حضرت یوسف ملتا نی (شا ہ) علیہ الرحمۃ آپ گر د نہر میں پیدا ہو ئے ۵۵۰ ھ میں ہجرت کرکے ملتان میں قیام فرمایا صا حب کرامت بزرگ تھےوفات کے بعد تک آپ کی کرامات جاری رہیں خاص طور پر یہ کرامت کہ جو کو ئی آپ کے پاس ارادہ بیعت سے آتا آپ مز ار سے اپنا ہاتھ باہر نکال دیتے تھے،شیخ صد رالدین ملتانی کے زمانہ تک یہی حال تھا،د شیخ صدرالدین چاہتے تھے کہ یہ کرامات اس طرح عام نہ رہےایک روز آپ شاہ یو سف کے مزارپرآئے اور فرمایایو سف ہاتھ اندر کھینچ لو،دست در ازی چھوڑ دو،اس پر قبر کے اندر سے جواب آیا،صدر!آج تم نے درویش کاہاتھ کو تاہ کیا تو تمہارا نام بھی درویش نے لوح زمانہ سے ہٹا دیا،یہی وجہ ہے کہ شیخ بہا ؤالدین کے بعد ان کے پوتےرکن الدین کا نام لوگوں کی زبان پرہے،اورصد رالدین کو یہ شہرت حاصل نہیں،شاہ یو سف ۔۔۔
مزید
حضرت یحیی بکھری علیہ الرحمۃ درویش یحیی بکھری ولد عالم بکھری قریشی اولیا ء کبا ر میں سے تھے ،سیو ستان کے قصبہ ریل میں سکو نت تھی صاحب کرامت ولی تھے۔ (حدیقتہ الاولیاء ص ۱۷۱ ،۲۱۸ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت پیر سید بخاری علیہ الرحمۃ ف۔۔۔۸۵۵ ھ تحفۃ الکرام کے مصنف علی شیر قا نع اور تحفۃ الطا ہرین کے مصنف شیخ محمد اعظم ٹھٹوی کے مطا بق آپ کا اسم گرامی سیدشاہ یقیق بخاری تھا۔آپ والد کی طرف سے حسینی سید اور والدہ کی طرف سے حسنی سید ہیں آپ نجیب الطر فین ہیں۔ شاہ یقیق رحمتہ اللہ علیہ کی عمر شریف سا ت سال کی ہوئی تو والدہ ماجد کا ۸۴۱ ھ میں انتقال ہو گیا،چھ ماہ بعد والدہ بھی فوت ہو گئیں ،وفات کے وقت والد نے اپنے فرزندشاہ اسماعیل اور شاہ سلیمان کو وصیت کی کہ شاہ یقیق رحمتہ اللہ علیہ کو میری وفات کے بعد سندھ بھیج دینا۔والد کی وفات بعد آپ کے دادا سید عبداللہ نے آپ کی تعلیم و تر بیت کی، وصیت کے مطا بق آپ کے بھائیوں نے آپ کو مریدوں کے ایک قافلہ کے سا تھ سفر پر ر۔۔۔
مزید
حضرت ہالہ سعتہ درویش علیہ الرحمۃ یہ دشت نشین درویش تھے طہا رت و پا کیزگی کا بہت اہتمام رکھتے تھے،ہمیشہ دو لوٹے ایک سا تھ رکھتے تھے،ایک ا ستنجا کے لئے اور دوسرا وضو کےلئے۔بچپن میں آپ کا بایاں پیر نجا ست آلو د ہو گیا تھا،تو وفات سے پہلے وصیت فر مائی کہ مر نے کے بعد میرے اس پیر پر بیس کو زے پانی کے ڈالے جائیں کہ خدائے پاک کی بارگاہ میں پاکیزہ حاضر ہو نا بہتر ہے ،آپ کا مزار شریف آمری کے مقام پر ہے۔ (حد یقتہ الاولیا ء ص ۲۰۲ ،آمری سن کے قریب ایک قدیم بستی ہے۔مو لف) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت ہر یہ سید علیہ الرحمۃ یہ پیر بو دلہ کےمعتقد خدام میں سے تھے،ایک مر تبہ پیر بو دلہ نے خوش ہو کر فرمایا ، دین می خواہی یا دنیا،آپ نے جواب دیا،دنیا تو فا نی ہے مجھے تو وہ دیجئے جو دین و دنیا دونو ں میں کا م آئے،آپ نے ایک نگاہ ڈالی تو مر تبہ ولایت پر فائز کر دیا آپ کا مزار ٹھٹھہ میں پیر بو دلہ کے مزار کے قریب محلہ مغل وارہ میں ہے۔ (تحفتہ الطاہرین ص ۱۲۸ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت ہر یہ سید علیہ الرحمۃ یہ پیر بو دلہ کےمعتقد خدام میں سے تھے،ایک مر تبہ پیر بو دلہ نے خوش ہو کر فرمایا ، دین می خواہی یا دنیا،آپ نے جواب دیا،دنیا تو فا نی ہے مجھے تو وہ دیجئے جو دین و دنیا دونو ں میں کا م آئے،آپ نے ایک نگاہ ڈالی تو مر تبہ ولایت پر فائز کر دیا آپ کا مزار ٹھٹھہ میں پیر بو دلہ کے مزار کے قریب محلہ مغل وارہ میں ہے۔ (تحفتہ الطاہرین ص ۱۲۸ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت ہفت عفیفہ (ستیون) علیہ الرحمۃ منتخب التواریخ کی روایت کے مطا بق یہ سا ت پاک دامن خواتین سومرا خاندان سے تعلق رکھتی تھیں علاؤالدین بادشاہ کے زمانہ میں سومرا خاندان کے لوگ ڈر سے ادھر ادھر چھپ گئے تھے۔اس فرار کے دوران یہ خواتین قا فلہ سے بھٹک گئیں شاہی افواج جو اس قبیلہ کا تعا قب کر رہی تھیں ان خواتین تک آگئیں جب ان کو اپنی گر فتا ری کا خو ف ہوا تو اللہ سے مدد چا ہی خدا کی قد رت سے زمین شق ہو گئی اور یہ خو اتین اس میں چلی گئیں ،فو جیوں نے قریب آکر دیکھا تو خواتین تو غا ئب تھیں مگر دوپٹہ کا آنچل بطور نشا نی باہر تھا،ان پاک دامن خواتین کے غ۔۔۔
مزید
ہوتی شیخ علیہ الرحمۃ علیہ الرحمۃ شیخ ہوتی صاحب قال وحال بلند پایہ بزرگ تھے سر تاپا سرخ لباس پہنے، تیر و کمان لیے سماع کی محافل میں شرکت کرتے ،اور عالم و جد و مستی میں رقصاں رہتے، آپ صاحب کرامت بزرگ تھے، آپ سے کئی کرامات منسوب ہیں۔ ایک اژدھا جو مسافروں کا راستہ روکتا تھا، اس پر نگاہ ڈالی تو جلا کر خاکستر کردیا۔ جب آپ کا وصال ہوا تو بے شمار اولیاء کرام و علمائے عظام نے نماز جنازہ میں شرکت کی آپ کا مزار پر انوار موریانی کے مقام پر جنگل کی طرف ہے۔ (حد یقۃ الاولیاء ص ۱۰۸ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت یتیم مردانعلیہ الرحمۃ حضرت یتیم مردان اتی مردان کے نام سے معروف ہیں ہند سے سرزمین سندھ میں تشریف لائے،سید محمد شجاع المعروف بہ نا تھن شاہ سجا دہ نشین سید شاہ مراد قدس سرہ بسا اوقات ان کی زیا رت کو آتے اور یہ شعر پڑھتے تھے۔ اتی مردان بحق شاہ مرداں مرا محتاج نا مرواں مگر داں آپ کا مزار فیض آ ثا ر ٹھٹھہ کے محلہ قند سرمیں مر جع خلا ئق ہے۔ (تحفتہ الطا ہرین ص ۱۳۵ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت واریہ سید علیہ الرحمۃ عزلت پسند بزرگ تھے،زندگی بھرمجرد رہے آپ کا مزار قا ضیوں کے با ڑہ میں مسجد کے متصل واقع ہے،یہ جگہ ٹھٹھہ کے محلہ مغل وارہ میں ہے۔ (تحفتہ الطا ہرین ص ۱۲۷ ) (تذکرہ اولیاءِ سندھ ) ۔۔۔
مزید