علی بن محمد بن حسین بن عبد الکریم موسیٰ بزدوی: ۴۰۰ھ ہجری میں پیدا ہوئے،فروع واصول میں اپنے زمانہ کے امام ائمہ شیخ حنفیہ مرجع انام جامع علوم مختلفہ فقیہ کامل محدث جید حفظ مذہب میں جرب المثل تھے۔آپ نے تصنیفات مقبرہ سے زمانہ کو پر کیا چنانچہ کتاب مبسوط گیارہ جلدوں میں تصنیف کی اور جامع کبیر وجامع صغیر کی شرحیں لکھیں اور ایک بڑی کتاب نہایت معتبر و معتمد اصول فقہ میں اصول بزدوی کے نام سے تصنیف کی اور ایک تفسیر قرآن شریف کی ایک سو بیس جزء میں،جو ہر ایک جزء قرآن شریف کے حجم کے برابر ہے،تصنیف کی۔غناء الفقہاء فقہ میں اور کتاب املی حدیث میں جمع کی۔فخر الاسلام لقب اور ابو الحسن وابو العسر کنیت تھی۔سمر قند کی تدریس و قضا آپ کے سپرد کی گی۔۵تاریخ ماہ رجب ۴۸۲ھ کو مقام کش میں فوت ہوئے اور جنازہ آپ کا سمر قند میں لیجا کر دفن کیا گیا۔بزدوی قلعہ بزدہ کی برف منسوب ہے۔۔۔
مزید
احمد بن اسحٰق بن ابراہیم بن مخلدین جعفر بن مخلد با قرحی: ماہ شعبان ۳۹۷ھ کو شہر با قرح میں جو بغداد کے علاقہ میں واقع ہے،پیدا ہوئے،ابو الحسن کنیت تھی اور بیت علم وقضا و حدیث و عدالت سے تھے،حدیث کو ابا الحسین احمد بن محمد واعظ اور ابا الحسن محمد اور ابا علی حسن بن احمد بن شاذان وغیرہم سے سنا اور ماہ رمضان ۴۸۱ھ میں وفات پائی۔آپ کے والد ماجد اسحٰق بن ابراہیم متوفی ۴۲۹ھ بھی بڑے عالم فاضل محدث صدوق تھے جن سے خطیب بغدادی نے کچھ احادیث لکھی ہیں۔ (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔
مزید
احمد بن منصور اسبیجابی: شہر اسبیجاب میں جو سر حدات ترک سے ہے، رہا کرتے تھے،ابو نصرکنیت تھی،اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ متجر تھے،فقہ اپنے ملک کے علماء سے پڑھی،پھر سمر قند کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں کے ائمہ سے خوب مناظرے کیے اور فقہاء و طلباء کو درس دیا یہاں تک کہ بعد وفات سیدابی شجاع کے آپ ہی کی طرف لوگوں نے امور دینیہ میں رجوع کیا اور آپ سے آثار جمیلہ ظہور میں آئے،مختصر طحطاوی کی شرح نہایت عمدہ لکھی اور ۴۸۰ھ میں اس دارفانی سے رحلت کی۔’’گرامئی دہر‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
اسمٰعیل بن محمد بن احمد بن الطیب بن جعفر الفقیہ الحجاجی الکماری: بقول ابو الفضل مقدسی کے آپ کے زمانہ میں آپ سے بڑھ کر حنفیوں میں کوئی احسن طریقہ نہ تھا جو امام اعظم کے م؎زہب پر ثہق و فقیہ ہوا،ابو سعد کنیت تھی،حجاجی آپ کو اس لیے کہتے تھے کہ آپ شہر بہیق کے،جس کو لوگ حجاج بولتے ہیں،رہنے والے تھےاور کمار آپ کے اجداد میں سے کسی شخص کا نام تھا۔وفات آپ کی ۴۷۹ھ میں ہوئی [1] 1۔ ولادت ۳۹۷ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن علی بن محمد بن حسین بن عبد الملک بن عبد الوہاب بن حسویہ الدامعانی: دمغانی میں ۳۹۸ھ میں پیدا ہوئے۔کنیت ابو عبد اللہ تھی،اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ کامل محدث جید وافرالفضل سدیدالراے اور قاضی القضاۃ کے خطاب سے مشہور تھے۔عقیلی نے کہا ہے کہ مشائخین میں آپ کوہ بلند اور جبل محکم تھے۔آپ کے وقت میں امام ابو حنیفہ کے مذہب کی ریاست آپ پر منتہی ہوئی،فقہ آپ نے حسن بن علی صمیری شاگرد ابی بکر محمد خوارزمی تلمیذابی بکر احمد جصاص سے حاصل کی اور حدیث کو صمیری اور ابی عبداللہ محمد بن علی صوری وغیرہ سے سُنا اور روایت کیا اور آپ کے سمعانی کے مشائخ عبد الوہاب بن مبارک انماطی اور حسین بن حسن مقدس وغیرہ نے حدیث کو سُنا اور روایت کیا۔آپ کا قول ہے کہ میں نے دامغان میں ابی صالح فقیہ سے فقہ پڑھی،پھر نیشا پور میں آیا اور چودہ مہینے وہاں رہ کر قاضی۔۔۔
