محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عمر بلخی ہندوانی بلخ میں اپنے زمانہ کےشیخ جلیل القدر،امام کبیر،فقیہ بے نظیر محدث عدیم التمثیل صاحب ذکار وزہد ورع اور موضح مشکلات و معضلات تھے،ابو جعفر کنیت تھی اور بہ سبب کثرت فقاہت کے ابو حنیفہ صغیر کے لقب سے ملقب تھے،فقہ آپ نے ابی بکر عمش شاگرد ابی بکر اسکاف تلمیذ محمد بن سلمہ صاحب ابی سلیمان سے حاصل کی اور نیز علی بن احمد فارسی تلمیذ امام نصیر بن یحییٰ سے اخذ کیا اور آپ سے نصربن محمدابواللیث فقیہ اور جماعت کثیرہ نے تفقہ کیا۔مدت تک بلخ دماوراء النہر میں تحدیث کرتے اور بڑے بڑے مشکل مسائل کے فتوےٰ دیتے رہے۔آپ کا قاعدہ تھا کہ جب فجر کی نماز پڑھتے تو پہلے گھر میں داخل ہوتے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے جاتے۔جب آپ کی والدہ ماجدہ نے وفات پائی تب آپ نے گھر میں جانا چھوڑدیا،۔۔۔
مزید
محمد بن ابراہیم الضریر المیدانی: اپنے وقت کے شیخ کبیر اور عارف مذہب ابو بکر محمد بن احمد عیاضی کے ہمعصروں میں سے تھے،آپ کے زمانہ میں آپ کے مثل اور کوئی کم پایا جاتا تھا۔وفات آپ کی ۳۲۶ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن احمد بن عباس [1] حسین عیاضی: سمر قند جلیل القدر اپنے شہر کے رؤسائے عطیم الشان میں سے تھے،باوجود حافظ علوم دینیہ اور عارف فنون مذہبیہ ہونے کے علوم حساب وزیچ و عمل اشدکال اقلیدس کے استاد زمانہ تھے۔کنیت ابو بکر تھی۔فقہ آپ نے ابی احمد محمد بن فقیہ اور ابو سلمہ اور صاحب کتاب جمل اصول الدین سے پڑھی اور آپ سےایک جم غفیر نے اخذ کیا۔صمیری کہتے ہیں کہ اسمٰعیل زاہد نے مجھ سے کہا کہ میں نے ایک دن ابا بکر محمد بن فضل کو دیکھا کہ وہ ایک جزو مشکلات کتب کا آپ کے پاس لایا اور آپ نے ایک گھڑی میں اس کو لکھ لیا۔اس پر میں نےکہا کہ فضل خدا کی طرف سے ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ آپ جیسا روئے زمین پر اور کوئی شخص نہ ہوگا۔ ایک دفعہ آپ کو عضد الدولہ نے ایک گردہ فقہاء کے ساتھ سفیر بنا کر بخارا ک۔۔۔
مزید
محمد بن احمد بن عباس [1] حسین عیاضی: سمر قند جلیل القدر اپنے شہر کے رؤسائے عطیم الشان میں سے تھے،باوجود حافظ علوم دینیہ اور عارف فنون مذہبیہ ہونے کے علوم حساب وزیچ و عمل اشدکال اقلیدس کے استاد زمانہ تھے۔کنیت ابو بکر تھی۔فقہ آپ نے ابی احمد محمد بن فقیہ اور ابو سلمہ اور صاحب کتاب جمل اصول الدین سے پڑھی اور آپ سےایک جم غفیر نے اخذ کیا۔صمیری کہتے ہیں کہ اسمٰعیل زاہد نے مجھ سے کہا کہ میں نے ایک دن ابا بکر محمد بن فضل کو دیکھا کہ وہ ایک جزو مشکلات کتب کا آپ کے پاس لایا اور آپ نے ایک گھڑی میں اس کو لکھ لیا۔اس پر میں نےکہا کہ فضل خدا کی طرف سے ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ آپ جیسا روئے زمین پر اور کوئی شخص نہ ہوگا۔ ایک دفعہ آپ کو عضد الدولہ نے ایک گردہ فقہاء کے ساتھ سفیر بنا کر بخارا ک۔۔۔
مزید
محمد بن سہل المعروف بہ تاجر: اپنے زمانہ کے امام کبیر فقیہ بے نظیر تھے، کنیت ابو عبد اللہ تھی۔مدت تک ابی العباس احمد بن ہارون فقیہ حنفی حاکم مزنی متوفی ۳۴۹ھ کی مجالس میں بیٹھے اور ان سے استفادہ کرتے رہے۔وفات آپ کی ۳۶۰ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن محمد بن عبد اللہ نیشاپوری المعروف بہ قاضی الحرمین: اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ کامل متفق علیہ شیخ حنفیہ تھے۔کنیت ابو الحسن تھی،علوم قاضی ابی طاہر محمد دباس شاگردابی خازم تلمیذ عیسٰی بن ابان اور نیز امام کرخی سے حاصل رہے اور اس عرصہ میں آپ نے موصل ورملہ اور حرمین کی قضا کی اور صرف حرمین میں تقریباً دس برس تک ٹھہرے رہے پھر نیشاپور میں آئے اور ۳۵۱ھ میں وفات پائی۔ علی قاری نے طبقات حنفیہ میں لکھا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ میں ایک دن علی بن عیسٰی وزیر کی مجلس مناظرہ میں گیا،اتنے میں اک ترکی عورت فریاد کرتی ہوئی آئی۔وزیر نے اس کو کہا کہ کل کو آنا کیونکہ آج مناظرہ کا دن ہے،اس پر وہ چلی گئی اور فقہاء حنفی وشافعی آنے شروع ہوئے جب سب آچکے تو وزیر نے کہا کہ آج ہم مسئلہ توریث ذوی ال۔۔۔
مزید
احمد بن محمد بن عبد اللہ نیشاپوری المعروف بہ قاضی الحرمین: اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ کامل متفق علیہ شیخ حنفیہ تھے۔کنیت ابو الحسن تھی،علوم قاضی ابی طاہر محمد دباس شاگردابی خازم تلمیذ عیسٰی بن ابان اور نیز امام کرخی سے حاصل رہے اور اس عرصہ میں آپ نے موصل ورملہ اور حرمین کی قضا کی اور صرف حرمین میں تقریباً دس برس تک ٹھہرے رہے پھر نیشاپور میں آئے اور ۳۵۱ھ میں وفات پائی۔ علی قاری نے طبقات حنفیہ میں لکھا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ میں ایک دن علی بن عیسٰی وزیر کی مجلس مناظرہ میں گیا،اتنے میں اک ترکی عورت فریاد کرتی ہوئی آئی۔وزیر نے اس کو کہا کہ کل کو آنا کیونکہ آج مناظرہ کا دن ہے،اس پر وہ چلی گئی اور فقہاء حنفی وشافعی آنے شروع ہوئے جب سب آچکے تو وزیر نے کہا کہ آج ہم مسئلہ توریث ذوی ال۔۔۔
مزید
علی بن ابو جعفر طحطاوی: بڑے فقیہ محدث ،عالم فاضل،جامع فروع واصول اور امام طحطاوی کے خلف ارشد تھے،کنیت ابو الحسن تھی،بڑے بڑے محدثین مثل عبد الرحمٰن احمد بن شعیب نسائی وغیرہ سے حدیث کو سماعت کیا اور روایت کی اور ماہ ربیع الاول ۳۵۱ھ میں وفات پائی۔’’سالار جہاں‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
ابراہیم بن حسین [1] عزری: ابو اسحٰق کنیت تھی۔فقیہ فاضل محدث ثقہ تھے،ابا سعید عبد الرحمٰن بن حسن وغیرہ محدثین سے حدیث کو سماعت کیا اور آپ سے ابو عبد اللہ حاکم صاحب مستدرک نے روایت کی اور ۳۴۷ھ میں وفات پائی، عزری عزرہ کی طرف منسوب ہے جو شہر نیشاپور میں ایک محلہ کا نام ہے۔ ’’بدر عالم‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ 1۔ ابو الحسن ابراہیم بن حسن’’جواہر المفتیہ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن محمد بن اسحٰق شاشی: ابو علی کنیت تھی،شہر شاش میں جس کو اب تا شقند کہتے ہیں،پیدا ہوئے اور بغداد میں آکر امام ابی الحسن کرخی سے فقہ پرھی اور ایسے عالم فاضل تھے کہ امام کرخی آپ کے حق میں فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے پاس ابو علی سے کوئی زیادہ حافظ نہیں آیا اس لئے جب امام کرخی فالج کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے ابو بکر و مغانی کو تو فتویٰ دینے کا کام سپرد کیا اور آپ کو تدریس کی خامت پر مامور کیا۔قاضی ابو محمد نعمان کہتے ہیں کہ میں آپ کی مجلس املاء میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ابو جعفر ہندوانی آئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے،پھر انہوں نے مسائل اصولیہ میں امتحان لینا شروع کیا مگر وہ اچھی طرح بیان نہ کر سکے اور آپ سے کہا کہ میں آپ کی زیارت کرنے آیا ہوں،کچھ بھث کے لئے نہیں آیا لیکن دل میں ابو بکر کو بڑی غیرت آئی جس کا نتیجہ یہ ہا۔۔۔
مزید