۔جعفرمستغفری نے ان کا تذکرہ لکھاہے اورکہاہے کہ صحابی ہیں مگران کی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن مہشم بن سعیدبن سہم۔یہ کلبی اورابن اسحاق کا قول ہےاورواقدی نے کہا ہے کہ یہ عمیربیٹے ہیں رباب بن حذافہ بن سعید بن سہم کے اورزبیرنے کہاہے کہ رباب بن مہشم کی اولاد سے عمیر بن رباب بن مہشم بن سعید بن سہم قریشی سہمی تھے۔سابقین اسلام میں سے تھےان لوگوں میں سے تھےجنھوں نے حبش اورمدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔عین االنمرمیں حضرت خالد بن ولید کے ہمراہ ابوبکر صدیق کی خلافت میں شہیدہوئےتھے۔ان کی کوئی اولاد نہ تھی اس کو جعفر نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے روایت کیاہے اوریونس اوربکائی اورسلمہ نے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح روایت کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن مہشم بن سعیدبن سہم۔یہ کلبی اورابن اسحاق کا قول ہےاورواقدی نے کہا ہے کہ یہ عمیربیٹے ہیں رباب بن حذافہ بن سعید بن سہم کے اورزبیرنے کہاہے کہ رباب بن مہشم کی اولاد سے عمیر بن رباب بن مہشم بن سعید بن سہم قریشی سہمی تھے۔سابقین اسلام میں سے تھےان لوگوں میں سے تھےجنھوں نے حبش اورمدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔عین االنمرمیں حضرت خالد بن ولید کے ہمراہ ابوبکر صدیق کی خلافت میں شہیدہوئےتھے۔ان کی کوئی اولاد نہ تھی اس کو جعفر نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے روایت کیاہے اوریونس اوربکائی اورسلمہ نے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح روایت کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اہل نجران سے ہیں یہ نجران کے لوگوں میں جو زمانہ ردت میں اسلام پر قائم رہےتھے ان کاتذکرہ ابوعلی نے ابوعمرپراستدراک کرنے کے لیے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن جموح بن یزید بن حرام بن کعب بن غنم بن سلمہ انصاری ۔سلمی۔بدرمیں شریک تھے یہ واقدی اورابن کلبی اورابن عمارہ کا قول ہے ۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
اوربعض لوگ ان کو خماشہ کہتے ہیں وہ بیٹے تھے جویبربن عبدبن عنان بن عامر بن خطمہ کے انصاری خطمی ہیں۔ابوجعفرخطمی محدث کے داداہیں ابوجعفرکانام عمیر بن یزیدبن عمیر تھا۔بیان کیا جاتاہے کہ یہ ان لوگوں میں تھے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی وہ کہتےتھے کہ اے میرے بیٹے بے وقوفوں کی ہم نشینی سے پرہیز کرو کیوں کہ ان کی ہم نشینی ایک مرض ہے جو شخص بے وقوف کی بات پر درگذرکرتاہے تووہ اپنی بیوقوفی پراصرارکرتاہےاورجوشخص بے وقوف سے دوستی کرتاہے وہ پشیمان ہوتاہےاورجو شخص کسی بے وقوف کی ادنی بات سے بیزارنہ ہوگاوہ بہت باتوں سے ضرورہوجائےگااورجب تم میں سے کو ئی شخص امربالمعروف یانہیں عن المنکرکا ارادہ کرے تواس کو چاہیے کہ پہلےہی سے اپنے کو تکلیف سہنے کے لیے آمادہ کرے اورثواب کایقین کرے اورجو شخص ثواب کا یقین رکھتاہے اس کو تکلیف محسوس نہیں ہوتی ان کا تذکرہ تینوں نے ۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن حارث بن حرام بن کعب۔جعفر نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ عمیر بن حارث بن حرام جو انصارکے قبیلۂ اوس سے تھے غزوہ بد ر میں شریک تھے اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ بیعت عقبہ اوراحدمیں بھی شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے اسی طرح لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن حارث بن حرام بن کعب۔جعفر نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ عمیر بن حارث بن حرام جو انصارکے قبیلۂ اوس سے تھے غزوہ بد ر میں شریک تھے اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ بیعت عقبہ اوراحدمیں بھی شریک تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے اسی طرح لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن حارث بن حرام بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمہ بن سعدانصاری خزرجی سلمی۔بدرمیں شریک تھےیہ موسیٰ بن عقبہ کا قول ہے ہمیں عبیداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند یونس بن بکیر تک پہنچاکرخبردی وہ ابن اسحاق سے ان لوگوں کے نام میں جو خاندان بنی سلمہ سے غزوہ بدرمیں شریک تھے عمیر بن حارث بن ثعلبہ کا نام بھی نقل کرتےہیں۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ابوعمرنے کہاہے کہ موسیٰ بن عقبہ کہتےتھےان کا نسب اس طرح ہے عمیر بن حارث بن لبدہ بن ثعلبہ بن حارث بن حرام بن کعب۔جعفرنے ان کا تذکرہ لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے کہ یہ عمیر بیعت عقبہ اورغزوہ بدرواحد میں شریک تھے اورابن کلبی نے کہاہے کہ لوگ ان کو مقرن کہاکرتےتھے وجہ اس کی یہ تھی کہ واقعہ بعاث میں یہ سب قیدیوں کویکجاکیاکرتے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ازدی۔کنیت ان کی ابوظبیان تھی۔ابن شاہین نے ان کاتذکرہ لکھاہے اورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ اسمعیل بن خالدازدی سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حفیرہ بن عبداللہ سے انھوں نے ابوظبیان یعنی عمیربن حارث ازدی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں اپنی قوم کے چند لوگوں کے ہمراہ جن میں حجربن مرقع یعنی ابوسبرہ اورمحنف اور عبداللہ فرزندان سلیم اورعبدشمس بن عفیف بن زہیربھی تھےجن کا نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ رکھااورجندب بن زبیراورجندب بن کعب اورحارث بن حارث اور زہیربن محشی اور حارث بن عامر بھی تھےان لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تحریرلکھدی تھی جس کا مضمون یہ تھاقبیلۂ غامرکے جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں ان کے حقوق وہی ہیں جواورمسلمانوں کے ہیں ان کا جان ومال حرام ہے نہ وہ اپنے گھرسے نکالے جائیں نہ ان سے خراج لیاجائے اورجس شخص کے پاس جو زمین ہے وہ۔۔۔
مزید