ابوملیکہ قرشی تیمی،ان کا نام زہیربن عبداللہ بن جدنان بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ جد عبداللہ بن عبیداللہ بن ابوملیکہ محدث تھا،انہیں صحبت ملی،اورحجازی شمارہوتے ہیں،ان کی حدیث عمروبن علی نے ابن جریر سے،انہوں نے عبداللہ بن عبیداللہ بن ابوملیکہ سے،انہوں نے اپنے والدسے،انہوں نے داداسے،انہوں نے ابوبکرصدیق سے روایت کی کہ ایک شخص نے دوسرے کے ہاتھ کوکاٹا،جس سے اس کا دانت گر گیا،خلیفہ نے ان کا دعویٰ باطل کردیا،ابوعمرنے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوملیل بن عبداللہ انصاری خزرجی،یہ عباس مستغفری کاقول ہےاورانہوں نے باسنادہ ابن جریح سے " لَاخیر فی کثیر من نجواھم" اور اس سے بعد کی آیت کے بارے میں بیان کیاکہ یہ عام لوگوں کے بارے میں ہے،اس پر انہوں نے اپنی زرہ ابوملیل بن عبداللہ خزرجی کے گھرمیں پھینک دی،ابوموسیٰ نے مختصرذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوملیل بن ازعربن زیدبن عطاف بن صنبیعہ بن زیدبن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس انصاری،اوسی ضبعی غزوہ بدراوراحدمیں موجود تھے۔ ابوجعفرنے باسنادہ یونس سےانہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلہ شرکائے بدرازبنوضبیعہ بن زیداورابوملیل بن ازعر بن زید بن عطاف کاذکرکیاہے،ابن اسحاق کے علاوہ اورلوگوں نے بھی انہیں شرکائے بدر میں شمارکیاہے،ابوعمراورابوموسیٰ نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوملیل سلیک بن اغر رضی اللہ عنہ،ان کاشماربھی صحابہ میں ہوتاہے،ابوعمرنے مختصراً انکاذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ:اپنے اہل ِقبیلہ کے ساتھ بذریعہ کشتی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے،انہیں صحبت حاصلی ہوئی، ان کے نام میں اختلاف ہے،کسی نے کعب بن مالک،کسی نے کعب بن عاصم،کسی نے عبید،کسی نے عمرواورکسی نے حارث لکھاہے،شامی شمارہوتے ہیں۔ یعیش بن صدقہ بن علی فقیہہ نے ابوالقاسم اسماعیل بن احمد بن عمروالسمرقندی نے املاًعبدالواحدبن علی العلاف سے،انہوں نے علی بن محمدبن بشرسے،انہوں نے اسماعیل بن محمدالصغار سے،انہوں نے احمد بن منصورسے،انہوں نے عبدالرزاق سے،انہوں نے معمرسے،انہوں نے ابن ابی حسین سے،انہوں نے شہربن حوشب سے،انہوں نے ابومالک اشعری روایت کی کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں موجودتھے کہ یہ آیت نازل ہوئی :۔"یاایھاالذین آمنوالاتسألواعن اشیاء ان تبدلکم نسوکم"۔ نیزحضوراکرم صلی ا۔۔۔
مزید
ابومالک اشجعی رضی اللہ عنہ:ایک روایت میں اشعری ہے،ان کانام عمروبن حارث بن ہانیٔ تھا،بقول ابوعمران سے،عطابن بسارنے روایت کی،ابن مندہ اورابونعیم نے انہیں صرف اشجعی لکھاہے،اور اس ترجمے میں ان کا ذکرنہیں کیا،امام احمد بن حنبل نے انہیں صحابی شمارکیاہے،ابویاسر نے باسنادہ عبداللہ بن احمد سے،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے عبدالملک بن عمرو سے،انہوں نے زبیربن محمدسے،انہوں نے عبداللہ بن محمدبن عقیل سے،انہوں نےعطاءبن یسارسے،انہوں نے ابومالک اشجعی سے روایت کی،حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،سب سے بڑی دھوکابازی یہ ہے کہ دوشخص ایک مکان میں شریک ہیں جب اس کی تقسیم عمل میں آتی ہے،توایک آدمی اپنے ساتھی کے حصے سے بالشت بھرزمین فریب کاری سے ہتھیالیتاہے،اس طریقے سے وہ اس زمین کا وہ ٹکڑا،سات طبقوں تک اپنی گردن میں طوق بناکرڈالے گا،یہی قول ہے عبدالملک بن ۔۔۔
مزید
ابومالک غفاری رضی اللہ عنہ:ابواحمدعسکری نے ان کاذکرکیاہے،اورمحمد بن ابراہیم شلاثانی سے، انہوں نے اسحاق بن ابراہیم الشہیدسے،انہوں نے ابوفضیل سے،انہوں نے حصین سے،انہوں نے ابومالک غفاری سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی نمازجنازہ پڑھائی،اوران کے ساتھ سات جنازے اورلائے گئے،اوراسی طرح پڑے رہے،اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا جنازہ اکٹھاپڑھایا۔ ۔۔۔
مزید
ابومالک رضی اللہ عنہ ہشام بن الغارنے اپنے والدسے،انہوں نے داداسے روایت کی،کہ انہوں نے اہلِ دمشق کوبتایاکہ جلدہی تم میں قذف،مسخ اورحنف کے واقعات ہوں گے،انہوں نے کہا،اےربیعہ،تمہیں کیسے معلوم ہوا،انہوں نے کہا،یہ شخص ابومالک حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے،اس سے پوچھ لو،وہ ان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے،انہوں نے ابومالک سے پوچھا کہ ابن ربیعہ کیاکہہ رہاہے،انہوں نے کہا،میں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوکہتے سناکہ عنقریب ہی میری امت کو ان تین مصیبتوں سے پالاپڑے گا،لوگوں نے پوچھا،یارسول اللہ اس کی کیاوجہ ہوگی،فرمایا،وہ گانے والی عورتیں رکھ لیں گے اورشراب پئیں گے،ابوموسیٰ نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابومالک رضی اللہ عنہ:مصرمیں سکونت رکھ لی تھی،ان سے سنان بن سعدنے روایت کی،یزید بن ابوحبیب نے سنان بن سعدسے،انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھاگیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،وہ جنت میں اہل جنت کی خدمت گذاری کریں گے،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کاذکرکیاہے،ابن مندہ کہتے ہیں کہ ابوسعید بن یونس نے ان سے اسی طرح روایت کی،ابونعیم کے مطابق مشہوراسناد یوں ہے،یزید از سنان ازانس بن مالک۔ ۔۔۔
مزید
ابومالک نخعی دمشقی رضی اللہ عنہ:بروایتےانہیں صحبت ملی،معاویہ بن صالح نے عبداللہ بن دینار بہرانی حمصی سے،انہوں نے ابومالک نخعی سے روایت کی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،ایساآدمی جس سے اس کے والدین ناراض ہوں،ایسی عورت جو ننگے سرنمازپڑھےاورایسا امام جسے اس کے مقتدی ناپسندکریں ان میں سے کسی کی نمازبھی قبول نہیں ہوتی،صحیح بات یہ ہے کہ انہیں صحبت نصیب نہیں ہوئی،اوران کی حدیث مرسل ہے،تینوں نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید