آپ سیّد عزیزاللہ بن سیّد براہم شاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند حق پسند اورمریدوخلیفہ تھے۔ اورادوظائف آپ نوافل تہجد کے بعد تین ہزاربارکلمہ طیّبہ کاذکرکرتے اوردرود ہزارہ کا وظیفہ بھی رکھتے۔ہروقت ذکروفکر میں مشغول رہتے۔ مفلوج ہونا بوجہ فالج کے آپ کے جسم کا نچلاحِصّہ کمزورتھا۔چل پھرنہیں سکتے تھے۔ اس لیے پالکی میں بیٹھ کر سفرکوجایاکرتے۔ کرامات بیٹاہونے کی دعا منقول ہے کہ راجہ ہیراسنگھ والیِ جمّوں وکشمیرکے ہاں اولاد نرینہ نہیں تھی۔ اُس نےآپ کے آگے التجاکی۔آپ نے دعائے خیرفرمائی۔تواس کو خداتعالےٰ نے لڑکا عطافرمایا۔ راجہ نے سولہ بیگہہ زمین آپ کو نذرانہ میں دی۔ ایک مرید کو مالک بنانا آپ کو مُرید کندانام ساکن بَروٹیاں ریاست جمّوں نے عرض کیا کہ گاؤں کے لوگ مجھے بہت تنگ کرتے ہیں۔کیونکہ میں غیرمالک ہوں۔آپ نے فرمایاجو لوگ تجھے ایذادیتے ہیں۔ان کی زمین تجھ کو مل جاوے گ۔۔۔
مزید
آپ سیدعبدالرسول بن سیّدمحمدسعیددُولاہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے پانچویں بیٹے تھے۔کاغذات مال میں فتح محمد نام ہے۔سیّد فتح محمدبن ضیأاللہ رسول نگری کےمریدوخلیفہ تھے۔ مندرانوالہ میں ورود آپ دورانِ شباب میں ضلع سیالکوٹ میں تشریف لے گئے۔ ۱۳۵۴ھمیں آپ نے مَندرانوالہ متصل ڈسکہ میں سکونت اختیارکی اورمدت العمروہیں رہے۔ گاؤں سےغربی جانب ڈیرہ کیا۔اس سے پہلے وہاں جنوں کامسکن تھا۔آپ نے بزورِ کرامت اُن کو ہمیشہ کے لیے نکال دیا۔مریدوں نے آٹھ گھماؤں زمین نذرانہ میں فی سبیل اللہ دے دی۔جو آج تک آپ کی اولاد کے پاس موجودہے۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ۱۔سیّد بوٹے شاہ رحمتہ اللہ علیہ ۲۔سیّد محمد بکش المعروف محمد شاہ رحمتہ اللہ علیہ مدفن سیّد فتح الدین کی قبرمَندرانوالہ ضلع سیالکوٹ میں گاؤں سے مغربی جانب ہے۔ہرسال ماہ ہاڑ کی پہلی جمعرات کو ختم شریف ہوتاہے۔ وفات &n۔۔۔
مزید
آپ سیّد عبدالرسول بن سیّد محمد سعید دُولارحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت حضرت سیّد فتح محمد بن سیّد ضیأ اللہ برخورداری رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۱؎۔کاغذاتِ مال میں اللہ بخش نام تحریرہے۔ بہادری و شجاعت آپ کو ابتدائے عمرمیں فن سپاہ گری کا شوق تھا۔چنانچہ چوہدری غلام محمد بن پیر محمد چٹھہ رئیس اعظم منچر(ضلع گوجرانوالہ)کی فوج میں بھرتی ہوگئے۔جب اُس کی سکّھوں سے لڑائی ہوئی تو ایک سکھ سردارگھوڑے پر سوار"ست سَری اکال"کے نعرےلگاتامیدان میں آیا۔ چوہدری نے اپنی فوج پر نظرڈالی۔کوئی جوان اُس کے مقابلہ کونہ نکلا۔آخرآپ اُس کےسامنے ہوئے۔آپس میں دوچارجھڑپیں ہوئیں آپ نے نیزہ مارکر اُس کو گھوڑے سے نیچے گرالیااور نعرۂ تکبیرکہہ کراس کا سَر کاٹ لیا۔چوہدری نے آپ کوبہت ساانعام دیا۔ ۱؎مناقباتِ نوشاہیہ ۱۲ سیدشرافت کرامت تاثیرزبان ا۔۔۔
مزید
آپ کا اصلی نام شہامت شاہ المعروف شاموں شاہ تھا۔آپ سیّد عبدالرسول بن سیّد محمد سعیددُولاہاشمیرحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے اورمریدو خلیفہ تھے۔ چک سادہ میں ورود آپ کا فیض بہت تھا۔چک سادہ کے سادات آپ کے معتقدین سے تھے۔ چونکہ وہ حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ ارجمندسیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد سے تھے۔اس لیے وہ آپ کواولادِ نوشہ پیررحمتہ اللہ علیہ ہونے کی حیثیت سےاپنے گاؤں چک سادہ لے گئے۔وہ سب حضرت آپ کا بہت ادب و احترام کرتے ۔یہاں تک کہ جب آپ کا انتقال ہواتو آپ کا مزاراُن سب بزرگانِ سادات کے سرہانے کی طرف بنایاگیا۔تاکہ سب آپ کے قدموں کی طرف رہیں۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد لطف الدین رحمتہ اللہ علیہ ۲۔سیّد سکندر شاہ رحمتہ ۔۔۔
مزید
آپ سیّد علیم اللہ بن سیّد عبدالواسع چک سادہ والہ کے فرزنداکبراورمریدوخلیفہ اور سجادہ نشین تھے۔ اخلاق زہدوتقوےٰ میں آپ کا درجہ کمال تھا۔بزرگوں کے معتقد۔مسافروں ۔ مسکینوں کے ہمدردا ور خدمتگارتھے۔صحبتِ اغنیأ سے نفرت رکھتے۔درویشی کے اوصاف سے موصوف تھے۔تمام عمر یادِ خدامیں گذاری۔ مخلوقِ خداپر رِحم منقول ہے کہ چک سادہ میں گاؤں سے دوسری جانب کسی کُتیانے بچے دیئے۔ آپ نے گھرمیں آکر اہل خانہ کو فرمایا۔کہ ہمارے ہاں کچھ نئے مہمان آئے ہیں حلوابناؤ۔انہوں نے بڑاعمدہ حلوہ تیارکیا۔آپ برتن میں ڈال کرلے گئےاوراُس کتیاکے آگے رکھ دیا۔لوگوں نے کہاشاہ صاحب آپ نے یہ کیاکیا۔فرمایاجب عورتوں کو بچّہ پیداہوتاہے۔تووہ بھی کچھ حلواوغیرہ بناکر کھاتی ہیں۔اس نے بھی بچّے جَنے ہیں ۔اس کو بھی ضرور ت تھی۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ۱۔سیّد کرم شاہ۔ ۲۔سیّد حیدرشاہ۔ ؎ ۔۔۔
مزید
اگرچہ بوجہ ترتیب خلافتِ ظاہری اِن کا شمار چوتھے درجہ پر ہوتا ہے، لیکن علومِ باطنی اور فیوض روحانی کے حقیقی وارثِ نبوی یہی تھے، مقامِ ولایت کے امیر اور سرچشمہ علوم صاحبِ خلافت کبرٰے تھے، اِن کا ذکر خیر آگے فصلِ دوم (۲) میں بتفصیل آئے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اصحابِ سبعہ کتاب آئینہ تصوّف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سات (۷) صاحبوں کو خلافتِ باطنی پہنچی، از انجملہ خلفائے اربعہ جن کا ذکر گذر چکا، اور باقی تین (۳) حضرات یہ ہیں۔ (شریف التواریخ)۔۔۔
مزید
آپ خازن گنجینہ وحدت،مخزنِ رموزِ معرفت صاحب علم و اتقاتھے۔آپ سیّد عبدالواسع بن سیّد فیض اللہ کے فرزند اورمرید و خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ انکسار آپ کی طبیعت میں تواضع اور انکسار ازحد تھا۔جب اپنانام لکھتے توبجائے سیّد علیم اللہ کےاپنے آپ کو فقیر علیم اللہ لکھاکرتے۔ ہجوم خلائق آپ عالمِ باعمل اور فقیراکمل تھے۔عبادت و ریاضت وسخاوت میں شہرۂ آفاق تھے۔والد ماجد کی طرح لنگر جاری تھا۔ہروقت آپ کے درِ دولت پر حاجتمندوں کاہجوم رہتا۔ کتب خوانی آپ کے صاحبِ علم لوگوں سے محبّت تھی۔عالم لوگ ہی زیادہ ترآپ کے حلقہ ارادت میں داخل تھے۔مسائل فقہ کی کتابیں تحریرکراتےاورمطالعہ کرتے۔ان میں سے اکثر آپ کی اولاد کے پاس محفوظ ہیں۔سب کے خاتمہ پر آپ کی مُہر لگی ہوئی ہے۔جس پر یہ الفاظ کندہ ہیں۔ "فقیرعلیم اللہ بن سیّد عبدالواسع" ایک کتاب سے دستخط نقل کیاجاتےہے۔جوآپ کے لیے لکھی گئی تھی۔ "تمام شدکتاب معرفتہ۔۔۔
مزید
آپ سیّد عبدالقادر بن سیّد فیض اللہ کے فرزند اورمُریدوخلیفہ تھے۔علم ظاہری وباطنی میں مقتدائے خلائق تھے۔فن کتابت بھی سیکھاتھا۔کئی تحریرات آپ کے خاندان سادات میں موجود ہیں۔عملیات کے بھی شائق تھے۔آپ کئی تعویذات بھی بیاضوں میں موجود ہیں۔ تحریرکتب آپ کے ہاتھ کالکھاہواایک فالنامہ پیغمبراں موجود ہے۔شنگرف موجود نہ ہونے کےباعث پیغمبروں کے نام سبز رنگ سے لکھے ہیں اور جس دوست کے واسطے لکھاہے۔اس کے آگے ان الفاظ میں عذرخواہی کرتے ہیں۔ "عرضداشت۔بندۂ کمترین بندگان وکہترین غلاماں فقیرالحقیر محمد ماہ بعداز کورنشات سجدات عبودیت بجاآوردہ معروض میدارد کہ رنگ شنگرف موجود نبودولیکن نامہائے پیغمبراں نوشتہ ارسال داشتہ است کہ خود قلمی نماینددرفہمیدگی خواہند آمد۔" واقعہ وفات منقول ہے کہ آپ قندھار میں مرید و ں پر گئے ہوئےتھے۔وہاں آپ کا انتقال ہوگیا۔وہیں دفن کئے گئے۔بعد میں آپ کے چچا سید احمد اور سید۔۔۔
مزید
آپ کا نام عبدالواسع۔مشہور سیَدواسا۔آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد قادری نوشاہی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ بیعت طریقت آپ کی بیعتِ طریقت حضرت سیّد محمد سعیددُولا بن سیّد محمد ہاشم دریادل بن حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن ذکر تیسرے طبقہ کےتیسرے باب میں گذرچکا ہے۔ لیکن آپ کی اولاد کادعوےٰ ہے کہ آپ اپنے بڑے بھائی سیّد محمد ظریف بن سیّد فیض اللہ کے مرید تھے۔مگرآپ کے سلسلہ کے کلّو شاہی درویش آج تک وہی شجرہ سیّد محمد سعید والاپڑھتے ہیں۔ سجادگی آپ اپنے سب بڑے بھائیوں سے زیادہ پرہیزگاراور متقی تھے۔ابھی چھوٹے ہی تھےکہ والد صاحب کاانتقال ہوگیا۔آپ اپنے بھائی کلان کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔بلکہ آپ نے یہاں تک شہرت حاصل کی کہ اپنے جد بزرگوار سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ سے بھی زیادہ ناموری پائی۔ اخلاق وعادات آپ عبادت وریاضت میں ہر وقت سرگرم رہتے۔تمام برادران ہمج۔۔۔
مزید
آپ کا نام عبدالواسع۔مشہور سیَدواسا۔آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد قادری نوشاہی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ بیعت طریقت آپ کی بیعتِ طریقت حضرت سیّد محمد سعیددُولا بن سیّد محمد ہاشم دریادل بن حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن ذکر تیسرے طبقہ کےتیسرے باب میں گذرچکا ہے۔ لیکن آپ کی اولاد کادعوےٰ ہے کہ آپ اپنے بڑے بھائی سیّد محمد ظریف بن سیّد فیض اللہ کے مرید تھے۔مگرآپ کے سلسلہ کے کلّو شاہی درویش آج تک وہی شجرہ سیّد محمد سعید والاپڑھتے ہیں۔ سجادگی آپ اپنے سب بڑے بھائیوں سے زیادہ پرہیزگاراور متقی تھے۔ابھی چھوٹے ہی تھےکہ والد صاحب کاانتقال ہوگیا۔آپ اپنے بھائی کلان کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔بلکہ آپ نے یہاں تک شہرت حاصل کی کہ اپنے جد بزرگوار سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ سے بھی زیادہ ناموری پائی۔ اخلاق وعادات آپ عبادت وریاضت میں ہر وقت سرگرم رہتے۔تمام برادران ہمج۔۔۔
مزید