ہفتہ , 22 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 09 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا عمرو ابن نعمان رضی اللہ عنہ

   بن مقرن۔مازنی۔اوربعض لوگ ان کو نعمان بن عمروکہتے ہیں یہ ابن مندہ اورابونعیم کا قول ہے۔ان کی حدیث بکربن خلف نے علاء بن عبدالجبار سے انھوں نے عبدالواحد ابن زیاد سے انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابوخالدوالبی سے انھوں نے عمروبن نعمان سے روایت کی ہےکہ بکرنامی صحابی بیان کرتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا گذرایک مرتبہ انصارکی ایک مجلس میں ہواانصارمیں ایک شخص تھےجن کی نسبت مشہورتھاکہ وہ لوگوں کی بدگوئی کیاکرتے ہیں ان سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مسلمان کی بدگوئی فسق ہے اوراس سے لڑناکفر تواس انصاری نے عرض کیاکہ واللہ اب میں کسی کی بدگوئی کبھی نہ کروں گا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے ابوعمر نے کہاہےکہ  عمروبن نعمان صحابی ہیں اوران کے والداجلہ صحابہ میں سے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

   ان کے نام میں اختلاف ہے معاذ بن رفاعہ نے ابوعبیدہ حاجب سے انھوں نےعمروبن نضلہ سے روایت کی ہے مگرصحیح یہ ہے کہ اوزاعی نے ابوعبیدہ سے جو سلیمان بن عبدالملک کے دربان سے انھوں نے عبیدبن نضلہ سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصراً لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

   ان کے نام میں اختلاف ہے معاذ بن رفاعہ نے ابوعبیدہ حاجب سے انھوں نےعمروبن نضلہ سے روایت کی ہے مگرصحیح یہ ہے کہ اوزاعی نے ابوعبیدہ سے جو سلیمان بن عبدالملک کے دربان سے انھوں نے عبیدبن نضلہ سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصراً لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن میموں رضی اللہ عنہ

   اودی کنیت ان کی ابوعبداللہ ہے انھوں نے جاہلیت کا زمانہ پایاتھااورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائےتھےاورسوحج کیے تھے اوربقول بعض سترحج کیے تھے اوراپنی زکوۃ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجی تھی کہتے تھے کہ معاذبن جبل ہمارے پاس یمن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے گئے صبح کے وقت بلندآواز سے تکبیر کہتےہوئے ہمارے یہاں پہنچے وہ بہت خوبصورت تھے ان کی محبت میرے دل میں جم گئی پس میں نے ان کا ساتھ نہ چھوڑایہاں تک کہ میں نے ان کودفن کیاپھربعدحضرت معاذ کے یہ ابن مسعود کی  صحبت میں رہنے لگےاہل کوفہ کے اعلیٰ طبقہ کے تابعین میں ان کا شمارکیاجاتاہے یہی ہیں جنہوں نے روایت کی ہے کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندرکودیکھاکہ اس نے زناکی پس سب بندرجمع ہوئے اورسب نے اس کو سنگسار کیا یہ روایت صحیح بخاری میں ہے مگراس روایت کامدار عبدالملک بن مسلم ہے وہ عیسیٰ بن۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن معدیکرر رضی اللہ عنہ

  ابن عبداللہ بن عمروبن خصم بن عمروبن زبیداصغر۔زبید کادوسرانام مبنہ بن ربیعہ بن سلمہ بن مازن بن ربیعہ بن مبنہ بن زبیدالربن حارث بن صعب بن سعد عشیرہ بن مذحج زبیدی مذحجی۔ کنیت ان کی ابوثورتھی۔ابوعمرنے ان کا نسب اسی طرح بیان کیاہےاورہشام کلبی نے بجائے خصم کے عصم بیان کیاہےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں قبیلہ مراد کے وفد کے ساتھ حاضر ہوئے تھےیہ اپنی قوم سعدعیثرہ سے علیحدہ  ہوگئے تھےاورقبیلۂ مرادہی میں رہتےتھےاورانہیں کے وفد کے ساتھ آئے تھےاورانہیں کے ساتھ اسلام لائےتھےاوربعض لوگوں کابیان ہے کہ زبید کے وفد کے ساتھ آئے تھےواللہ اعلم    ۹ھ؁ ہجری میں یہ اسلام لائے تھےاورواقدی نے کہاہے کہ ۱۰ھ؁ ہجری میں اسلام لائے تھےیہ سب لوگ اسلام لانے کے بعداپنے وطن واپس گئے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تواسود عنسی کے ساتھ یہ بھی مرتد ہوگئے تھےپس خالد بن سعید بن عاص ان کے ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن معبد رضی اللہ عنہ

  بن ازعربن زیدبن عطاف بن ضبیعہ بن زیدبن مالک بن عوف بن عمروبن عوف بن مالک ابن اوس انصاری اوسی ضبیعی۔بدرمیں شریک تھےاوربعض لوگ ان کو عمرواورعمیربھی کہتےہیں مگرپہلاہی قول زیادہ  مشہورہے۔ہمیں عبیداللہ بن احمد نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسے انھوں نے ابن اسحاق سے شرکائے بدرکے ناموں میں روایت کرکے خبردی کہ بنی ضبیعہ بن زیدسے عمروبن معبدتھے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ  نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مسلم  رضی اللہ عنہ

   خزاعی ابن شاہین نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھاہےاوروہ حدیث لکھی ہے جویزید بن عمرو بن مسلم نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداسے نقل کی ہے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے کہ وہ  حدیث مسلم کی ہے نہ کہ عمروکی۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مرہ بن عبس رضی اللہ عنہ

بن مالک بن حارث بن مازن بن سعدبن مالک بن رفاعہ بن نصر بن مالک بن غطفان بن قیس بن جہنیہ جہنی۔بنی غطفان میں سے ہیں اوربعض لوگ ان کواسدی اوربعض ازدی کہتے ہیں مگرپہلاقول زیادہ مشہورہے کنیت ان کی ابومریہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں وفد بن کر آئے تھےاورعرض کیاتھا کہ جوشریعت آپ لائے ہیں اس پر میں ایمان لایااگرچہ یہ  بہت قوموں کو ناگوار گذرے یہ قدیم الاسلام ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہمراہ اکثر مشاہد میں شریک رہے۔شام میں رہتےتھے ان سے عیسیٰ بن طلحہ اورسبرہ بن معبداورمضربن عثمان وغیرہم نے روایت کی ہے ہمیں عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسمعیل بن ابراھیم نے علی بن حکم سے نقل کرکے بیان کیا وہ کہتےتھے مجھ سے ابوحسن نے بیان کیا کہ عمروبن مرہ نے حضرت معاویہ سے کہاکہ اے معاو۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن مرداس رضی اللہ عنہ

   سلمی۔ان کا نسب ان کے بھائی عباس بن مرداس کے نام میں بیان ہوچکاہے ان کا تذکرہ مولفتہ القلوب میں کیاگیاہےمحمد بن مروان نےمحمد بن سائب سے انھوں نے ابوصالح سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے مولفت القلوب پندرہ آدمی تھے جن کے نام ہیں (۱)ابوسفیان بن حرب(۲)اقرح بن سابس(۳)خینیسہ بن حصن فزاری(۴)سہیل بن عمرو عامری(۵)حارث بن ہشام مخزومی(۶)حویطب بن عبدالعزی خاندان بنی عامر بن لوی سے (۷) سہیل بن عمروجہنی(۸)ابوالسنابل بن بعکک (۹)حکیم بن حزم قبیلہ بن اس بن عبدالعزی سے (۱۰) مالک بن عوف نضری (۱۱)صفوان بن امیہ (۱۲)عبدالرحمن بن یربوع خاندان بنی مالک سے(۱۳) جدبن قیس سہمی (۱۴)عمروبن مرداس سلمی (۱۵)علاءبن حارث ثقفی ان میں سے ہر شخص کو سو سو اونٹ دئیے گئے تھےاوریربوع اورحویطب کوپچاس پچاس جیسا کہ ایک طویل حدیث میں مذکور ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔اورابونعیم نے کہاہے ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن محمدبن رضی اللہ عنہ

   مسلمہ۔انصاری۔ان کا نسب انشاء اللہ تعالیٰ ہم ان کے والد کے نام میں لکھیں گے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاشرف صحبت حاصل کیاتھااورفتح مکہ میں اوراس کےبعد کے تمام مشاہد میں شریک تھےاس کو ابن شاہین نے عبداللہ بن ابی داؤد سے نقل کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید