جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا کوز ابن  علقمہ رضی اللہ عنہ

   خطیب نے ان کانام کرزبن علقمہ کے نام کے ساتھ لکھاہے ابن ماکولانے بھی ایساہی کہاہے یہ قبیلہ بنی بکربن وائل سے ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد نجران کے ساتھ حاضرہوئےتھےاس وقت یہ نصرانی تھے بعداس کے اسلام لائے۔ابراہیم بن سعد نے ابن اسحاق سے انھوں نے یزیدبن سفیان سے انھوں نے ابن سلمانی سے کوزبن علقمہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجران کے نصرانیوں کاوفد آیاتھاساٹھ آدمی تھےمنجملہ ان کے چوبیس آدمی اور اشراف تھے ان چوبیس میں تین آدمی ایسے تھےکہ باقی لوگ سب ان کی طرف رجوع کرتے تھےان سب کاسردراوراہل الرائے اورصاحب مشورت اورحاکم عبدالمسیح تھااور منتظم ان کا نہیم تھااورقبیلۂ بنی بکربن  وائل کا ایک شخص ابوحارثہ نے اپنے ساتھ اپنے خچر پراپنے بھائی کو جس کانام کوزبن علقمہ تھاسوارکرلیاتھایکایک ابوحارثہ کے خچرنے ٹھوکرلی توکوز نے کہ۔۔۔

مزید

سیّدنا کہمیل ازدی رضی اللہ عنہ

  ۔ہمیں ابوموسیٰ نے اجازۃً خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعلی مقری نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوعمرو بن ہمدان نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے حسن بن سفیان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے داؤد بن رشید نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عبدالملک بن محمد یعنی ابوالدردأ نے اوربروایت دیگرابوازرقأ نے علقمہ بن عبداللہ قریشی سنے انھوں نے قاسم بن محمد سے انھوں نے کہیل ازدی سے جو صحابی تھے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےاحد میں جب لوگ بہت زخمی ہوئے تو ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  گیااوراس نے کہاکہ یارسول اللہ لوگ بہت زخمی ہوگئے ہیں آپ نےفرمایاکہ جاؤ راستہ میں کھڑے ہوجاؤجب کوئی زخمی تمھاری طرف سے گذرے تو بسم اللہ پڑھ کراس کے زخم میں لعاب دہن لگادواوریہ دعا پڑھو۔۱؎باسم ربناالحی الحمیدمن کل حدوحدیدوحجر تلیداللہم اشف لاشافی الاانتکہیل کہتےتھے کہ اس دعاکے پڑھ دینے سے زخم م۔۔۔

مزید

سیّدنا کہمس ہلالی رضی اللہ عنہ

۔صحابی ہیں ان سے معاویہ بن قرہ نے روایت کی ہے ۔بصرہ میں رہتےتھے۔حماد بن یزید بن مسلم منقری نے معاویہ بن قرہ سے انھوں نے کہمس ہلالی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں مسلمان ہوکررسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیااورمیں نے آپ کو اسلام کی خبردی پھر ایک  سال تک نہیں گیابعداس کے پھرگیااس وقت میراپیٹ پخچ گیاتھااورجسم لاغرہوگیاتھاآپ نے بہت غور سے مجھے دیکھامیں نے کہاکیاآپ مجھے نہیں پہچانتے میں کہمس ہلالی ہوں جو گذشتہ سال آپ کی خدمت میں آیاتھاآپ نے پوچھاکہ تمھاری یہ کیاحالت ہوگئی میں نے عرض کیاکہ آپ سے ملنے کے بعد پھرمیں نہ شب کو سویانہ دن کونہ کبھی روزہ ترک کیاآپ نے فرمایایہ تمھیں کس نے حکم دیاتھاکہ اپنی جا کوستاؤ سنو صرف رمضان کے روزہ رکھاکرواورہرماہ میں دودن روزہ رکھ لیاکرو میں نے کہاکچھ اورزیادہ اجازت دیجیے کیونک مجھے اس سے زیادہ طاقت ہےآپ نے فرمایاکہ اچھارمضان کے علاوہ ہرمہ۔۔۔

مزید

سیّدنا کندیر ابن  سعید رضی اللہ عنہ

   بن حیدہ بن قشیرقشیری۔اوربعض لوگ ان کو مزنی کہتےہیں ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہے۔ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہےبعض لوگوں نے کہاہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھااوران کے والد صحابی تھے۔خالد بن عبداللہ نے داؤد بن ابی  ہند سے انھوں نے عباس بن عبدالرحمن سے انھوں نے کندیر بن سعید سے اورایک مرتبہ انھوں نے کہا کہ کندیر بن سعید کے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمیں نے ایک مرتبہ زمانۂ جاہلیت میں حج کیاتھامیں نے وہاں دیکھا کہ ایک شخص طواف کررہاہے اوریہ شعرپڑھ رہاہے؂ ۱؎        یارب روراکبی محمدا                                    روہ لی ۔۔۔

مزید

سیّدنا کنانہ ابن  عدی رضی اللہ عنہ

   بن ربیعہ بن عبدالعزی بن عبد شمس بن عبدمناف عبشمی۔یہی ہیں جو زینب بنت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کولےکرآئےتھےجب کہ ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیع نےان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں بھیجایہ کنانہ ابوالعاص کے بھتیجے تھے۔ان کا تزکرہ ابوعمر نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کنانہ ابن  عبدیالیل رضی اللہ عنہ

    ثقفی۔قبیلہ ثقیف کے ان سرداروں میں سے تھےجورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں محاصرۂ طائف سے لوٹنے کے بعد حاضرہوئےتھےیہ لوگ عروہ بن مسعود کو قتل کرچکے تھے۔یہ سب لوگ مشرف بہ اسلام ہوئےعثمان بن ابی العاص بھی انھیں میں سے تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ میں کہتاہوں کہ ابوعمرنے ردیف عین میں عبدیالیل کانام لکھاہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوئےتھےاورکتاب کے حاشیہ پرلکھاہے کہ انھوں نے یہ روایت ابن اسحاق سے نقل کی ہے مگرصحیح یہی ہے کہ و کنانہ بن عبدیالیل تھے اس کو موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے اور مداینی نے کہاہےکہ کنانہ بن عبدیالیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں قبیلۂ ثقیف کے وفد کے ساتھ آئےتھےوہ سب لوگ سواکنانہ کے مسلمان ہوگئے کنانہ نے کہاکہ کوئی قریشی شخص میرا وارث نہیں ہوسکتااس کے بعد وہ نجران چلے گئےاوروہاں سے روم گئےاوروہیں بحالت کفر انتقال کیا واللہ۔۔۔

مزید

سیّدنا کناز ابن  حصین رضی اللہ عنہ

   بن یربوع بن خرشہ بن سعد بن طریف بن جلان بن غنم بن یعصر بن سعد بن سعد بن قیس غیلان یہ ابن اسحاق کاقول ہے اورابن کلبی نے کہاہے کہ ان کانام کناربن حصین بن یربوع بن طریف بن خرشہ بن عبیدبن سعد بن عوف بن کعب بن جلان بن غنم بن غنی ہے کنیت ان کی ابومرثد تھی۔غنوی ہیں۔حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کے حلیف تھے۔اکابر صحابہ اورفضلا ئے صحابہ سے ہیں۔بدرمیں یہ اوران کے بیٹے مرثد دونوں شریک تھے۔ان سے واثلہ بن اسقع نے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھےمیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھےکہ قبروں کی  پرنہ بیٹھو نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو۔بعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کی وفات بعہد خلافت حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ۱۱ھ؁ ہجری میں ہوئی اس وقت ان کی عمر۶۶سال کی تھی ہم انشأ اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں ان کا ذکراس سے زیاہ کریں گے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کلیب صحابی رضی اللہ عنہ

ہیں۔ان کو ابولولونے قتل کیاتھاجس دن کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس نے شہید کیازہری نے بیان کیا ہے کہ ابولولونے بارہ آدمیوں کو زخمی کیاتھاجن میں سے چھ مرگئے منجملہ ان کے حضرت عمراورحضرت کلیب تھے اورچھ آدمی زند ہ رہےان آدمیوں کوزخمی کرنے کے بعد اس نے اپنے ہی خنجر سے اپنا گلاکاٹ لیا۔یہ کلیب وہی ہیں جن کی بابت حضرت عمرسے کہاگیاتھاکہ ایک عورت جنگل میں مری ہوئی پڑی تھی بہت سے لوگ اس طرف سے گذرے مگرکسی نے اس کو دفن نہ کیاآخرکلیب نے اس کو دفن کیاتوحضرت عمرنے فرمایاکہ میں امید کرتاہوں کہ کلیب کو فائدہ  پہنچے گا۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کلیب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ

  ان کا نام ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ابوبکربن ابی علی نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہےاورانھوں نے صخر بن عکرمہ سے انھوں نے کلیب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگرگناہ میں مومن کے لیے یہ فائدہ نہ ہوتاکہ وہ  تکبرسے بچ جاتاہے تواللہ تعالیٰ کبھی کسی مومن کو گناہ نہ کرنے دیتا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا کلیب صحابی رضی اللہ عنہ

ہیں۔ان کو ابولولونے قتل کیاتھاجس دن کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس نے شہید کیازہری نے بیان کیا ہے کہ ابولولونے بارہ آدمیوں کو زخمی کیاتھاجن میں سے چھ مرگئے منجملہ ان کے حضرت عمراورحضرت کلیب تھے اورچھ آدمی زند ہ رہےان آدمیوں کوزخمی کرنے کے بعد اس نے اپنے ہی خنجر سے اپنا گلاکاٹ لیا۔یہ کلیب وہی ہیں جن کی بابت حضرت عمرسے کہاگیاتھاکہ ایک عورت جنگل میں مری ہوئی پڑی تھی بہت سے لوگ اس طرف سے گذرے مگرکسی نے اس کو دفن نہ کیاآخرکلیب نے اس کو دفن کیاتوحضرت عمرنے فرمایاکہ میں امید کرتاہوں کہ کلیب کو فائدہ  پہنچے گا۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید