بن عدی بن جشم بن مجدعہ بن حارثہ انصاری۔برأ بن عازب کے چچاہیں۔واقدی کا بیان ہے کہ یہ قیس ابن محرث ہیں اورانھوں نے بیان کیاہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جو مسلمانوں میں سے غزوۂ احد میں ہزیمت کے بعدایک گروہ انصارکے شہید ہوئے ان لوگوں کو مشرکوں نے گھیرلیاتھا ایک بھی ان میں سے نہ بچ سکا یہ قیس کافروں س لڑے اوران میں سے کئی آدمیوں کامارایہ تلوار سے لڑرہے تھے اورکافروں نے اپنے نیزوں پران کولیاان کے جسم پر چودہ زخم نیزوں کے تھےجن میں سے دس جوف تک پہنچ گئے تھے۔ابن سعد نے کہاہے کہ عبداللہ بن محمد ابن عمارہ نے بیان کیاہے کہ یہ واقعہ قیس بن حارث بن عدی کا نہیں سمجھتابلکہ واقدی نے اس واقعہ کو قیس بن محرث کے نام میں بیان کیاہےاورشاید قیس بن محرث کوئی اورصحابی ہیں۔قیس بن حارث توجنگ یمامہ میں شہید ہوئےتھے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
اسدی۔اوربعض لوگ ابن حارث بن قیس بن عمیرہ کہتےہیں۔ ان سے حمیضہ بن شمروائل اورعائذبن نصیب نے روایت کی ہے اورقیس بن ربیع نے کہاہےکہ وہ میرے داداتھے اہل عرب ان سے اپنے معاملات کافیصلہ کراتے تھے۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند کے ساتھ ابن ابی عاصم سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھےہم سے ابوبکربن ابی شیبہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے بکربن عبدالرحمن نے عیسیٰ بن مختارسے انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انھوں نے حمیضہ سے انھوں نے قیس بن حارث سے روایت کی ہے وہ کہتےتھے جب میں اسلام لایاتومیری آٹھ بیبیاں تھیں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیاکہ ان میں سے چاررکھ لو۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔تمیمی۔ابن اسحاق نے ان کاتذکرہ بنی سلیم کے وفد میں کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن کشف بن وائلہ بن عمروبن عامربن حصن بن خرشہ بن حیہ طائی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضر ہوئےتھےیہ ابن کلبی کاقول ہے جس کو ابن دباغ نے نقل کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ان کے والد کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگ عامرکہتےہیں اوربعض لوگ زید اوربعض لوگ قیس بن زید بیان کرتےہیں۔شام میں رہتےتھے ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ان کے بیٹے ناتل شام میں قبیلۂ جذام کے سردارتھے۔ہمیں عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سےمیرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سےزید بن یحییٰ بن عبیددمشقی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے ابن ثوبان نے اپنےوالد مکحول سے انھوں نے کثیربن مرہ سے انھوں نے قیس جذامی سے جوصحابی تھے روایت کرکے بیان کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےتھےشہیدکواللہ کے ہاں چھ فضیلتیں ملتی ہیں جیسے ہی اس کاخون گرتاہے اس کے تمام گناہ معاف کردیے جاے ہیں۱؎ اوراس کو جنت میں اس کامقام دکھایاجاتاہے اور حورعین کے ساتھ اس کا نکاح کردیاجاتاہےاورقیامت کی دہشت اورعذاب قبر سے اسےبیخوف کردیاجاتاہےاورزیورایمان سے اس کو سجادیاجاتاہ۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن عبدرضا بن مالک بن امان بن عمروبن ربیعہ بن جرول بن ثعل بن عمروبن غوث بن طی طائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئےتھے طرماح شاعر کے داداتھےطرماح کا نسب اس طرح ہے طرماح بن حکیم بن نفری بن قیس بن حجدر۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
کنیت ین کی تھی۔ضحاک کے بیٹے ہیں کہتےتھے کہ آیت ہمیں لوگوں کے حق میں نازل ہوئی تھی۱؎ولاتنابزوبالالقابان کی حدیث میں اضطراب بہت ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ ۱؎ ترجمہ۔کسی کو برے لقب سے یاد نہ کرو۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن غنم بن دودان۔مہاجرین اولین میں سے ہیں ابوموسیٰ نے ان کا نسب ایساہی بیان کیاہے مگریہ غلط ہے ان کے نسب سے کچھ نام گرگئے ہیں کیونکہ غنم بن دودان بیٹے ہیں اسدبن خزیمہ بن غنم بن جابر کے اوراگر یہ کوئی اورشخص ہیں توچاہیے تھاکہ دونوں میں کچھ فرق بیان کیاجاتاتاکہ اشتباہ نہ رہتا واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔ان سے مغیرہ بن شبیل نے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوزردرنگ کالباس پہنے ہوئے دیکھاتھااورمیں نے دیکھاتھاکہ آپ (نمازمیں)بائیں جانب بھی سلام پھیراکرتے تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔اوربعض لوگ ان کو قیس بن بحر بن طریف بن سحمہ بن عبداللہ بن ہلال کہتےہیں۔اشجعی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں ان کے کچھ اشعار بھی ہیں جن کو جعفر نے ابن اسحاق سے مغازی میں نقل کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید