منگل , 18 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 05 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عمیرابن ودقہ رضی اللہ عنہ

  ۔مولفتہ القلوب میں سے ایک شخص ہیں  حنین کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اورقیس بن مخزمہ کواورعباس بن مرداس کو اورہشام بن عمروکو اورسعید بن یربوع کو سواونٹ سے کم دیے تھےاورباقی مولفتہ القلوب کوسو سو اونٹ دیےتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیرابن نیارانصاری رضی اللہ عنہ

  ۔بعض لوگوں کابیان ہے کہ یہ ابوبردہ بن نیار کے بھتیجے ہیں۔غزوہ بدرمیں شریک تھے۔ان کا شماراہل کوفہ میں ہے ان سے ان کے بیٹے سعد نے روایت کی ہے۔ان کی حدیث میں اختلاف ہے۔وکیع نے سعد بن سعیدثعلبی سے انھوں نے سعید بن عمیرسے انھوں نے اپنے والد سےجواہل بدرمیں سےتھےروایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجو شخص خلوص قلب سے میرے اوپردرود شریف پڑھتاہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتاہےاور اس کے درجہ بلندکرتاہےاوراس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتاہے اوردس برائیاں اس کی مٹادیتاہے۔ یہ حدیث بواسطہ سعید بن عمیرکے ان کے چچاسے بھی مروی ہے ۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے مگر ابوعمرنے کہاہے کہ یہ سعید کے والد ہیں اس سے خیال ہوتاہے کہ شاید کوئی اورہوں گے حالانکہ یہ وہی ہیں واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر ابن قویم رضی اللہ عنہ

   ان کاشماراہل کوفہ میں ہے ان کی حدیث شعبہ اورمسعر نے عبیداللہ بن حسن سے انھوں نے عبدالرحمن ابن معقل سے انھوں نے غالب بن حراورعمیربن نویم سے روایت کی ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھاکہ یارسول اللہ اب ہمارے پاس سواگدھوں کے اورکوئی چیزباقی نہیں رہی حضرت نے فرمایا کہ فربہ گدھوں کو ذبح کرکے اپنے بال بچوں کو کھلاؤ میں نے تمھیں صرف ان گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی جو بستی کے گرد پھرتے ہوں ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر معرف رضی اللہ عنہ

بن واصل کے داداہیں۔اسباط بن محمد نے معروف بن واصل سعدی نے حفصہ بنت اقعس سے انھوں نے عمیرسے جو معرف کے داداتھےروایت کی ہے کہ انھوں نے کہامیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھاہواتھاکہ ایک طبق آپ کے پاس لایاگیااس کے بعدپوری حدیث ذکرکی ان کا تذکرہ ابن مندہ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر ابن معبد رضی اللہ عنہ

  بن ازعربن زید بن عطاف بن ضبیعہ بن زید انصاری اوسی۔ابوموسیٰ کاقول ہے اورابن اسحاق نےکہاہے کہ ان کانام عمروبن معبد بن ازعرہے۔بدرمیں اوراحد میں اورخندق میں اورتمام مشاہد میں  رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھے۔غزوہ حنین میں یہ انہیں سوآدمیوں میں سے تھےجوثابت قدم رہے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر مزنی۔ رضی اللہ عنہ

ابونعیم نے کہاہے کہ سلیمان  نے ان کاذکرکیاہےمگرکچھ حال نہیں لکھا۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر ذومران رضی اللہ عنہ

القیل بن افلح بن شراحیل بن ربیعہ۔ربیعہ کانام ناعط بن مرثدہمدانی ہے ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط بھیجا تھا۔مجالد بن سعید ہمدانی کے داداہیں عبدالغنی نے کہاہے کہ عمیر ذی مران صحابی ہیں۔مجالد بن سعید بن عمیرذی مران نے اپنے والدسے انھوں نے ان کے داداعمیر سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہمارے پاس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کاخط آیاجس کی عبارت یہ تھی۱؎بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللہ عمیر ذی مران ومن اسلم من ہمدان السلام علیکم فانی الحمدللہ الذی لاالہ الاہوامابعد فاننا بلننااسلامکم مقدمنامن ارض الروم فابشروفا اللہ تعالیٰ قدہداکم بہدایتہ وانکم اذاشہدتم ان لاالہ الااللہ وان محمد رسول اللہ واقمتم الصلوۃ واعطیتم الزکوۃ فان لکم ذمتہ  اللہ وذمتہ رسولہ علی ومائکم واموالکم والی ارض القوم الذین اسلمتم علیہاسہلہاوجبالھاغیر مظلومین وسلام ضیق علیہم وان الصدقتہ لا تحمل لمحمد ولالاہل بیت۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر مالک  رضی اللہ عنہ

کے والد ہیں۔ابوبکر اسماعیلی نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھاہےان سے ان کے بیٹے مالک نے روایت کی ہے کہ انھون نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑی ملی ہوئی چیزکی بابت پوچھاآپ نے فرمایاکہ اس کی شناخت لوگوں سے کراؤاس کی شناخت کرنےوالاکوئی مل جائے تواس کودے دو ورنہ اس سے خود فائدہ اٹھاؤ اورلوگوں کو گواہ بنادواگراس درمیان میں بھی اس کا مالک آجائے تواس کو دے دو ورنہ سمجھو کہ اللہ  کامال ہےجس کو چاہتاہے دیتاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر ابن مالک رضی اللہ عنہ

  ۔ابن شاہین نے ان کاتذکرہ لکھاہے۔سفیان ثوری نےاسماعیل بن سمیع سے انھوں نے عمیر بن مالک سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیاکہ یارسول اللہ جہامیں اپنےباپ کے قتل کو مجھے موقع ملاتھامگرمیں نے درگذرکی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایاپھردوسرے شخص نے کہایارسول اللہ جہاد میں میں نے اپنے والد کو مقابلہ میں دیکھااور ان سے میں نے ایک بری بات سنی تومیں نے ان کو قتل کردیااس پربھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  نے سکوت فرمایا۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمیر رضی اللہ عنہ

  ان سے ان کے بیٹے عبیدنے روایت کی ہے کہ انھون نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہ پوچھے تھےتوآپ نے فرمایاکہ توہین اللہ کے ساتھ شرک کرناجادوکرنااورکسی کوناحق مارڈالنااور سود کھانااوریتمیم کا مال کھانا اورجہاد ے بھاگنااورپاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا اورمسلمان والدین کی نافرمانی کرنااورکعبہ کی بے حرمتی کرناجوتمھاراقبلہ ہےزندوں کابھی اورمردوں کا بھی ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید