ابوسُلمی،حضورِاکرم سے ملاقات کی،مگرآپ سے صرف ایک بات انہیں یادرہ گئی ہے،کہ ایک بار حضوراکرم نے نمازصبح میں سورۂ اَذَاالشَّمسُ کُوِّرَت پڑھی،ان سے سری بن یحییٰ نے روایت کی۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں،کہ میں نے اپنے والدکوسنا،وہ کہتے تھے،کہ میں نے حسان بن عبداللہ سے پوچھا،کیا سری بن یحییٰ کی ملاقات ابوسلمی سے ہوئی تھی،انہوں نے کہا،ہاں ،ابوعمرنے ان کاذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابومسلم اشعری،ان سے عبدالرحمٰن بن غنم نے،انہوں نے رسولِ اکرم سےروایت کی،آپ نے فرمایا،جلدہی ایک ایسی قوم پیداہوگی جوشراب کانام بدل کراسے حلال قراردے لے گی،چنانچہ سازہائے لہوولعب ان کے سروں پرتوڑے جائیں گے،زمین پھٹ جائے گی،اوروہ لوگ مسخ ہوکرسور اوربندربن جائیں گے،اسی طریقہ سے ابومسلم سے روایت کی ہے،لیکن یہ غلط ہے،اور ابو مالک اشعری سے بھی روایت کی ہے،ابومالک یاابوعامر سے،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابومسلم جلیلی،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا،لیکن اسلام امیرمعاویہ کے عہدمیں قبول کیا،حماد بن سلمہ نے قاسم الرجال سے،انہوں نے ابوقلابہ سے روایت کی،کہ ابومسلم نےامیرمعاویہ کے عہد میں اسلام قبول کیا،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کاذکرکیاہے،ابن اثیرلکھتے ہیں کہ ہم انہیں کسی صورت میں بھی صحابی نہیں کہہ سکتے۔ ۔۔۔
مزید
ابومسلم خولانی عابد،انہوں نے زمانہ جاہلیت پایا،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اسلام قبول کیا،لیکن زیارت سے محروم رہے اورمدینے میں اس وقت آئے،جب حضورِ اکرم کا وصال ہوچکاتھا،اورحضرت ابوبکرخلیفہ بن گئے تھے،ان کا شمار کبارتابعین میں ہوتاہے،شامی تھے، اورنام عبداللہ بن ثوب تھا،ایک روایت میں عبداللہ بن عوف آیاہے،لیکن اول الذکر زیادہ مشہور ہے، یہ صاحب بڑے پارسا،عبادت گزار،عالم فاضل اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے،ان سے ابوادریس خولانی وغیرہ نےجوتابعین شام سے تھے،روایت کی۔ اسماعیل بن عیاش نے شرجیل بن مسلم خولانی سے روایت بیان کی،کہ اسود غسی نے یمن پرحملہ کرکے قبضہ کرلیا،ابومسلم خولانی کوبلوایا،اورکہا،کیاتم میری نبوت کی شہادت دیتے ہو،انہوں نے جواب دیا،مجھے تمہاری بات سنائی نہیں دیتی،پھراس نے پوچھا،کیاتم محمد کی نبوّ ت کے قائل۔۔۔
مزید
ابومسلم مرادی،انہیں صحبت نصیب ہوئی،عمروبن عاص کے محکمہ پولیس میں تھے،بقول ابوسعیدبن یونس ،ان سےعمروبن یزیدخولانی نےجوثابت کے بھائی تھے روایت کی،عیاش بن عباس نےعمرو بن یزید خولانی سے،انہوں نے ابومسلم سےجوحضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں،روایت کی، کہ ایک شخص نے حضورِاکرم کی خدمت میں گزارش کی یارسول اللہ! مجھے کوئی ایساعمل بتائیے،کہ میں جنّت میں پہنچ جاؤں،دریافت فرمایا،اگرتمہاری والدہ زندہ ہے ،تو اس کی خدمت کر،تاکہ اس کے قریب ہوجائے،اس نے کہا،یارسول اللہ!میری والدہ زندہ نہیں،فرمایا،پھرفقراء کوکھانا کھلا، اورلوگوں سے نرم گفتگوکر،تینوں نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابونبقہ بن علقمہ رضی اللہ عنہ ابونبقہ بن علقمہ بن عبدالمطلب،بقول ابوعمربعض نے انہیں صحابی لکھاہے،ہمارے یہاں وہ غیرمعلوم ہے،ابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہےاورلکھاہےکہ حضورِاکرم نے ان کے لئے خیبر کے خراج سے پچاس وسق غلہ مقرر فرمایاتھا،یہ ابنِ اسحاق سے مروی ہے،ابوالولید بن الفرضی کے مطابق ان کا نسب ابونبقہ بن علقمہ بن مطلب بن عبدمناف تھا،اورنام عبداللہ تھا،اورمحمد بن علاء بن حسین بن عبداللہ بن نبقہ ان کی اولاد سے تھے،طبری نے ان کا سلسلہ عبداللہ بن علقمہ بن مطلب بن عبدمناف لکھاہے،اوریہ وہی ابونبقہ ہیں جنہیں آپ نے خیبر کے خراج سے کچھ غلہ عطاکیاتھا،زبیر بن بکار لکھتے ہیں کہ علقمہ بن مطلب کابیٹا ابونبقہ تھا،اوران کا نام عبداللہ تھا،اور ان کی والد ام عمرودختر ابوالطلاطلہ تھی از بنوخزاعہ ابونبقہ کے دو بیٹے تھے،بنام علاء و ہذیم،جو دونوں جنگ یمامہ ۔۔۔
مزید
ابونضرہ منذربن مالک ایک صحابی سے،سعیدالجریری نے ابونضرہ سےروایت کی،کہ مجھ سے ایک صحابی نےجووہاں موجودتھے،بیان کیا،کہ ایام تشریق کےدوران میں حجتہ الوداع کےموقعہ پر آپ نےفرمایا،اےلوگو!تمہاراخداایک ہےکسی عربی کوعجمی پراورکسی سرخ کوکالے پرکوئی فضیلت نہیں، کیونکہ معیارِ فضیلت تقوٰی ہے،پھرفرمایاکیامیں نےاللہ کاپیغام تمہیں پہنچادیاہے،صحابہ نے جواب دیا،ہاں یارسول اللہ!بلاشبہ آپ نےپہنچادیاہے،دونوں نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوفسیلہ،محمدبن عمرالمدینی نے کتابتہً حسن بن احمدبن عبداللہ سے،انہوں نے محمد بن محمد سے، انہوں نےمحمد بن عبداللہ حضری سے،انہوں نے ابوبکربن ابوشیبہ سے،انہوں نے زیاد بن ربیع یحمدی سے،انہوں نے عبادبن کبیرشامی سےاورانہوں نے اپنے قبیلے کی ایک عورت سے جس کا نام فسیلہ تھا،اپنے والد سےسُنا،کہ انہوں نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے دریافت کیا،یارسول اللہ!کیااپنی قوم سے محبت کرناعصبیت ہے،آپ نے فرمایا،نہیں،بلکہ اپنی قوم کی بے انصافی پر مدد کرناعصبیت ہے۔ ان کے نام کے بارے میں ایک روایت حصیلہ ہے اوران کے والد کانام واپلہ بن اسقع تھا،ابوموسیٰ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے،ابن اثیرلکھتے ہیں،کہ بلاشبہ ان کے والد کانام واثلہ بن اسقع تھا۔ ۔۔۔
مزید
ابونائلہ،سلکان بن سلامہ بن وقس بن زغبہ بن زعواء بن عبدالاشہل انصاری اشہلی ایک روایت کے مطابق سلکان ان کا لقب تھا،اورنام سعد تھاغزوہ احد میں موجودتھےاوران لوگوں میں شامل تھے، جنہوں نے کعب بن اشرف یہودی کو قتل کیاتھا،اورسلکان اس کے رضاعی بھائی تھے،اورآپ کے صحابہ میں مشہور تیراندازوں میں سے تھے،نیزوہ شاعرتھے،ان کے بھائیوں کے نام سلمہ اور سعد تھے،ابوعمرنے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابواوس ثقفی،ان کا نام حذیفہ تھا،اور یہ اوس کے والد تھے،ان کا نسب ہم ان کے والد کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،حمادبن سلمہ نے یعلی بن عطاء سے ،انہوں نے اوس بن ابی اوس سے روایت کی ،کہ میں نے اپنے والد کو جوتوں پر مسح کرتے دیکھا،میں نے اسے ناپسند کیا،والد کہنے لگے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوایساکرتے دیکھا ہے،اشیری نے اس باب میں ابوعمر پر استدراک کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید