حضرت مرتضیٰ سخی سیدعلیہ الرحمۃ ف۔۱۲۶۰ھ حضرت سید سخی مرتضٰی علیہ الرحمہ بڑے پائے کے کامل ولی اور عارف ہوئے ہیں ٹندو محمد خان میں جو اس وقت سادات بخاری ہیں ان کے جدا اعلیٰ و مورث ہیں اور مشہور ولی کامل، مجذوب حضرت سید عبدالفتاح شاہ بخاری آپ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کے مزید حالات معلوم نہ ہوسکے۔ آپ کے مزید حالات معلوم نہ ہوسکے۔ آپ کے مزار پر یہ شعر کندہ ہے۔ چوں جناب مرتضیٰ رحلت نمود گفت ہاتف عارف و فیاض بود ۱۲۷۰ھ آپ کا مزار پر انوار ٹنڈو محمد خان کے قریب ٹنڈو سائیں داد میں مرجع خلائق ہے ۔ (ذاتی ۔۔۔
مزید
حضرت محمد ہاشم علامہ مخدوم ٹھٹھوی علیہ الرحمۃ و ۱۱۰۴ھ۔ف ۱۱۷۴ھ عالم ، عارف ، قاری، حاجی صوفی علامہ ، جامع شریعت و طریقت حضرت مخدومت محمد ہاشم بن عبدالغفور بن محمد قاسم بن خیر الدین ٹھٹھوی۔ حضرت مخدوم کے والد محترم بٹھورا میں رہتے تھے۔ جہاں ۱۰/ربیع الاول /سن ۱۱۰۴ھ میں حضرت مخدوم صاحب تولد ہوئے۔ آپ کی ولادت کی تاریخ اس عربی جملہ سے نکلتی ہے۔ ‘‘انبت اللہ نباتا حسنا’’ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی صرف چھ ماہ میں قرآن حکیم ختم کیا اور اس کے علاوہ بھی کچھ کتابیں پڑھیں باقی علوم کی تک۔۔۔
مزید
حضرت معصوم شاہ بخاری علیہ الرحمۃ آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ ہوئے ہیں۔ آپ ک نام پر انتہائی شاندار مسجد تعمیر شدہ ہے۔ جس کے اندار آپ کا مزار مبارک واقع ہے۔ کھارا در کراچی میں آپ کا مزار بہت معروف ہے۔ مزید حالات معلوم نہ ہوسکے۔ آپ کےمزار کے ساتھ حاجی اسماعیل شاہ بخاری کا مزار بھی ہے، جن کے متعلق بھی معلومات فراہم نہ ہوسکیں۔ (راقم نے مزار پر جاکر یہ معلومات حاصل کی ہیں) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت نظر محمد علامہ نظامانیعلیہ الرحمۃ آپ کا سندھ کی نظامانی بلوچ سے ہے۔ بڑے عالم ، عارف اور عاشق رسول تھے۔ آپ کے علم کا شہرہ پورے سندھ میں پھیلا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے دور دور سے آپ کی پاس فتاویٰ آیا کرتے تھے آپ کو حضرت سرکار دو عالم فخر موجودات ﷺ سےاس قدر محبت تھی کہ جب حضور کا نام سنتے تو آنکھوں سے اشک جاری ہوجایا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ کے پاس ایک فتوے آیا جس میں محمد نامی شخص کو کسی جرم کی سزا سنائی گئی تھی اور آپ نے اس پر تصدق کرنی تھی جب آپ نے فتویٰ کو دیکھا تو آپ نے روتے ہوئے فرمایا کہ جس کانام محمد ہو اس کو کبھی سزا ہوہی نہیں سکتی۔ آپ کے شاگردوں میں سے حضرت علامہ مناظر اسلام پیر غلام مجدد ج۔۔۔
مزید
حضرت نظر محمددولہا علیہ الرحمۃ آپ کا تعلق سادات متعلوی سے ہے۔ اہل دل بزرگ اور صوفی مشرف درویش تھے۔ آپ کو دولہا کہنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آپ کی منگنی ہوئی تھی لیکن شادی نہیں ہوئی اور تجرد کی زندگی میں وفات فرمائی جس کی وجہ سے آپ کو لوگ ‘‘دولہا’’ کہتے ہیں ایک روایت کے مطابق آپ کوفیض ‘‘سبھاگو’’ فقیر شیدی سے ملا تھا اور سبھاگو فقیر شیدی کو کھگو ملاح فقیر سے اورکھگو ملاح فقیر کو فیض ملے کا سبب یہ سنا گیا کہ یہ ملاح تھےجا ل کو دریا میں ڈال کر مچھلیوں کا شکار کیا کرتے تھے کہ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک پانی سفید دودھ بن گیا ہے اس نے پانی کو (جو دودھ بن چکا تھا) پی لیا اور وہ ۲۷/رمضان شب قدر تھی) بس وہ اللہ کا محبوب بن گیا۔  ۔۔۔
مزید
حضرت نوری شاہ غازی علیہ الرحمۃ آپ کا نام اسم گرامی حضرت سید نور شاہ غازی علیہ الرحمۃ ہے۔ سادات سے متعلق ہیں۔ بڑے پائے کے ولی گزرے ہیں۔ ایک روایت کےمطابق آپ حضرت عبداللہ شاہ غازی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کا مزار اچھی قبر کے نام سے مشہور و معروف ہے کراچی کے مرکز بمبئی بازار میں زیارت خاص وعام ہے۔ مزید حالات معلوم نہ ہوسکے۔ (فقیر دربار پر حاضر ہوا تھا یہ مختصر حالات معلوم ہوئے) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت میراں محمد سید حافظ حکیم علیہ الرحمۃ آپ کا تعلق متعلوی سادات کرام سے ہے۔ آپ اپنے دور کے باکمال حکیم، عالم، حافظ قرآن اور ولی تھے آپ کی ولادت ۱۲/صفر/۱۲۴۰ھ میں پرانی ٹکھڑ میں ہوئی تھے۔ (تذکرہ شعرائے ٹکھڑ ص ۲۱) حضرت خواجہ حافظ علامہ محمد حسن جان مجددی علیہ الرحمۃ نے حضرت سید میراں محمد شاہ علیہ الرحمۃ کو ان الفاظ میں یاد کیا ہے، سید موصوف شریف النسب عالم، طبیب حاذق ، شاعر ماہر، عابد زاہد درفنون خوشنویسی وانگریزی خوانی ولطیفہ گوئی لاثانی (تذکرۃ الصلحاء)آپ حضرت خواجہ عبدالرحمٰن مجددی علیہ الرحمۃ کے والد محترم حضرت خواجہ عبدالقیوم مجددی علیہ الرحمۃ سے طریقہ نقشبندی میں بیعت تھے آپ کی ہی کوشش سے حضرت خواجہ صاحب نے ٹکھڑ کو ہمیشہ کے ۔۔۔
مزید
حضرت محمد ابراہیم سید علیہ الرحمۃ حضرت سید محمد ابراہیم علیہ الرحمۃ بڑے صاحب کرامت ولی تھے۔ آپ کےمتعلق یہ مشہور ہے کہ آپ کے مزار پر چھوٹے چھوٹے بچے آکر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ اور آپ کے مزار کو گھوڑا بنا کر اس پرسوار ہوتے تھے جس طرح بچوں کی عادت ہوتی ہے ایک دفعہ میاں جی نور و نامی شخص آکر وہاں سے گذرا اور بچوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ مزار سے اتر جاو اور ایک بچے کو تھپڑ رسید کردیا اچانک قبر سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور زور سے آکر میاں جی کے منہ پر لگاجس سے چہرےپر سیاہ داغ پڑ گیا جو آخری دم تک رہا۔ حضرت سید ابراہیم علیہ الرحمۃ کو بچوں سے از حد پیار ہے حتیٰ کہ آپ کا عرس آج تک بچے ہی مناتے ہیں اور یہ بھی آپ کی کرامت ہے کہ اگر کوئی بچہ امتحان دینے سے قبل آپ کے مزار پر حاضری دے تو وہ یقیناً امتحان میں کامیاب ہوتا ہے۔ آپ کا مزار پیر والی گلی پر حاضری دے تو وہ یقیناً امتحان میں کامیا۔۔۔
مزید
حضرت محمد امام مخدوم علیہ الرحمۃ حضرت مخدوم امام (رحمہ اللہ) کا تعلق حضرت مخدوم نوح ھالائی سے ہے آپ اپنے وقت کے اہل دل اور عاشق رسول اکرم ﷺ تھے۔ حضرت سادات کرام کی حد سے زیادہ تعظیم و توقیر کیا کرتے تھے۔ آپ کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ (جہاں اس وقت آپ کی مسجد شریف ہے) وہاں پر درس و تدریس کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ رات میں تہجد کے لیے اٹھے اور کنویں پر وضو کے لیے گئے جب کنویں کے قریب ہوئے تو آپ کو ایک عورت نظر آئی آپ ذرا رک گئے، عورت چلی گئی۔ لیکن آپ کو یہ تشویش لاحق ہوئی کہ یہ کون عورت تھی! دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک سید زادی بیوہ خاتون ہیں۔ جو رات میں اپنے گھر کا کام کاج کرتی ہیں۔ حضرت مخدوم نے جب سید زادی کا سنا تو آپ کے دل پر بڑی چوٹ لگی اور آپ نے فرما۔۔۔
مزید
حضرت واء مغفور جھان علیہ الرحمۃ ۱۳۹۳ھ حضرت مولانا علامہ محمد بخش شاہ جیلانی کے فراق میں آپ کے چھوٹے برادر حضرت سید پیر زین العابدین شاہ جیلانی نے چند اشعار کہےہیں وہ درج کیے جاتے ہیں۔ گادی نشین گھائے ویو ڈیئی اسانکھے سو فراق پگدارپر دو پائے ویو ڈیئی اسانکھے سو فراق گادی نشین سو گھوٹ ہو عارف اجھو سو اوٹ ہو ورھ سو وسائے ویو ڈیئی اسانکھے سو فراق وطن واسی ہو ملوک ھئی خوش جنھن کھان کل مخلوق سو چھمر غم جوچھائے ویو ڈیئی اسانکھے سو فراق ہو خدا جے منجھ خیال عالم عمل ہو باکمال! سنین واٹ سو سمجھاے ویو ڈیئی اسانکھے سو فراق چوئے ضعیف زین العابدین س یا الٰہ العالمین جنت ارم میں جائے ڈیو ڈیئی اسانکھے سو فراق (راقم سید منور علی شاہ صاحب) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید