پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

شیخ کبیر الدین رحمۃ اللہ علیہ

  دوسرے شیخ زادے یعنی شیخ کبیر الملۃ والدین کے فضائل خاص میں جو محبت و وفا کے آئینےاور خلفاء  و دلا کے پورے فوٹو تھے یہ بزرگ زادہ شیخ عزیز الدین کے چھوٹے بھائی اور شیخ شیوخ العالم کے نواسے ہیں جنہیں نے ابتدائے جوانی سے دم وفات تک حضرت سلطان المشائخ کے سایۂ عاطفت اور نظر مبارک میں پرورش  پائی اور کبھی آپ کی صحبت سے جدا نہیں ہوئے آپ خانقاہ کی دیوار کے تلے مقام سکونت رکھتے تھے اور ہمیشہ سلطان المشائخ کے ساتھ دستر  خوان پر کھانا کھاتے تھے۔ اگر اتفاقاً آپ دستر خوان بچھتے وقت تشریف نہ رکھتے تو سلطان المشائخ کے حکم سے عبد الرحیم ان بزر گوار کا حصہ ان کے مکان پر پہنچا دیتے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ یہ بزرگوار سلطان المشائخ کی خدمت  میں حاضر تھے اور ایک شخص چند کاک آپ کے سامنے لایا۔ سلطان المشائخ نے اقبال خادم کو بلا کر فرمایا۔ کہ انہیں تقسیم کردو۔ اقبال نے تمام حاضرین جلسہ کو و۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ زادہ دلکشا والی ولایت والا خواجہ عزیز الملۃ والدین صوفی ہیں۔ ان بزرگوار کی والدہ محترمہ بی بی مستورہ شیخ شیوخ  العالم فرید الحق والدین قدس سرہ العزیز کی صاحبزادی ہیں۔ یہ شیخ زادے بے شمار فضائل اور انگنت معانی و لطائف رکھتے تھے اور حضرت سلطان المشائخ کے روح افزا ملفوظات سے ایک کتاب مرتب کی تھی جسے تحفۃ الابرار فی کرامت الاخیار کے نام سے آج تک شہرت حاصل ہے اور جو سلطان المشائخ کی نظر مبارک سے اکثر اوقات گزری ہے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سلطان المشائخ کے حضور میں دستر خوان بچھایا گیا تھا اور تمام حاضرین کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے۔ مولانا وجیہہ الدین پائلی ان شیخ زادے سے اونچی جگہ بیٹھ گیا۔ سلطان المشائخ نے دیکھا تو فرمایا۔ مولانا! جس طرح میں اس بات کو دوست نہیں رکھتا کہ کوئی مجعد متعمم سے بلند جگہ بیٹھے اسی طرح میں اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی متعمم میرے مخدوم زادوں سے اونچے م۔۔۔

مزید

خواجہ موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ

  علم میں مشہور حلم میں مذکور زہد و تقوی کے ساتھ موصوف خواجہ موسیٰ ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جو خواجہ محمد امام کے برادر حقیقی تھے۔ ان بزرگوار نے بھی جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور تمام علوم میں کمال حاصل کیا تھا اپنے زمانہ کے ذو فنون اور فرزانہ عصر تھے آپ نے اصول فقہ میں بزودی مولانا وجیہہ الدین پائلی سے پڑھی تھی اور کلام ربانی کے حافظ تھے تحقیق سخن میں کوشش کرتے اور طبع فیاض اور  لطافت بہت کچھ رکھتے تھے عربی و فارسی اشعار  و نظم میں پورا حصہ حاصل تھا اور اکثر اوقات پر سوز غزل کہتے تھے جو لوگ علم موسیقی میں مہارت نامہ اور ورک کامل رکھتے تھے خاص کر علم حکمت میں وہ کمال پایا تھا جس کی نظیر اس زمانہ میں باوجود تلاش کے بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی او رساتھ ہی تجربات حکمت میں بھی پرلے درجہ کا کمال حاصل تھا اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد  امام کی غیبت میں۔۔۔

مزید

خواجہ محمد رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ شیوخ العالم کے عام نواسوں کے سر دفتر شیخ زادہ معظم و مکرم خواجہ محمد ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جن کی والدۂ محترمہ شیخ شیوخ العالم کی صاحبزادی تھیں۔ یہ شیخ زادے تمام اوصاف حمیدہ کے ساتھ موصوف اور علوم دینی اور تقویٰ و طہارت موزونی طبع ذوق سماع  جگر سوز گریہ اور فیاضی طبع سخاوت  شجاعت  میں مشہور  و مذکور تھے۔ بچپنے کے زمانے سےلے کر بڑھاپے تک حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی۔ کلام ربانی کے حافظ ہوئے اور علوم و افر عشق کامل حاصل کیا حتی کہ سلطان المشائخ کی حالت زندگی ہی میں آپ کی خلافت  کے معزز و ممتاز  مرتبے کو پہنچ گئے۔ اور سلطان المشائخ کی حیات  میں خلق خدا سے بیعت لینے لگے۔ خواجہ محمد سلطان المشائخ کی امامت کے ساتھ مخصوص تھے۔ چنانچہ آج کے دن تک لوگ آپ کو خواجہ محمد امام کہہ کر پکارتے ہیں۔ سلطان المشائخ کو آپ کی امامت میں رقت ۔۔۔

مزید

خواجہ عزیز الدین رحمۃ اللہ علیہ

  صورت و سیرت میں سلف کے آئینہ خلف کے فخر خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ ابراہیم ابن خواجہ نظام الدین ہیں۔ آپ کی والدہ محترمہ سیدہ تھیں اور رشتہ میں کاتب حروف کی پھوپھی لگتی تھیں۔ کاتب حروف اور اکثر ان اہل ارادت کا گمان ہے جو ان بزرگوار شیخ زادہ سے ملے ہیں کہ آپ سے کوئی صغیرہ و جود پزیر نہیں ہوئی۔ شیخ عزیز الدین کا باطن خدا تعالیٰ کی یاد سے معمور تھا اور ظاہر تبسم اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ رکھتے تھے۔ آپ کا دلِ مبارک مراقبہ اور ذکر خفی سے منور اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع تھا اور یہ سب باتیں اس برکت سے حاصل ہوئی تھیں کہ آپ نے حضرت سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور دستر خوان بچھنے کے وقت ہمیشہ حاضر رہتے تھے اگر کسی وقت خواجہ محمد اور خواجہ موسی جنہیں سلطان  المشائخ سے دستر خوان کی دعا پڑھنے کا عہدہ ملا تھا حاضر نہ ہوتے تو یہ بزر گزادے دستر خوان کی دعا پڑھتے اور جب۔۔۔

مزید

شیخ کمال الدین رحمۃ اللہ علیہ

    کمال طریقت جمال حقیقت شیخ زادہ کمال الحق والدین ابن شیخ زادہ بایزید ابن شیخ زادہ نصر اللہ ہیں جن کا لباس تکلف و بناوٹ سے ہمیشہ خالی ہوتا تھا اور جو فیاضی  سخاوت میں عدیم المثال اور بے نظیر تھے۔ آپ بہت سی روٹیاں پکواتے اور محتاج و مساکین کو تقسیم کرتے اور لذیذ و مزیدار کھانوں سے ہمیشہ احتراز کرتے اگر آپ سفر کا قصد کرتے تو رویٹوں کے بہت سے بھرے ہوئے تھیلے آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے جس زمانہ میں یہ بزرگوار سلطان محمد تغلق کے عہد حکومت میں دہارے جو آپ کی سکونت کا مقام تھا دہلی میں تشریف لائے تو کاتب حروف اس خاندان معظم کے ان حقوق کی رعایت کی وجہ سے جو اس کے آباؤ اجداد رکھتے تھے ان بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت شیخ حجرہ کے اندر چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی کاتب حروف کو دیکھا حجرہ کے اندر سے ایک دیگچی ہاتھ مبارک میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور ایک مٹی کا بڑا  سا۔۔۔

مزید

شیخ عزیز الدین رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ زادہ عالم خواجہ عزیز الملۃ والدین  ابن خواجہ یعقوب رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو فیاضی و سخاوت و مروت و مردمی میں بے مثل تھے آپ مستجاب الدعوات اور صاحب فتوح تھے۔ دیوگیر اور تلنگ کے اطراف کے تمام باشندے آپ کے معتقد اور غلام تھے۔ کاتب حروف نے ان بزرگ زادہ سے دیوگیر میں ملاقات کی ہے۔ حقیقت میں آپ زیباہئیت اور شوکت و دبدبہ بہت کچھ رکھتے تھے۔ آپ کے برادر حقیقی خواجہ قاضی سادہ باطن تھے اور عام اخلاق رکھتے تھے۔ یہ دونوں بھائی جو عالم کے شیخ زادے تھے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں بہت مدت تک رہے ہیں۔ اور آپ سے ایک زمانہ دراز تک پرورش پائی۔ شیخ عزیز الدین  نے دیوگیر ہی میں شہادت پائی اور وہیں دفن ہوئے اور خواجہ قاضی سلطان المشائخ کے خطیرہ میں یاروں کے چوترے کے سرے پر مدفون ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہما۔ (سِیَرالاولیاء)۔۔۔

مزید

شیخ علاؤ الدین رحمۃ اللہ علیہ

  مشائخ طریقت کے افضل اولیائے حقیقت میں اکرم شیخ علاؤ الملۃ والدین ابن شیخ بدر الدین سلیمان ہیں جو علو درجات اور رفعت مقامات اور شدت مجاہدات اور ذوق مشاہدات میں اپنے زمانہ میں نظیر نہیں رکھتے تھے اور بذل و ایثار میں بے مثل تھے۔ ظاہر و باطن کی طہارت کے مبالغہ میں مشائخ وقت میں کوئی آپ کا دعویدار نہیں تھا۔ یہ بزرگوار سولہ سال کے تھے کہ شیخ شیوخ العالم کے سجادے پر اپنے والد بزرگوار شیخ بدر الدین سلیمان کی جگہ بیٹھے اور کامل چون سال تک اس سجادہ کا حق کماینبغی ادا کیا یہاں تک کہ آپ کی عظمت و کرامت کا شہرہ آپ کی عزیز و قیمتی زندگی ہی میں تمام عالم میں مشہور ہوگیا تھا اور آپ کا اسم مبارک اولیاء اللہ کے ناموں کی فہرست میں مذکور و معروف ہوگیا تھا چنانچہ آپ کے انتقال کے بعد دیار اجودھن اور دیپالپور اور جھالی میں جو کشمیری کی سمت میں واقع ہیں ان شہروں کے باشندوں نے غایت محبت اور اعتقاد کی وجہ سے۔۔۔

مزید

خواجہ یعقوب رحمۃ اللہ علیہ

  سیرتِ خوب، اہل دلوں کے نزدیک محبوب، خواجہ یعقوب ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے سب فرزندوں میں چھوٹے اور فیاضی و سخاوت میں مشہور تھے آپ کی کرامتیں آشکار تھیں اور  دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ آپ اہل ملامت کی راہ چلتے اور اس  کے مخالف خلق پر ظاہر کرتے مشغول بحق رہتے۔ طبع فیاض اور لطافت تام رکھتے تھے۔ کاتبِ حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد کرمانی سے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں اکثر اوقات سفر و حضر میں شیخ زادہ عالم صاحبزادہ داریں خواجہ یعقوب کا مصاحب رہتا تھا بہت کم ایسے موقع پیش آئے ہوں گے جن میں کسی ضرورت خاص کی وجہ سے آپ کے ہمراہ نہ رہا ہوں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر  ہے کہ خطہ  اودھ میں آپ کے ساتھ گیا۔ جب اودھ میں پہنچے تو ایک سرا میں اترے۔ شیخ زادے مجھے سرا میں چھوڑ کر شہر کی سیر و  تماشے کے لیے باہر تشریف لے گئے ایک پہر رات گزر چکی تھی لیکن آپ سرا میں تشریف نہیں لائے اور ک۔۔۔

مزید

شیخ بدر الدین سلیمان رحمۃ اللہ علیہ

  شیخ المشائخ طریقت آفتابِ عالم حقیقت  شیخ بدر الملۃ  والدین سلیمان ہیں جو علم تقوی کے ساتھ مشہور اور  مشائخ کبار کے اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ شیخ شیوخ العالم  کے انتقال کے بعد جناب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین اپنے والد کے سجادہ  پر باتفاق راے تمام بھائیوں اور  ان اہل  ارادت  کے جو وہاں حاضر و موجود بیٹھے تھے اور اس  مقام کو نور  حضور حضور سے منور  و روشن کیا۔ کیونکہ آپ ہی الولد سر لابیہ کے پور سے فوٹو تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد مبارک کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ شیخ بدر الدین سلیمان محلوق نہ تھے بلکہ سر پر مانگ رکھتے تھے جیسا کہ مشائخ چشت قدس اللہ سرہم العزیز کا طریقہ ہے کیونکہ آپ خلفائے چشت سے بیعت  رکھتے اور دست خلافت  حاصل کیے ہوئے تھے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب لوگوں نے خواجہ قطب الدین چ۔۔۔

مزید