے ہیں۔ محمد بن عجلان سے مروی ہے،کہ انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے فاطمہ سے روایت کی،کہ میں حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور گزارش کی یارسول اللہ ،ایک وہ وقت تھا کہ میں دنیا بھر میں نہیں چاہتی تھی کہ آپ کے مکان کے سوا کوئی اور مکا ن گِرے،اور اب میری یہ حالت ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ دنیا میں کو۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر ولید بن مغیرہ مخزومیہ جو خالد بن ولید کی ہمشیر تھیں،اور اپنے عمزاد حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی کی زوجہ،فتح مکہ کے موقعہ پر ایمان قبول کیا،ایک روایت میں ہے کہ حارث کے بعد عمر نے ان سے نکاح کیا،لیکن روایت مخدوش ہے۔ ابنِ مندہ اور ابونعیم نے فاطمہ دختر ولید قرشیہ لکھاہے،اور دونوں نے ان سے حدیث ازار نقل کی ہے،جیسا کہ ہم ذکر کرآئے ہیں،تینوں نے ان کا ذکر کیاہے۔ ابنِ اثیر کہتے ہیں،کہ ابو عمر نے اس حدیث کو فاطمہ دختر ولید بن عتبہ عبثمیہ کے ترجمے میں ذکر کیا ہے،اور ابنِ مندہ اور ابونعیم نے فاطمہ قرشیہ کے ترجمے میں بیان کیا ہے،اور وہ حدیث قرشیہ مخزومیہ کے بارے میں ہے،اور ہمارے اس استدلال کواس امر سے تقویت مِلتی ہے،کہ بعض راویوں نے اس حدیث کو فاطمہ دختر ولید سے،جو ابوبکر کی والدہ تھیں روایت کیا ہے،اور وہ شام میں تھی،اور فاطمہ مخزومیہ ہی اپنے خاوند حارث بن ہشام۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر ولید بن عتبہ بن ربعیہ بن عبد شمس بن عبد مناف قرشیہ،عبثمیہ،سالم مولیٰ،ابوحذیفہ کی زوجہ تھیں،اولین مہاجرات اور قریش کی بہترین بیویوں سے تھیں،ان کے چچا ابو حذیفہ عتبہ نے انہیں سالم سے بیاہا تھا،جب سالم جنگ یمامہ میں مارے گئے،تو حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی نے ان سے نکاح کر لیا،جیسا کہ اسحاق بن ابوفروہ نے بیان کیا ہے،لیکن یہ قول قابلِ اعتماد نہیں ہے۔ عقیلی نے بھی ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے،اور پھر اسحاق بن ابو فروہ کی حدیث ابراہیم بن عباس بن حارث سے،انہوں نے ابوبکر بن حارث سے،انہوں نے فاطمہ دختر ولید ام ابوبکر سے روایت کی،کہ جب میں شام میں تھی،تو اپنے جبہ ریشمی کپڑے سے بناتی تھی،پھر میں نے ریشمی ازار استعمال کرنا شروع کردی،مجھ سے پوچھاگیا،کیا ریشمی جبہ کافی نہیں تھا،کہ تو نے ریشمی ازار پہننا بھی شروع کردی،میں نے جواب دیا،میں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ و۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ( رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر یمان جو حذیفہ بن یمان کی ہمشیر ہ تھیں،ہم ان کانسب ان کے بھائی کے ترجمے میں لکھ آئے ہیں،عبدالوہاب بن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے ،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے محمد بن جعفر سے،انہوں نے شعبہ سے،انہوں نے حصین سے،انہوں نے ابوعبیدہ بن حذیفہ سے،انہوں نے اپنی پھوپھی فاطمہ سے روایت کی کہ ہم حضورِ اکرم کی خدمت میں بعض خواتین کی عیادت کے لئے حاضر ہوئیں،ہم نے دیکھا کہ چھت سے ایک مشکیزہ لٹکاہوا تھا،جس سے پانی کے قطرے (گرمی کی شدت دور کرنے کے لئے )آپ پر ٹپک رہے تھے،ہم نے کہا،آپ دعا فرمائیں، تاکہ شدت گرما آپ سے رفع ہوجائے فرمایا،انبیاء پر ہی مصائب کانزول زیادہ ہوتاہےاور پھر ان لوگوں پر جو ان کے قریب ترہوتے ہیں۔ نیز اس خاتون نے روایت کیا کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عورتوں کے سونے کے زیورات کو ناپسند کرتے تھے،یہ روایت اگر صحیح ہے تو اب منسوخ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ(رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر ابوالاسود یا ابوالاسود بن عبدالاسد ،یہ خاتون ابوسلمہ بن عبدالاسد مخزومی کی بھتیجی تھیں، عمار ذہبی نے شفیق سے روایت کی کہ فاطمہ دختر ابوالاسد نے چوری کی ،قریش کو ڈر پیداہوا کہ رسولِ اکرم اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے،انہوں نے اسامہ بن زید سے بات کی اور اسامہ نے حضور سے گزارش کی،فرمایا،ہر چیز ہوسکتی ہے،لیکن اللہ کی حدود پر عمل درآمد ضروری ہے،بخدا اگر فاطمہ دختر محمد بھی اس جرم کا ارتکاب کرتی،تو اس کاہاتھ بھی کاٹ دیا جاتا،چنانچہ آپ نے فاطمہ دختر ابوالاسد کا ہاتھ کاٹ دیا۔ شفیق نے فاطمہ دختر ابوالاسد سے اس روایت کو یوں بیان کیا،کہ قریش کی ایک عورت نے چوری کی،لیکن پہلی روایت درست ہے،کیونکہ حافظ بن ثابت نےاس کااسی طرح ذکرکیا ہے،ابوعمراور ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ(رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دختر اسد بن ہاشم بن عبدمناف قرشیہ ہاشمیہ،یہ خاتون حضرت علی،طالب عقیل اور جعفر کی والدہ تھیں،یہ روایت غلط ہے،کہ وہ ہجرت سے پہلے فوت ہوئیں،بلکہ انہوں نے مدینے کو ہجرت کی،اور وہاں وفات پائی،یہی قول شعبی کا ہے،اور اعمش نے عمرو بن مرہ سے،انہوں نے ابوالخیری سے،انہوں نے حضرت علی سے روایت کی کہ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا،کیا آپ اس پر رضامند ہیں،کہ فاطمہ (میری بیوی)کنوئیں سے پانی لائے اور گھر سے باہر کے کام سنبھال لے،اور گھرکاکام چکی پیسنا وغیرہ اور آٹا گوندھنے کا کام آپ سنبھال لیں،اس سے معلوم ہوتاہے،کہ فاطمہ والدۂ علی نے ہجرت کی تھی،کیونکہ حضرت علی کی شادی مدینے میں ہوئی تھی۔ زہری کا قول ہے،کہ یہ خاتون خاندانِ ہاشمیہ کی وہ پہلی خاتون ہیں،جن کے بطن سےہاشمی پیدا ہوا، اورجنہوں نے ایک خلیفہ کو جنم دیا،ان کے بعد یہ شرف خاتونِ جنّت کو نصیب ہوا،کہ انہوں نے حضرت حسن کو۔۔۔

مزید

(سیّدہ )فاطمہ(رضی اللہ عنہا)

فاطمہ دخترحمزہ بن عبدالمطلب قرشیہ ہاشمیہ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمزاد تھیں،ایک روایت میں ان کا نام امامہ اور ایک میں عمارہ مذکور ہے،یہ ابونعیم کا قول ہے،ان کی کنیت ام فضل تھی۔ یحییٰ بن محمودنے اجازۃً باسنادہ تا قاضی ابوبکر احمد بن عمرو،ابوبکر بن ابوشیبہ سے،انہوں نے حسین بن علی سے،انہوں نے زائدہ سے،انہوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابولیلی سے،انہوں نے حکم بن عبداللہ بن شداد سےانہوں نے دختر حمزہ سے روایت کی،کہ ان کا ایک آزاد کردہ غلام ایک بیٹی چھوڑ مرا،حضور نبی کریم نے اس کا ترکہ میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کردیا،اور نصف مجھے عطا فرمایا،بقولِ محمد وہ ابن شداد سے،انہوں نے ابوفاختہ سے،انہوں نے جعدہ بن ہبیرہ سے،انہوں نے حضر ت علی سےروایت کی کہ حضورِاکرم کو ایک کپڑا جو ریشم سے کاڑھا گیاتھا،بطور تحفہ پیش کیا گیا، آپ نے فرمایا،کہ اس سے چار خواتین کے لئےجن۔۔۔

مزید