غاضری۔ان کی حدیث میں اختلاف ہے ان سے ابن عائد نے روایت کی ہے کہ یہ کہتے تھےمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گھٹنے سے گھٹنا ملائے ہوئے بیٹھاتھاکہ ایک شخص آیا اوراس نے کہاکہ یانبی اللہ آپ اس شخص کے بارے میں کیافرماتے ہیں جس کے پاس خیرات کرنے کوکچھ مال نہ ہونہ اسے فی سبیل اللہ جہاد کرنے کی قوت ہو وہ لوگوں کے نمازپڑھتےہوئےجہادکرتے ہوئے صدقہ دیتےہوئے دیکھتاہےمگرخود کچھ نہیں کرسکتا آپ نے فرمایاوہ اچھی بات کرے اوربد گوئی چھوڑدے اللہ اس کو اسی سے ان لوگوں کےساتھ جنت میں داخل کرےگا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عقبہ بن نوفل بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ پایاتھااورفتح دمشق میں شریک تھےاورفتوحات جزیرہ میں بھی شریک تھے ۔سیف بن عمرنے ابوعثمان سے انھوں نے خالداورعبادہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے فتح دمشق کے بعد حضرت ابو عبیدہ کے پاس حضرت عمرکاخط آیا کہ عراق کا لشکرعراق بھیج دو۔اورسیف نےمحمد اورطلحہ اور مہلب اورعمرواورسعیدسے روایت کی ہے وہ کہتےتھےجب ہاشم بن عتبہ جلولاء سے مدائن واپس آئے اور اس وقت اہل جزیرہ ہرقل کی مددبمقابلہ اہل حمص کرنے کے لیے لشکرجمع کررہے تھے تو حضرت سعد نے اس حال کی اطلاع امیرالمومنین حضرت عمرکودی انھوں نے لکھاکہ عمربن مالک بن عتبہ بن نوفل بن عبدمناف کوکچھ لشکردے کرادہربھیج دوچنانچہ وہ لشکرلے گئےاورجولوگ وہاں جمع تھے ان کا محاصرہ کرلیایہاں تک کہ وہ لوگ جزیہ دینے پر راضی ہوگئے پھروہ مقام قرقیسیا میں گئے وہاں کے لوگ۔۔۔
مزید
بن عتبہ بن نوفل۔زہری۔فتح دمشق میں شریک تھےاورفتح جزیرہ انھیں کے ہاتھوں پر ہوئی۔اس سے زیادہ ان کا حال معلوم نہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ان سے حسن بن ابی الحسن نے روایت کی ہے کہ عورت کی شرم گاہ مس کرنے سے وضو کی ضرورت نہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئےتھےاورآپ سے بیعت کی تھی۔محمد بن سائب کلبی نے ابوصالح سے انھوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے عمربن غزیہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے اورعرض کیاکہ یارسول اللہ میں نے ایک عورت سے چھوہاروں کی خریداری کامعاملہ کیااوراس کو اپنے گھربلایا جب وہ آئی اورتنہائی میں مجھ سے ملی تو میں سوا جماع کے اس کے ساتھ سب کچھ کیارسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاپھرکیاکیاانھوں نے کہا پھرمیں نے غسل کیااورنمازپڑھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۱؎اقم الصلوۃ طرفی النہارعمرنے پوچھاکہ یارسول اللہ یہ میرے لیے خاص ہے یاتمام لوگوں کے لئے ہے آپ نے فرمایاتمام لوگوں کے لیے ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہےاورابونعیم نے یہ بھی لکھاہے ک یہ عمربن غزیہ انصاری بیعت عقبہ کے شرکامیں سے ہیں اورانھوں نے حدیث مذرکی روایت میں ان کا نام بجائے عمرکے عمرو۔۔۔
مزید
نخعی ۔بعض لوگوں نے ان کانام عمروبیان کیاہے ان کاتذکرہ محمد بن اسمعیل نے صحابہ میں لکھاہے یہ ابن مندہ کاقول تھامالک بن عامر سے ابن سعدی نےروایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہجرت کاحکم اس وقت تک قائم رہےگا جب تک کہ کفارلڑتے رہیں گے ۔معاویہ بن ابی سفیان اورعمروبن عوف نخعی اورعبداللہ بن عمروبن عاص نے بیان کیاہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہجرت دوقسم کی ہوتی ہے ایک ہجرت یہ ہے کہ گناہوں کوترک کرکے عبادت کی طرف رجوع کرے دوسری ہجرت یہ ہے کہ اپناوطن چھوڑکراللہ ورسول کی خدمت میں آئے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخرین نے ان کاتذکرہ صحابہ میں کیاہے اورکہاہے کہ محمدبن اسماعیل نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے اوران کانام عمربیان کیاہے مگراس میں کلام ہے ابونعیم نے وہ حدیث بھی ذکرکی ہےجوابن مندہ نے بیان کی ہے اورابوعمرنے بھی ہجرت والی حدیث لکھی ہے اوربجا۔۔۔
مزید
حضرت علی بن موفق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اسمِ گرامی: آپ کا اسمِ گرامی علی بن موفق۔کنیت: ابو الحسن تھی۔ تحصیلِ علم: علی بن موفق رحمۃ اللہ علیہ نے منصور بن عمار ، احمد بن ابی الحواری اوردیگرسے اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا۔ سیرت وخصائص: حضرت علی بن موفق بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک ولیٔ کامل عابد ،زاہد اور ایک نیک سیرت شخص تھے۔آپ عراق اور بغداد کے معروف بزرگان دین میں سے تھے۔ حضرت شیخ ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے محبت رکھتے تھے۔ بہت سے سفر کیے اپنی عمرمیں ستر بار حج بیت اللہ کیا۔ ایک دن حج کے موقعہ پر آپ کو خیال آیا کہ میں ہر سال حج پر آتا ہوں اور واپس چلا جاتا ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ میں کیا ہوں اور کس شمار میں ہوں۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں ارشاد فرمایا: یاد رکھو !جسے گھر بلاتے ہو وہی تمہارے گھر آتا ہے۔ اگر تم کسی کو گھر نہ ب۔۔۔
مزید
بن نابی۔انصاری سلمی ثعلبہ بن غنمہ بن عدی بن نابی اورعبس بن عامربن عدی کے چچازاد بھائی ہیں چند غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئےتھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ابی جہل بن ہشام مخزومی جنگ یرموک میں شہیدہوئےاوربعض لوگ کہتےہیں جنگ اخباوین میں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ابی زکریا۔ان کاذکرصحابہ میں کیاگیاہےمگرصحیح نہیں ہے۔ان کی حدیث ابوضمرہ یعنی انس بن عیاض نے حارث بن ابی ثابت سے انھوں نے عمربن عبیداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ نمازمغرب میں سہوہوگیاتھاان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید