۔شاعر۔کلب بن عوف بن کعب بن عامربن لیث بن بکربن عبدمناہ بن کنانہ کی اولاد سے ہیں۔یہ ہشام بن کلبی کاقول ہےاورابوموسیٰ نے ان کو قیس بن مسحل یعمری لکھاہےاورکہا ہے کہ یعمری منسوب ہے یعمرشداخ بن عوف کنانی لیثی کی طرف۔یہ بھائی ہیں کلب بن عوف کے اوراکثر بھائی کی طرف اگروہ مشہورہونسبت کردی جاتی ہے غزوہ ٔجذام میں جو بمقام حسمی ہو اتھا زید بن حارثہ کے ساتھ تھےاورغزوۂ موتہ میں بھی شریک تھےاوراس دن انھوں نے ایک شعر بھی کہاتھاجس کو ابن اسحاق نے مغازی میں نقل کیاہےاورانھوں نے مثل ابن کلبی کے ان کا نام قیس بن مسحربیان کیاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورابوعمرنے ان کو قیس بن مسحر لکھاہے اور بیان کیاہے کہ زید بن حارثہ کے ساتھ ام قرفہ کے جہاد میں شریک تھےاورام قرفہ کوانھیں نے قتل کیاتھامگرابوموسیٰ نے ان کو قیس بن مسحل لکھاہے۔ابن ماکولا نے بھی ابوعمرکے موافق لکھاہے جیسا کہ ہم نے بیان کیااورابن اسحاق۔۔۔
مزید
بن مطلب بن عبدمناف بن قصی۔قریشی مطلبی ۔کنیت ان کی ابومحمد تھی۔اوربعض لوگ ابوسائب بیان کرتے ہیں ان کی والدہ عبداللہ بن سبع بن مالک بن جنادہ کی بیٹی تھیں قبیلۂ بنی عنزہ بن اسد بن ربیعہ بن نزارسے۔یہ اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم واقعۂ فیل کے سال میں پیداہوئے تھے۔اس کو ابن اسحاق نے مطلب بن عبداللہ بن قیس سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداقیس بن محزمہ سےروایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال کی پیدائش ہیں ہم دونوں واقعۂ فیل کے سال میں پیداہوئےتھے۔یہ ان مولفتہ القلوب میں سے تھے جن کااسلام آخرمیں بہت اچھاہوگیاتھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حنین میں سو اونٹ نہیں دیے اورخیبر میں ان کو پچاس وثق دیے تھے ان کی آواز بہت بلندتھی کعبہ کےپاس کھڑے ہوکریہ چیختے تھےتوان کی آواز کوہ حراپرسنائی دیتی تھی۔ان سے ان کےدونوں بیٹے روایت ک۔۔۔
مزید
قیس کے داداہیں۔محمد نےاپنے داداسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے احمد بن سیارنے جعفربن مسافرسے انھوں نے محمدب بن تمیم سےاس کو روایت کیاہےیہ جعفرکاقول ہے جو مجھ سے بزوعی نے سمرقند میں بیان کیاتھا۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نےاسی طرح مختصر لکھاہے۔میراغالب گمان یہ ہے کہ یہ محمد بن اشعث بن قیس کندی وہی امیر مشہورہیں جو عبدالرحمن کے والد تھے جنھوں نے حجاج سے قتال کیاتھااگریہ وہی ہیں تو ان کےدادا قیس صحابی نہیں ہیں اوراگریہ کوئی اورہیں تومیں ان کونہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابومحمد تھی۔طبرانی نے ان کاتذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ ہمیں ابوموسیٰ نے اجازۃً خبر دی وہ کہتےتھےہمیں ابوطالب یعنی احمد بن عباس نے خبردی وہ کہتےتھےہمیں ابوبکربن زیدہ نے خبردی نیزابوموسیٰ کہتےتھےہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونعیم نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے سلیمان بن احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھےمحمد بن خالد راسبی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے ابومیسرہ نہاوندی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے عبدالمجیدبن عبدالعزیزبن ابی داؤد نے ابن جریح سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے عثمان بن محمد بن قیس سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھے میرے والد نے میرے ہاتھ میں ایک کوڑا دیکھاجس میں رسی نہ تھی تو انھوں نے کہاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سےفرمایاتھاکہ اپنے کوڑے کی رسی درست کرکہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو دوست رکھتاہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے اورکہا ہے کہ ابو۔۔۔
مزید
۔بعض لوگ ان کو قیس بن حصن بن خالد بن محلدبن عامر بن زریق کہتےہیں۔انصاری ہیں بدرمیں اوراحد میں شریک تھے ہمیں ابوجعفرنے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں کے متعلق روایت کرکے خبردی کہ وہ کہتےتھےخاندان بنی زریق بن عامر بن عبدحارثہ بن مالک ثم من بنی مخلد بن عامر بن زریق سے قیس بن محصن بن خالد بن مخلد تھےان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن انس ۔کنیت ان کی ابوصرمہ تھی۔ان کاذکرقیس بن صرمہ کے نام میں ہوچکاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
ارحبی۔ارحب ایک شاخ قبیلہ ہمدان کی ہے۔ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تحریر بھیجی تھی اس تحریرکے بعدیہ اسلام لے آئےتھے۔عمروبن یحییٰ بن عمروبن سلمہ ہمدانی نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے روایت کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس بن مالک کو یہ خط بھیجاتھا ۱؎السلام علیکم ۔امابعد ذالک فانی استعملتک علی قومک عربہم وحمورہم و موالیہم واقطعتک من ذرۃ نسارما ئتی صاع ومن زبیب خیوان مائتی صاع جارلک ولعقبک ابداابداابدا۔قیس کہتےتھےکہ مجھ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ابداابداابدا کہنابہت محبوب ہے اس سے مجھے امید ہے کہ میری نسل ہمیشہ قائم رہے گی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ابن ماکولا نے کہاہےکہ حبَّان بن ہانی بن مسلم بن قیس بن عمروبن مالک بن لای ہمدانی ارحبی اپنے اساتذہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتےتھے قی۔۔۔
مزید
۔کلابی۔صحابی ہیں یمن کے رہنے والے ۔ان کی حدیث عبداللہ بن حکیم کنانی سے مروی ہے۔محمد بن عبدالحکیم نے سعید بن بشیرقریشی مصری سے جو یمن کے ایک شخص تھےانھوں نے قیس بن کلاب کلابی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوکعبۂ مکرمہ کی چھت پر یہ اعلان کرتے ہوئےسناکہ بے شک اللہ نے تمھارے خون اورتمھارے مال اور تمھاری اولاد ہمیشہ کے لیے اس طرح حرام۱؎ کیےہیں جیسے آج کے دن اس مہینہ میں اورجیسے یہ مہینہ اس سال میں یااللہ میں نے تیراحکم پہنچادیا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎یعنی باہم خونریزی نہ کرناکسی مسلمان کامال نہ کھانا؟اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ان کا تذکرہ ارطاہ کے نام میں ہوچکاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن اسلت۔یہ قیس بیٹے ہیں صیفی کے ان کاذکراوپرہوچکاہے۔انھیں کے متعلق ان کے والد نے یہ شعرکہاتھا ۱؎ اقیس انی ہلکت وانت حی فلایحرم فواضلک العدیم یہ ابن کلبی کا قول ہے۔ ۱؎ترجمہ۔اے قیس اگرمیں مرجاؤں اورتم زندہ رہو۔توتمھاری بزرگیوں میں سے ایک معدوم شخص محروم نے رہے(یعنی مجھ کو ایصال ثواب کرتے رہنا)۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید