ابن شرجیل۔ بعض لوگ کہتے ہیں ان کا نام شرجیل بن اوس ہے قبیلہ بنی مجمع کے ایک شخص ہیں۔ ان کا شمار اہل شام یں ہے۔ انسے نمران یعنی ابو الحسن رجی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خدا ﷺ کو فرمتے ہوئے سنا کہ جو شخص کسی ظالم کے ساتھ جائے گا تاکہ اس کی مدد کرے اور وہ یہ جانتا وگا کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام (٭مقصود یہ ہے کہ یہ کام اسلام کے خلاف ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ شخص درحقیقت کافر ہوگیا) سے نکل گیا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن سمعان۔ کنیت انکی ابو عبداللہ انصاری ہے۔ انکا تذکرہ انس بن مالک کی حدیچ میں ہے۔ سعید بن ابی مریم نے ابراہیم بن سوید سے انھوںنیہلال بن زید بن یسر انھوں نے انس بن مالک سے روایتکی ہے ہ رسول خدا ﷺ نے فمرایا کہ اللہ عزوجل نے مجھے تمام لوگوں کے لئع ہدیات اور رحمت بنا کے بھیجا ہے اور مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں گانے بجانیکے آلات کو اور بتوںکو اور جاہلیت کے کاموںکو مت دوںمیرے پروردگار نے اپنی عزت کی قسم کھئای ہے کہ جو شخص دنا میں شراب پیے گا میں قیامتکے دن اس پر شراب طہور حرام کر دوں گا اور جو شخص اس کو دنیایں ترک کر دے گا اللہ اسے حظیرۃ القدس میں شرابپلائے گا اوس بن سمعان نے عرض کیا کہ قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ تورات میں یہ مضمون لکھا ہوا ہے کہ جو بندہ خدا کے بندوں میں سے شراب پیے گا اللہ اس کو قیامت کے دن طینۃ الخبال پلائے گا لوگوں نے پوچھا کہ اے ابو عبداللہ طینۃ ۔۔۔
مزید
ابن عید انصاری۔ انکا نسب نہیں بیانکیا گیا۔ ابو الزبیر نے سعید بن اوس انصاری سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا عیدکے دن فرشتے راستوں پر کھڑے ہو کر پکارتے ہیں کہ اے مسلمانو اپنے بزرگ پروردگار کے پاس جائو جو نیکی کے ساتھ احسان کرتا ہے اور اس پر بڑا ثواب دیتا ہے تمہیں رات کو عبادت کا کم دیا گیا تھا چنانچہ تم نے کی اور تمہیں دن کو روزے کا حکمدی گیا تھا چنانچہ تم نے روزہ رکھا اور اپنے پروردگر بزرگ برتر کی تم نے اطاعت کی لہذا ابتم اپنے انعام لو پھر جب لوگ نماز پڑھ چکتے ہیں تو ایک منادی ندا کرتا ہے کہ آگاہ ہو جائو تمہارے پروردگار بزرگ برتر نے تمہیں بخش دیا پس اب ہدیت یافتہ ہو کر اپنے مکانوںکو لوٹ جائو یہ انعام کا دن ہے۔ آسمان میں عید کے دن کا نام انعام کا دن ہے۔ ان کا تذکرہ ابو موسی اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن سعد کنیت ان کی ابو زید۔ ان کا تذکرہ عبدان مروزی نے لکھا ہے اور کہا ہے کہ جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی اس وقت یہ اٹھاون برس کے تھے۔ یحیی بن بکیر نے اپنے والد سے انوں نے پانے مسائخ سے روایت کی ہے کہ اوس بن سعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے شام کے حاکم تے قبیلہ بنی امیہ بن زید میں سے تھے ان کی کنیت ابو زید تھی سن۱۰ھ میں بعمر ۶۴ سال ان کی وفات ہوئی ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن ساعدہ انصری۔ ہمیں محمد بن عمر بن ابی عیسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حافظ ابو عبداللہ بن مرزوق بن عبداللہ ہروی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو عمرو بن محمد نے خبر دی وہ کہتے تھے مجھے میرے والدنے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن ایوب بن حبیب رقی نے خبر دی وہ کہت یتھے ہمیں محمد بن سلیمان نے حلب میں خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابراہیم بن حسان نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں سدید نے حکم سے انھوں نے عکرمہ سے انھوں نے حضرت ابن عباس سے نقل کر کے خبر دی کہ وہ کتے تھے اوس بن ساعدہ انصاری رسول خدا ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئے حضرت نے ان کے چہرہ پر کچھ آثار ناخوشی کے دیکھے تو فرمایا کہ اے ابن ساعدہ یہ کیا بات ہے میں تمہارے چہرہ میں آثار ناخوشی کے دیکھتا ہوں انھوںنے عرض کیا کہ یارسول اللہ میری کچھ لڑکیاں ہیں اور میں ان کے موت کی دعا مانگتا ہوں حضرت نے فرمایا اے ابن ساعدہ ایسی دعا نہ کرو کیوں ک۔۔۔
مزید
ابن خولی بن عبداللہ بن حارثبن عبید بن مالک بن سالم حبلی بن غنم بن عوف بن خزرج بن حارثبن خزرج انصاری خزرجی سلامی۔ کنیت انکی ابو لیلی بدر میں اور احد میں اور تمام مشاہد میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شریک رہے۔ لوگوںکا کا بیان ہے کہ یہ کالمملین میں سے تھے۔ رسول خدا ﷺ نے ان کے اور شجاع بن وہب اسدی کے درمیان میںمواخات کرا دی تھی۔ جب نبی ﷺ کی وفات ہوئی تو اوس نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہس ے کہا کہ ہم آپکو خدا کی قسم دلاتے ہیں کہ ہمیں بھی رسول خدا ﷺ کی خدمت میں شریک کر لیجئے چنانچہ حضرت علی نے انھیں اجازت دے دی اور یہ آنحضرت کے غسل میں شریک ہوئے اور آپ کی قبر شریف میں بھی اترے اور بعض لوگوںکا بیانہے کہ انصار دروازے پر جمع ہوئے اور کہنیلگے کہ خدا کے لئے ہمیں حضرت کے پاس آنے دو ہم حضرت کے ماموںہیں تو کہا گیا کہ تم اپنے کسی شخص پر اتفاق کر لو (اور اس شخص کو اندر بھیج دو) چنانچہ ان لوگوں نے اوس بن۔۔۔
مزید
ابن خذام یہ ان چھ دمیوں یں سے ہیں جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے پھر انھوںنے (اس کی سزا میں) اپنے آپ کو رسول خدا ﷺ کی مسجد میں ایک ستون سے باندھ دیا پس ان کے اور نیز ان کے اور ساتھیوں کے حق میں یہ آیت نزل ہوئی واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا صالحا و اخر سیئا (٭ترجمہ۔ کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے قصور کا اقرار کر لیا ہے انھوںنے نیک کاموں کے ساتھ برے کام کو مخلوط کر دیا ہے) ان چھ آدمیوں کے نام یہ ہیں اوس بن خزام، ابولبابہ، ثعلبہ بن ودیعہ، کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع، بلال بن امیہ۔ بعض لوگوںکا بیان ہے کہ صرف ابو لبابہ نے اپنے آپ کو بنی قریضہ کی وجہ سے ستون سے باندھا تھا جس کا ذکر ابو لبابہ کے نام اور کنیت میں انشاء للہ کیا جائے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱) ۔۔۔
مزید
ابن خالد بن عبید بن امیہ بن عامر بن خطمہ بن جشم بن مالک بن اوس انصری اوسی۔ یہی ہیں جن کے حق یں حسان بن ثابت نیجنگ یرموک میں کہا تھا۔ اوفیت یوم الروع اوس بن خالد یمج وما کالر عث مختضب النحر (٭ترجمہ۔ میں نے خوف والے دن اوس بن خالد کو دیکھا کہ وہ مرغ کے تاج کے مثل (سرخ) خون تھوک رہے تھے اور تمام سینہ ان کا رنگین تھا) ان کا تذکرہ کلبی نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن حوشب انصاری۔ ہمیں ابو عیسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے مجھے میرے والد نے حمد بن علی بن محمد بن عبداللہ کی کتاب سے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے ابوبکر محمد بن عیسی عطار نے سن۳۴۸ھ میں بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے بو محمد عبدن ابن محمد بن عیسی فقیہ نے بیان کیا وہ ہتے تھے ہمیں احمد خلیل نے خبر دی وہ کہتے تھے میں یزید بن ہارون نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں جریری نے ابو السلیل سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے میں نبی ﷺ کے ہمراہ ایک انصاری کے مکان میں بیٹھا ہوا تھا جن کا نام اوس بن حوشب تھا کہ آپکے پاس ایک ظرف لایا گیا اور آپ کے ہاتھ میں رکھ دیا گیا آپنے فرمایا کیا چیز ہے لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ دودھ اور شہد ہے حضرت نے اس کو اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں ملا کر نہ ہم پیتے ہیں وار نہ ان کو حرام کہتے ہیں جو شخص اللہ کے ل۔۔۔
مزید
ابن حذیفہ بن ربیعہ بن ابی سلمہ بن غیرۃ بن عوف ثقفی یہ اوس ابن ابی اوس کے بیٹیہیں۔ بخاری نے کہا ہے کہ اوس بن حذیفہ بیٹے ہیں ابوعمرو بن عمرو بن وہب بن عامر بن یسار بن مالک بن حطیط بن جشم ثقفی کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان سے ان کے بیٹے نے اور عثمان بن عبداللہ نے اور عبدالملک بن مغیرہ نے روایت کی ہے۔ محمد بن سعد واقدی نے بیان کیا ہے ہ جو صحابہ طائف میں آکے رہے تھے ان میں اوس بن حذیفہ بھی تھے یہ ثقیف کے وفد میں تھے۔ انھوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے یہ تمام بیان ابن مندہ کا ے۔ اور ابو مر نے کہا ہے ہ اوس بن حذیفہ ثقفی ان کو لوگ اوس ابن ابی اوس بھی کہتے ہیں ابو اوس کا نام حذیفہ تھا۔ اور خلیفہ بن خیاط نے کہا ہے کہ ان کا نام اوس بن اوس بھی ہے اور اوس بن ابی اوس بھی ہے ابو اوس کا نام حذیفہ ہے۔ ابو عمر نے لکھا ہے کہ یہ اوس عچمان بن عبداللہ بن اوس کے دادا یں۔ اوس بن حذیفہ کی روایت کی ہوئی۔۔۔
مزید