مزید
عبد العزیز بن عبد الرزاق مرغینانی: جامع فروع و اصول تھے،خدا کے فضل سے آپ کے چھ بیٹے تھے جو سب کے سب تدریس و افتاء کی لیاقت رکھتے تھے جب آپ اپنے بیٹوں کے ہمراہ گھر سے نکلتے تھے تو لوگ کہتے تھے کہ سات مفتی ایک گھر سے نکلے ہیں م گر آپ کے بیٹوں میں سے ابو الحسن ظہیر الدین علی بن عبدالعزیز و شمس الائمہ محمود اور جندی اشہر ہیں،وفات آپ کی [1] ۴۷۷ھ میں ہوئی۔ 1۔ بعمر ۶۸ سال ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن محمد بن [1]محمد بن نصر الفقیہ المعروف بالا قطع: فقیہ کامل جامع علوم و فنون اور بڑے حساب داں تھے،فقہ آپ نے ابی الحسین قدوری سے پڑھی، سکونت آپ کی بغداد کے محلہ درب ابی یزید میں تھی لیکن ۴۳۰ھ میں ہواز کی طرف تشریف لیجا کر مقام رامہرز میں مقیم ہوئے۔اقطع آپ کو اس لیے کہا کرتے تھے کہ لڑائی تتار میں جو اہل اسلام سے ہوئی تھی۔ایک ہاتھ آپ کا کٹ گیا تھا۔ آپ نے مختصر قدوری کی شرح تصنیف کی اور ۴۷۴ھ میں وفات پائی۔ 1۔ابو نصر کنیت تھی (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
اسعد بن محمد بن حسین[1] کرالبیس نیشا پوری: ابو المظفر کنیت اور جمال الاسلام لقب تھا۔عالم فاضل فقیہ ادیب حسن الطریقہ تھے۔فروع واصول میں آپ کو معرفت تامہ اور مہارت کاملہ حاصل تھی۔فقہ آپ نے علاء الدین اسمندی تلمیذ سید الاشرف سے حاصل کی اور علم ادب ابی منصور موہوب بن احمد جوالیقی سے پڑھا۔ایک کتاب موجز نام فقہ دفروق میں تصنیف [2] فرمائی اور ۴۷۰ھ میں فوت ہوئے۔کرابلیس جمع کر باس کی ہے اورکرباس کپڑے کو کہتے ہیں پس آپ کرباس کی طرف منسوب ہونا یا تو اس کی خرید و فروخت یا اس کے عمل کی جہت سے ہے۔ 1۔ کرالبیسی 1۔الفروق فی مسائل الفرقیۃ بھی آپ کی تصنیف ہے ۵۷۰ ھ میں وفات پائی ’’جواہر المضیۃ‘‘ کشف الظنون (مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
اسمٰعیل بن محمد بن احمد بن طیب بن جعفر واسطی کماری: عید الفطر کے روز ۳۸۳ھ میں پیدا ہوئے،کنیت ابو علی تھی،فاضل دہر فقیہ متجر تھے۔فقہ اپنے باپ محمد بن احمد سے پڑھی اور حدیث کو عبید اللہ بن اسد اور ابا بکر احمد بن عبید اللہ اور ابا عبد اللہ بن مہدی سے سنا اور شہر واسط کے قاضی مقرر ہوئے۔وفات آپ کی ماہ جمادی الاولیٰ ۴۶۸ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
علی بن عبد اللہ خطیبی: بڑےعالم فاضل زاہد اور اختلاط سلاطین سے متنفر تھے اور اپنے آپ کو تدریس و تعلیم پر مجبور کر رکھا تھا۔جب کوئی قرآن شریف پڑھتا تو آپ کے انسو ٹپک آتے،کنیت ابو الحسن تھی۔فقہ آپنے شمس الائمہ عبد العزیز حلوائی اور ابی محمد عبد اللہ ناصحی سے پڑھی اور نو جوانی میں حج کیا۔جب اصفہان میں آئے تو وہاں کی قضا آپکو دی گئی۔کہتے ہیں کہ آپ سترہ برس تک قائم اللیل رہے اور اس عرصہ تک آپ نے رات کو اپنی کروٹ زمین پر نہ رکھی۔نقل ہے کہ ۴۶۶ھ میں آپ اصفہان میں ایک دن صبح کی نماز پڑھ کر بیٹھے تھے کہ ایک نیک بخت عورت نے آپ کے پاس آکر بیان کیا کہ میں سحر کے وقت سوئی،ہوئی تھی اور بحالث خواب یہ گمان کرتی تھی کہ گویا میں مدینہ منورہ کی مسجد میں ہوں کہ ایک شخص نے اگر بانگ نماز دے کر تکبیر کہی اور لوگ صفیں باندھ کر اس کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور۔۔۔
مزید